بجٹ میں زراعت کو نظرانداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، ساجد مہدی سلیم

بجٹ میں زراعت کو نظرانداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، ساجد مہدی سلیم

  

وہاڑی(بیورورپورٹ‘نامہ نگار)لیگی ممبر قومی اسمبلی سید ساجد مہدی سلیم شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ کا یہ پہلا بجٹ ہے جس میں زراعت کے متعلق ایک لفظ نہیں لکھا گیا ہمارے ملک کی بڑی آبادی شعبہ زراعت سے(بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

وابستہ ہے اور زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے حالیہ بجٹ میں زراعت کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے بالکل نظر انداز کر دینا سمجھ سے بالا تر ہے حکومت کی جانب سے زراعت کے ساتھ یہ سلوک ملکی معیشت کی تباہی کے سوا کچھ نہیں واضح ہو گیا ہے کہ یہ حکومت اس ملک کے 70 فیصد طبقہ کی تباہی چاہتی ہے ورنہ اس طرح اس شعبہ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں. ہم ایسے بجٹ کو مسترد کرتے ہیں جس میں کسانوں، کاشتکاروں کے لیے کچھ نہ ہو اور ان کا ذکر تک موجود نہ ہو. انہوں نے کہا کہ ملک کا امپورٹڈ وزیر خزانہ یہی کچھ کر سکتا تھا جو اس نے اس بجٹ کے ساتھ کیا بجٹ میں زراعت کے شعبے میں بہتری اور ریسرچ کے لیے بھی کوئی فنڈ نہ رکھنا قابل تشویش ہے۔

ساجد مہدی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -