سانحہ احمد پورشرقیہ کو 3سال بیت گئے، زخم آج بھی تازہ

سانحہ احمد پورشرقیہ کو 3سال بیت گئے، زخم آج بھی تازہ

  

اوچ شریف (نامہ نگار)تحصیل احمد پور شرقیہ کی تاریخ کے بدترین سانحے کو آج تین سال بیت گئے، عید سے پہلے برپا ہونے والی اس قیامت صغری میں 206 افراد جل کر کوئلہ بن گئے تھے، مرنے والوں کے لواحقین کے زخم آج بھی تازہ، تفصیلات کے مطابق آج سے تین سال پہلے مورخہ 25 جون 2017ء کو احمد پور شرقیہ کے نواحی موضع رمضان جوئیہ میں پل پکا کے قریب(بقیہ نمبر25صفحہ6پر)

قومی شاہراہ پر بدترین حادثہ وقوع پذیر ہوا اور عید الفطر سے پہلے ہی قیامت صغری برپا کر گیا۔صبح 6 بج کر 23 منٹ پر ٹائر پھٹنے کے باعث 50 ہزار لیٹر پیٹرول سے لبریز آئل ٹینکر الٹا تو خبر ہوتے ہی برتنوں، کنستروں، ڈبوں وغیرہ سے لیس مقامی لوگوں اور راہگیروں کی کثیر تعداد سڑک اور کھیتوں میں بہنے والا پیٹرول جمع کرنے آن پہنچی۔اسی دوران کسی زیاں کار شخص کی طرف سے سگریٹ سلگانے کے لئے ماچس کی تیلی کا استعمال خوفناک آگ بھڑکنے کا باعث بن گیا جس کے نتیجے میں موقع پر موجود 149 افراد جھلس کر ہی کوئلہ بن گئے۔ سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے جبکہ 75 سے زائد موٹر سائیکلیں، تین گاڑیاں اور ایک موٹر رکشہ بھی جل کو راکھ ہو گئے۔ بعد ازاں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 206 تک جا پہنچی۔تین سال گزرنے کے باوجود مرنے والوں کے لواحقین کے زخم آج بھی تازہ ہیں، چوہدری محمد حنیف انجم، علامہ سراج احمد سعیدی، نعیم احمد ناز، شمیم احمد، شاہین رسول، شکیل فضل اور دیگر افراد نے اخباری سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ احمد پور شرقیہ کے آئل ٹینکر حادثہ کے تناظر میں پاکستان میں شاہراہوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے اور اس طرح کے سنگین حالات کے لیے ریسکیو کے جدید انتظامات جن میں بڑی گاڑی کو لفٹ کرنے کے لیے کرین کے ساتھ مستعد اور تربیت یافتہ عملہ مامور کیا جائے اور اس طرح کے واقعات سے محفوظ رہنے کے لیے عوامی شعور بیدار کیا جائے۔

زخم تازہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -