جو اب ان سے مانگیں جنہوں نے ملک کو اس حال تک پہنچایا: عمران خان، یہ حکومت تباہی کی علامت ہے،خواجہ آصف، بلاو ل کا وزیراعظم کو مباحثے کا چیلنج دیدیا

جو اب ان سے مانگیں جنہوں نے ملک کو اس حال تک پہنچایا: عمران خان، یہ حکومت ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹڑنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار سنبھالا تو اکانومی کے برے حالات تھے۔ جو لوگ ملک کو برے حال میں چھوڑ کر گئے، جواب ان سے مانگا جائے۔وقمی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، گیس، بجلی اور دیگر معاہدے ہم نہیں ہم سے پہلے حکومتیں کرکے گئیں، ہمیں بڑے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا، یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس ملک کی سابقہ قیادت کی وجہ سے تھا، ہم مجبور ہو کر دنیا کے پاس پیسے مانگنے گئے، میں نے30 سال سے سب سے زیادہ فنڈ ریزنگ کی، کبھی اسپتالوں، یونیورسٹیز کے لئے پیسے مانگنے لیکن کبھی شرم نہیں آئی، جب ہم ملک کے لئے غیروں کے آگے گئے تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی، اس کے باوجود ملک کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے دنیا کے ملکوں میں پیسے مانگنے گئے تھے۔اب جواب ان سے مانگا جائے جنہوں نے ملک کو قرضوں مین ڈبو دیا اور اس حال تک پہنچایاوزیراعظم عمران خان کا نے کہا کہ کہ بھارت اور ایران سے ٹڈی دل آنے کا خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لئے اس اہم معاملے پر 31 جنوری سے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ اس کے خاتمے کیلئے پورا زور لگائیں گے، این ڈی ایم اے کو اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔کورونا وائرس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں نے خود ہی اس وبا کیخلاف اقدامات کیے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ لاک ڈاؤن سے مزدور طبقہ متاثر ہوگا۔ ہم نے لاک ڈاؤن کیساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچانا ہے۔ قوم سے کہتا ہوں کہ اس مشکل مرحلے میں ہمت نہیں ہارنی۔ان کا کہنا تھا کہ سخت لاک ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ سے بڑی تنقید کی گئی، اس حوالے سے بڑا پریشر تھا۔ میں نے پہلے دن سے کہا کہ ملکی حالات کو دیکھ کر فیصلے کریں گے لیکن بار بار کہا جا رہا ہے کہ حکومتی فیصلوں میں کنفیوڑن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اگر کسی حکومت میں کنفیوڑن نہیں تھی تو ہماری تھی۔ تیرہ مارچ سے لے کر اب تک ایک بیان بتا دیں جس میں تضاد ہو۔عمران خان نے کہا کہ انڈٰین حکومت کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا جا رہا تھا بھارت کی طرح لاک ڈاؤن کرو لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ وہاں سخت پابندیوں کی وجہ سے غریب کچلا گیا مگر اس کے باوجود کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن سے نقصان ہوا۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اتنے سخت اقدامات برداشت نہیں کر سکے۔ ہم نے اس کے مقابلے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا۔ ابھی تک اللہ کا کرم بڑا کرم ہے، تاہم اگلا فیز مشکل ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ عوام ایس او پیز پر عمل کریں کیونکہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ہسپتالوں پر پریشر بڑھے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی کی وجہ سے پاکستان میں چار ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ ہمارے پاس صرف دو راستے ایک احتیاط اور دوسرا بے احتیاطی کا ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں۔ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو اکانومی کے برے حالات تھے، 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، اس کے علاوہ درآمدات اور برآمدات میں بھی تضاد تھاجبکہ مہنگائی کا بھی مسئلہ تھا۔ اس کیساتھ کورونا کی وجہ سے بھی اسے فرق پڑا۔ عجیب لگا جب کہا گیا کہ اس معاملے میں حکومت کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ آج آئی ایم ایف نے بیان جاری کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کی اکانومی کو بارہ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ سو سال کے اندر یہ بڑا بحران آیا ہے۔اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضہ اس لیے مانگ رہے تھے کیونکہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔ یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا، یہ ملک کی بد قسمتی تھی کہ سابق حکومتوں کی وجہ سے قرضے مانگے۔ اپنے ملک کے ہسپتال بنانے کے لیے پیسے مانگتے ہوئے مجھے شرم نہیں آتی، مجھے شرم تب آئی جب دوسرے ملکوں سے قرضہ مانگا۔حکومت سنبھالی تو 1200 ارب کا سرکلر ڈیٹ تھا۔ سابق حکومتوں میں توانائی کے منصوبوں کے معاہدے ہوئے لیکن ہم پھنس گئے۔ اس بوجھ کے ساتھ مجھے پاکستان ملا تھا لیکن جواب مجھ سے مانگا جا رہا ہے، جو اس حال میں ملک کو چھوڑ کر گئے، ان سے جواب مانگا جائے۔مسلم لیگ(ن) رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے وزیر اعظم کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بھاشن اپنی جماعت کو دیں،ہاؤس کو ”ان پڑھ“ نہ سمجھیں،کرونا سے پہلے 5 لاکھ لوگ اور اب کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں،حکومتی وزیر خود کہتے ہیں کہ تبدیلی نہیں آئی،یہ حکومت تباہی کی علامت ہے،وزیر اعظم خود کورونا ہے جو اس ملک سے چمٹ گیا ہے، قوم پرنازل ہونیوالاعذاب ختم کرنا ہے تو موجودہ حکومت سے جان چھڑانا ہو گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر میں تاریخ پر جو لکچر دیا اس کی تصحیح ضروری ہے،مغلیہ دور کی تاریخ انہوں نے غلط بیان کی۔،ہاوس کو ان پڑھ نہ سمجھیں ان کو معلوم ہے بھاشن اپنی جماعت کودیں ہمیں معلوم ہے۔،وزیر اعظم نے اعداوشمار بتائے کیا وہ ان کو کنٹینر پر یاد نہیں تھے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی تقریر فرمائشی تقریر تھی، ان کا ایک دوست ہے بچپن کا اس کو انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور مجھ میں سے ایک ہی نا اہل ہوگا۔۔انہوں نے کہاکہ،ہم حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتے،یہ کرونا ہے زکام نہیں ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کے اپنے وزیر کہتے ہیں کہ تبدیلی نہیں آئی،یہ حکومت تباہی کی علامت ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ سیاست چھوٹے شہروں کے قصبوں میں ہوتی ہے جو وزیر عظم کے دو سالوں میں کی ہے، اپوزیشن یہ سب کچھ برداشت کرے گی،۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو سیکورٹی کونسل میں مسلمان ممالک نے ووٹ دیے۔ وزیر اعظم صاحب اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ دو سال میں اپوزیشن کے تعاون کرنے کی کوئی کنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ وزیر اعظم جب قوم سے وعدے کر رہے تھے تو ان کو اعداو شمار چیک کرنے چاہیے تھے،اگر اتنی بری صورت حال تھی تو وعدے نہ کرتے،وزیر اعظم نے آج بھی غلط اعداو شمار ایوان میں ہیش کیے۔،خدا کا واسطہ وزیر اعظم یہاں آکر تاریخ اور جغرافیہ کا لیکچر نہ دیا کریں۔خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کا سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب ہونا بڑی بات نہیں، بھارت نے 184 ووٹ لیئے جو بڑی بات ہے احسن اقبال نے کہا ہے کہ غلط فیصلوں سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی، دو سال سے جی ڈی پی گروتھ مسلسل نیچے، ایٹمی ممالک کے لوگ وینٹی لیٹرز نہ ہونے پر مر رہے ہیں، جس گھر کا سربراہ کہے ملک دیوالیہ ہوچکا اس کا ساتھ کون دیگا؟۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج چھوٹے سے چھوٹا کاروبار کرنے والا پیشیاں بھگت رہا ہے، احتساب کے ادارے کا مقصد صرف اپوزیشن کو ہراساں کرنا ہے، سی پیک بہترین تحفہ ہے جو صدیوں میں ایک بار ملتا ہے، نہیں معلوم معیشت بحالی کیلئے آنیوالی حکومت کو کتنا وقت لگے گا، ہم نے معیشت کو 5 سال میں سنبھالا، انہوں نے 2 سال میں فریکچر کر دیا۔احسن اقبال کا کہنا تھا ہمارے دور میں متعدد ممالک نے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی، بجٹ کا حجم دیکھ کر بتائیں، کس قسم کی معیشت ہے، ٹیکس ریونیو اور گروتھ ریٹ پر حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں، آپ موجودہ اخراجات کنٹرول نہیں کرسکتے، آپ ہر خالی جگہ قرض لے کر پوری کر رہے ہیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کو لیکچر دینے کا شوق ہے، وہ ٹی وی یا پارلیمنٹ میں جواب نہیں دیں گے، میں انھیں مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں، سب سے کم شرح نمو موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے۔ کورونا سے پہلے ہی نیگیٹو گروتھ میں تھی، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ آپ کورونا کے پیچھے چھپ رہے ہو،آپ واحد وزیراعظم ہیں جس نے نریندر مودی کی انتخابی مہم چلائی،لیکشن کے دنوں کہا مودی کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا، جس تیزی سے کورونا کی بیماری پھیل رہی ہے،۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہتے ہیں سب سے کامیاب پالیسی فارن پالیسی ہے۔ اگر بھارت کو برا کہا جا رہا ہے تو بھارت اقوام متحدہ کا غیر مستقل رکن کیسے بن گیا؟ آپ واحد وزیراعظم ہو جس نے نریندر مودی کی انتخابی مہم چلائی۔ الیکشن کے دنوں کہا مودی کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔کورونا وائرس کی صورتحال بارے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جس تیزی سے بیماری پھیل رہی ہے، اس بارے کارگل جنگ کی طرح کا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ ہماری ریاست اس وقت کارگل جنگ کو ماننے کو تیار نہیں تھی۔ اگر وزیراعظم جمہوری طریقے سے منتخب ہوتے تو عوام کی فکر کرتے۔ یہ منتخب نہیں سلیکٹڈ ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم وبا کے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ اگر آپ تیار ہیں تو ڈاکٹرز اور نرسز کیوں رو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ وزیراعظم کی انا کی وجہ سے ہوا۔ جتنے لوگ مریں گے، اتنا ہی معیشت کو نقصان ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ وبا کی پاکستان آمد کے پہلے دو ہفتوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے تھا۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے تیزی سے بیماری پھیل رہی ہے۔ دوسری طرف اس وقت صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور عوام سب سے زیادہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس پہلے دن سے کوئی پلان نہیں، اگر ہم ڈبلیو ایچ او کی ہدایت پر عمل کرتے تو ہمارا صحت کا نظام برداشت کر لیتا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 9دن جاری رہنے کے بعدمکمل کر لی گئی،اپوزیشن ارکان نے بجٹ کو زراعت،صنعت، مزدور اور تعلیم دشمن قرار دیا جبکہ حکومتی ارکان نے ایک بار پر 18ویں ترمیم پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ہماری ترجیحات ملک کا پسماندہ اور غربت میں پسا ہوا طبقہ ہے،پاکستان کی سالمیت سب سے اہم ہے، اٹھارہویں ترمیم میں کچھ اچھی چیزیں، لیکن این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آمرانہ رویہ اختیار کیا گیا،موجودہ نظام دیرپا نہیں، وفاق کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا،جس میں بجٹ پر عام بحث مسلسل نویں روز بھی جاری رہی۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ بجٹ 2020-21پر ایوان میں اب تک 50 گھنٹے 51 منٹ بحث ہو چکی ہے،بجٹ بحث کیلئے اتفاق رائے سے 40 گھنٹے مختص کیے گئے تھے،بجٹ بحث میں کل 180 ارکان نے حصہ لیا،گزشتہ روز بھی اجلاس رات گیارہ بجے تک چلایا گیا۔بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے عامر ڈوگرنے کہا کہ ہمیں من حیثالقوم اجتماعی توبہ کرنے کی ضرورت ہے،ہم کرونا وبا سے جلد چھٹکارا حاصل کریں گے،پوری دنیا جنگی کیفیت میں ہے،کرونا صورتحال میں یہ متوازن بجٹ ہے،کرونا پر حزب اختلاف نے سیاست اور پوائنٹ سکورنگ کی اس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی،سخت لاک ڈاون بھی ہوتا تو یہ تنقید کرتے،اللہ نے انہیں یہ نعمت نہیں بخشی کہ یہ تنقید کے سوا بھی کچھ کریں،تنقید سن کر ایسا لگ رہا تھا جیسے چالیس سال سے تحریک انصاف کی حکومت رہی ہے،جب حکومت ملی معیشت وینٹی لیٹر پر تھی،حکومت نے 73 فیصد بجٹ خسارہ کم کیا ہے،۔پارلیمانی سیکرٹری شندانہ گلزارخان نے کہا کہ کل کے پی میں ایک نوجوان کے ساتھ جو کیا گیا ہمیں اس پر افسوس ہے،جس طرح سے زرتاج گل پر ایک پی ٹی وی پروگرام کے حوالے سے تنقید کی گئی اور ایک خاتون رکن کی طرف سے گندگی اچھالی گئی قابل برداشت نہیں،وزیراعظم کی ذات پر جس طرح سے حملے کئے جارہے ہیں وہ کسی صورت برداشت نہیں،سپیکر کی صدارت میں بنی زرعی ترقی کی کمیٹی پر کچھ نہ کرنے کا الزام درست نہیں،بلوم برگکی رپورٹ2018 میں آئی تھی کہ پاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے،سینئر اپوزیشن اراکین کی طرف سے غلط بیانی اچھی بات نہیں،حکومت کی کوتاہیوں کی ضرور نشاندہی کریں لیکن جو اچھا کیا گیا اس کو بھی تسلیم کریں،کورونا بجٹ ہے، دنیا بھر میں وبا نے تباہی کی ہے، پرانے پاکستان کو ختم ہونا ہوگا اور نئے پاکستان کا خیرمقدم کرنا ہوگا،اپوزیشن میں شیڈوکابینہ جمہوریت کیلئے اہم ہے،ہم نے بجٹ اشرافیہ کے لئے نہیں بزنس مین

، دیہاڑی دار، کاشتکار کیلئے بنایا ہے،کورونا کی وجہ سے پاکستان کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے،ایک طرف اشرافیہ ہے دوسری طرف وبا ہے، اشرافیہ نے تو چھ چھ ماہ کا راشن اکٹھا کرلیا،احساس ایمرجنسی کیش پروگرام سے ہم نے لوگوں کو بھوک اور افلاس سے بچایا،آج کی اپوزیشن کا کام ملک کو تباہی کی طرف لے جانا تھا،پچھلی حکومت کے قرضوں کی واپسی کے لئے ہمیں قرضے لینا پڑے،انہوں نے دنیا کی مہنگی ترین بجلی بنائی، خطے میں سب سے مہنگی بجلی ہمارے ملک میں بن رہی ہے،افغانستان کے ساڑھے چھ ہزار کنٹینرز کراچی کھڑے ہیں جس سے افغان حکومت ناراض ہے،ہمارے وزیراعظم پر ان کے فتووں کا کوئی فائدہ نہیں ھم نیا پاکستان بنائیں گے۔مسلم لیگ (ن)کی بیگم طاہرہ بخاری نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو بجٹ میں مکمل نظرانداز کیا گیا،آج ترقیاتی کاموں میں اپوزیشن کو پوری طرح سے محروم رکھا گیا،حکومتی اراکین اپنے کام بیان کرنے کی بجائے اپوزیشن پر تنقید میں لگے ہیں،ملک کا بچہ بچہ پرانا پاکستان یاد کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے اقبال محمد خان نے کہا کہ پولیس جعلی مقابلوں میں ملوث ہے، قبائل میں ایک سکول ٹیچر کو جعلی مقابلے میں ماردیا گیا،ظلم ہوگا تو ہم ایوان میں بھی آواز اٹھائیں گے اور عوام احتجاج بھی کریں گے،سابقہ فاٹاکے لئے ایک بل پاس کیا گیا تھا جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،سابقہ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات ہونے چاہئیں اور میرٹ پر ترقیاتی کام ہونے چاہئیں۔پارلیمانی سیکرٹری ملائیکہ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے بجٹ پر کوئی تعمیری تجاویز نہیں دی گئیں،پاکستان کے عوام نے دوپارٹی سسٹم کو مسترد کرکے پی ٹی آئی کو منتخب کیا،عوامی نمائندے عوام کے پیسوں کے ضامن ہیں، ان کا احتساب ضروری ہے،عمران خان کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دیا،عمران خان کو ان کے وژن کی طرف سے ملک کا سربراہ منتخب کیا ہے،بلاول بھٹو صرف موروثی سیاست کی وجہ سے لیڈری کررہے ہیں،ہماری ترجیحات ملک کا پسماندہ اور غربت میں پسا ہوا طبقہ ہے،پاکستان کی سالمیت سب سے اہم ہے، اٹھارہویں ترمیم میں کچھ اچھی چیزیں ہیں لیکن این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آمرانہ رویہ اختیار کیا گیا،موجودہ نظام دیرپا نہیں، وفاق کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے،احساس پروگرام کا پچاس فیصد بجٹ خواتین کے لئے مختص ہے۔دریں اثناقومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے وزیر مواصلات مراد سعید کی جانب سے اپوزیشن ارکان پر حکومت سے این آراو مانگنے کے الزام کی تردید کردی، مسلم لیگ(ن)کے رکن ڈاکٹر عباد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبد القادر پٹیل نے کہا ہے کہ خورشید شاہ صاحب آپ کو پھل اور کھجور بھیجتے تھے، آپ کی مہربانی سے خورشید شاہ جیل میں ہیں،مراد سعید نے این آر او سے متعلق جھوٹ بولا، مراد سعید بتائے کس نے اور کب این آو او مانگا،خود مراد سعید این آر او کے تحت آیا ہے، مراد سعید چلتا پھرتا این آر او ہے، میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں آج بھی مراد سعید کے والد کو نہیں جانتا، یہ کہتا ہے کہ میں ان کے والد سے ملا ہوں، میرے خاندان کا کوئی بندہ مراد سعید کے دفتر گیا ہو تو استعفی دوں گا، یہ ثبوت دے کہ ہم نے کہاں اسٹے آرڈر لیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی خاتون رکن اسمبلی مائزہ حمید نے کہا کہ شہباز شریف کو آج قوم یاد کر رہی ہے جب وہ ڈینگی یا سیلاب کے دنوں میں اپنے لوگوں کے درمیان ہوتے تھے، جنوبی پنجاب میں بھی کورونا وائرس ہے مگر وہاں پر تو وزیراعلی اور وزیراعظم نظر نہیں آئے جبکہ سپیکر نے ڈاکٹر عباد کی جانب سے نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کی تضحیک نہ کرنے کی ہدایت کی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے رکن ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ کل مراد سعید نے این آر او سے متعلق جھوٹ بولا، خود مراد سعید این آر او کے تحت آیا ہے، مراد سعید چلتا پھرتا این آر او ہے، میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں آج بھی مراد سعید کے والد کو نہیں جانتا، یہ کہتا ہے کہ میں ان کے والد سے ملا ہوں، یہ ثبوت دے کہ ہم نے کہاں اسٹے آرڈر لیا ہے، اسپیکر نے عباد اللہ کو غیر پارلیمانی بات کرنے سے روک دیا، سپیکر اسد قیصر شدید غصے میں آگئے اور کہا کہ یہاں کسی کو بے ہودہ گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، اسپیکر کی جانب سے ڈاکٹر عباد اللہ کا مائک بند ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا، اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے، ارکان نے کہا کہ ڈاکٹر عباد اللہ کو جواب دینے کا موقعہ دیں، ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ میرے خاندان کا کوئی بندہ مراد سعید کے دفتر گیا ہو تو استعفی دوں گا، مراد سعید نے میری سیٹ پر آکر کہا کہ خدمت بتاو، میں نے کہا مجھے آپ کی کوئی خدمت نہیں چاہیئے میرے بھتیجے کو مراد سعید نے جیل میں ڈالا،این ایچ اے نے میرے بھتیجے سے غیر مشروط معافی مانگی، اس کا ثبوت عدالت میں موجود ہے،۔ عبد القادر پٹیل نے کہا کہ یہاں تقاریر سے ہٹ کر آغا رفیع اللہ نے سب ارکان کو اجرک اور ٹوپی کا تحفہ دیا، اگر کسی نے فروٹ بھیجا تو اس روایت کو غلط سمجھا گیا، کوئی تحفہ بھیجے تو ایوان میں کہا جائے میں واپس بھیج دیتا ہوں، چیزیں شائستگی سے باہر جاتی جا رہی ہیں،خورشید شاہ صاحب آپ کو پھل اور کھجور بھیجتے تھے، آپ کی مہربانی سے خورشید شاہ جیل میں ہیں، اگر کوئی قیادت کے ماں باپ تک جائے گا ہم اس سے دو ہاتھ آگے جائیں گے، سپیکر نے کہا کہ کوئی حکومت سے ہو یااپوزیشن ایسی بات نہیں کرنی چاہئیے جس سے اشتعال پھیلے، یہ آپ سب کی عزت ہے کھل کر تنقید کریں،تجاویز دیں، درخواست ہیں ایک دوسرے کی تضحیک نہ کریں۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن خیال زمان نے کہا کہ بڑے ڈیم نہیں بنا سکتے تو چھوٹے ڈیم بنانے چاہیے۔کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دینا چاہیے۔کسان ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہمیں مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے ملک کو لوٹا۔70 سال میں ملک ٹوٹا اور ملک کو قرض میں ڈبو دیا۔ہمیں تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی ہونی چاہیے۔مائزہ حمید نے کہا کہ بجٹ پر بحث کے لیے اجلاس میں اظہار خیال کیا جارہا ہے، اس بجٹ میں ہے کیا جس پر بحث کی جائے،ہمارے دور میں لوگ لوڈ شیڈنگ کو بھول گئے تھے، تبدیلی سرکار کی حکومت میں اب پھر لوڈ شیڈنگ نے سر اٹھانے لگی ہے، شہباز شریف کو آج قوم یاد کر رہی ہے جب وہ ڈینگی یا سیلاب کے دنوں میں اپنے لوگوں کے درمیان ہوتے تھے، جنوبی پنجاب میں بھی کورونا وائرس ہے مگر وہاں پر تو وزیراعلی اور وزیراعظم نظر نہیں آئے، آٹا چینی بحران پر کیا ہوا ہے حکومت تو رپورٹ رپورٹ کھیل رہی ہے، آپ تو کہتے ہیں کہ بلا تفریق احتساب کررہے ہیں اگر ایسا ہوتا بی آر ٹی پشاور پر حکم امتناعی نہ لیا جاتا، جب بھی اپوزیشن رکن آپ کی کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کو نیب کا نوٹس بھیج دیا جاتا ہے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے کہا ہے کہ زراعت کو ٹھیک کر لیں توآئی ایم ایف اور عالمی بینک کی ضرورت نہیں رہے گی،وقت آ گیا ہے کہ ہم زراعت پر توجہ دیں،سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین نے زرعی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،گزشتہ25،30سال میں ہم 45ارب ڈالر کپاس سے کما سکتے تھے،اب بھی کپاس کی پیدوار پاکستان کو معاشی بحران سے نکال سکتی ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا،بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے کہا کہ پاکستان بننے کے دوران زراعت کی جی ڈی پی 50 فیصد تھی،آج زراعت کی جی ڈی پی 19 فیصد ہے،وقت آ گیا ہے کہ ہم زراعت پر توجہ دیں،دنیا بھی زراعت کی طرف گئی ہے،ہم سے زراعت میں بہت سے ممالک آگے چلے گئے ہیں،پاکستان خوش قسمت ہے کہ یہاں چاول کی فصل اچھی ہے،تین ملین ٹن چاول ہماری ضرورت ہے،ہم مکئی میں پندرہ لاکھ ٹن سے 75 لاکھ ٹن تک گئے ہیں،کاٹن میں وائرس آیا تو اس نے بہت نقصان پہنچایا،ہماری کوشش ہے کاٹن کے لئے چین زرعی ٹیکنالوجی فراہم کرے،فوری طور پر چینی بیج نہیں لگایا جا سکتا،زراعت کو ٹھیک کر لیں تو کسی آئی ایم ایف یا دیگر اداروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔دریں اثناوفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ اور دیگر جے آئی ٹی رپورٹس دو چارروز میں جاری ہورہی ہیں جن میں صوبائی حکومت کا بہت کچھ سامنے آجائے گا،بلاول نے کہا طیارہ حادثہ رپورٹ نہیں مانتا،آپ کے ماننے یا ماننے سے فرق نہیں پڑتا،آپ جے آئی ٹی رپورٹ تو مان لو،میرے آنے پر 9جہاز تھے جو اب 11 ہیں،دو جہاز بھی لئے 4.7ارب روپے قرض بھی واپس کیا،کے پی ٹی نے 2.2ارب روپے ڈوبے ہوئے نکال کر خزانے میں جمع کرادیئے،2010 سے کے پی ٹی کا آڈٹ ہی نہیں ہوا تھا،اب ہر ہر ادارے آڈٹ کرارہے ہیں،پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریونیو پورٹ قاسم سے کمایا ،پورٹ قاسم نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 270جہاز لنگر انداز ہوئے،بھارت کا جواہر لال نہرو پورٹ بند پڑا ہے۔وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے۔وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ امریکہ میں چالیس ملین لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں،دنیا میں ہمارے وزیر اعظم کے کرونا وژن کی تعریف ہورہی ہے،کرونا میں ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو بارہ ہزار روپے دیئے گئے،کسی بھی ترقی پذیر ملک نے جتنی شرح سود کم کی ہے وہ پاکستان ہے،ٹڈی دل اور کرونا کے باوجود نو ماہ میں 17فیصد ٹیکس زیادہ اکٹھا کیا،ہمارے وزیر اعظم اور ان کے وزیر اعظم جب باہر جاتے رہے اخراجات کا تقابلی جائزہ لے لیں،میں خود لندن گیا ایک دن تقریر کرکے واپس آگیا،مجھے بتایا گیا پہلے وزراء آتے تھے ایک ایک، دودو ہفتے رہتے تھے،پاکستان اور بھارت کی کرونا میں معیشت کا موازنہ کرلیں،پاکستان کی معیشت 0.4فیصد جبکہ بھارت کی 0.45فیصد گری۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بحری امور کو بہتر بنانے کے لئے اپنا عوام سے رابطے کا نظام دیا،میرے آنے پر نو جہاز تھے جو اب گیارہ ہیں،دو جہاز بھی لئے 4.7ارب روپے قرض بھی واپس کیا،کے پی ٹی نے 2.2ارب روپے ڈوبے ہوئے نکال کر خزانے میں جمع کرادیئے،دوہزار دس سے کے پی ٹی کا آڈٹ ہی نہیں ہوا تھا،اب ہر ہر ادارے آڈٹ کرارہے ہیں،پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریونیو پورٹ قاسم سے کمایا ہے،پورٹ قاسم نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 270جہاز لنگر انداز ہوئے،بھارت کا جواہر لال نہرو پورٹ بند پڑا ہے۔

وقمی اسمبلی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹراین این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرانا ضروری ہے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے بات چیت کی جس میں انہوں نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے ماحول میں لوگوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ایس او پیز پر عمل کرانا لازمی ہے کیونکہ عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہر ملک میں ایس او پیز پر عمل درآمد رضاکاروں نے کرایا تاہم لوگ احتیاط کریں تو وبا سے بچا جا سکتاہیوزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع اپنے چیمبر میں بعض وفاقی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ سمیت اقلیتی اراکین کے وفد سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے جاری اجلاس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان، چیف وہیب عامر ڈوگر و دیگر نے وزیراعظم عمران خان کو بجٹ اجلاس اور پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ رواں ہفتے کے دوران ہی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرلیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایات دی ہیں کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے تمام اراکین کی بجٹ کی منظوری کے دوران ایوان میں حاضری یقینی بنائی جائے وہ خود بھی چیمبر میں موجود رہیں گے اور جب ووٹنگ ہوگی تو اس میں بھی حصہ لینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکل وقت میں ایک بہترین بجٹ دیا ہے اس میں وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے غریب آدمی پر فوکس کیاگیا ہے اور سماجی شعبے پر زیادہ فنڈز خرچ کئے جائینگے۔ اقلیتی ارکان کے ایک وفد نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں شنیلا روتھ، جے پرکاش،لال چند ملہی شامل تھے وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور انہیں اپنی مذہبی عبادات و رسومات کی ادائیگی میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ ملاقات کے بعد شنیلا روتھ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم اسلام آباد میں ایک ایسی جگہ بنانے جارہے ہیں جہاں چرچ، مندر، مسجد سب عبادتگاہیں ہونگیں جبکہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے معاملے پر جلد بل لایا جائے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوہالہ ہائیڈرل پاور منصوبے سے1124 میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی جبکہ آزاد کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے بدقسمتی سے ماضی میں درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر بنانے کا جرم کیا گیا جس سے مہنگی بجلی اور ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔جمعرات کے روز کوہالہ ہائیڈرل پاور پروجیکٹ کے سہ فریقی معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری بہت بڑا قدم ہے۔پاکستان میں پانی سے بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے ہمیں بہت پہلے سرمایہ کاری کرنی چاہئے تھی۔پاکستان میں کسی بھی پروجیکٹ میں ڈھائی ارب ڈالر کی یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں درآمدی ایندھن والے بجلی گھر بنانے کا جرم کیا گیا ہے۔درآمدی ایندھن کے استعمال سے بجلی کی قیمتیں بھی پڑھیں۔کسی نے ماضی میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں دلچسپی نہیں لی جبکہ تیل سے بجلی بنانے کی وجہ سے ماحول پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔امید کرتا ہوں کہ کوہالہ ہائیڈل پاور منصوبہ جلد شروع ہوگا جس سے آزاد کشمیر میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔معروف تھری گا رجیز کمپنی کوہالہ ہائیڈل منصوبہ بنائے گی۔موجودہ حکومت درآمدی فیول کی بجائے کلین انرجی پر توجہ دے رہی ہے۔تعمیرات اور پن بجلی کے منصوبوں سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔کوہالہ ہائیڈل پاور منصوبے سے1124 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -