ہرممکن اقدامات کے باوجود کورونا کپڑوں اور جوتوں کے ذریعے گھر میں داخل ہو سکتا ہے: طبی ماہرین

ہرممکن اقدامات کے باوجود کورونا کپڑوں اور جوتوں کے ذریعے گھر میں داخل ہو ...

  

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے باوجود بھی یہ وائرس آپ کے گھر میں کپڑوں اور جوتوں کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اس وبائی بیماری کے دوران ہر فرد اس وائرس سے بچاؤ کے لیے بنیادی اقدامات کر رہا ہے جیسے کہ مارکیٹ یا دفتر جاتے ہوئے ماسک، گلوز کا استعمال اور سماجی فاصلے پر عمل کرنا، گھر پہنچ کر باہر سے لائی گئی اشیاء پر اسپرے کرنا انہیں دھونا اور پھر استعمال کرنا، مگر پھر بھی یہ وائرس آپ کے گھر میں آپ کے کپڑوں اور جوتوں کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہم ابھی بھی اس وائرس سے متعلق کچھ نہیں جانتے اور اس وبا پر تاحال تحقیق جاری ہے اور ہر آنے والے دن میں ہم کچھ نیا جان رہے ہیں۔امریکی طبی ماہر ڈاکٹر وینسیٹ ہسو کے مطابق کپڑوں اور جوتوں کے ذریعے اس وائرس کے پھیلنے یا ان کے ذریعے اس وائرس کے گھر میں آنے کے خدشات نہایت کم ہیں، ابھی تک کپڑوں کے ذریعے اس وائرس کے پھیلنے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کپڑے اس وائرس کے پھیلاو کا سبب نہیں بن سکتے۔ڈاکٹر وینسیٹ ہسو کے مطابق یہ وائرس انسانی جسم کے باہر کئی گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے، یہ وائرس پلاسٹک اور میٹل جیسی سخت سطح پر زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے جبکہ کپڑے ان دونوں سطحوں کے مقابلے میں نرم ہوتے ہیں۔ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس وبا کے دوران اس سے بچاؤ کے لیے باہر جانے کے لیے استعمال کیے ہوئے کپڑوں کو جلدی دھو لینا اور ان کی صفائی کرنا لازمی ہے، اور سب سے زیادہ ضروری اور اہم احتیاط ہاتھوں کو بار بار دھونا اور منہ کو نہ چھونا ہے۔ماہرین کے مطابق ان کپڑوں کو گھر میں استعمال ہونے والے عام صابن یا کسی بھی ڈیٹرجنٹ سے دھویا جا سکتا ہے کیوں کہ ہر ڈیٹرجنٹ اس وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اپنے کپڑے باہر کسی دکان سے دھلوانے کے بجائے گھر میں ہی دھوئیں۔باہر جاتے وقت استعمال ہونے والے جوتے سب سے زیادہ گندے ہوتے ہیں اور ان پر کئی طرح کے دیگر بیکٹیریاز بھی پائے جاتے ہیں۔سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن(سی ڈی سی)میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ جوتوں کے سول یعنی نچلی سطح پر یہ وائرس پایا جا سکتا ہے۔چین کے شہر ووہان میں طبی عملے کے جوتوں کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں کام کرنے والے آدھے طبی عملے کے جوتوں کو تلووں پر سارس وائرس کوو2 (SARS-CoV-2) پایا گیا تھا جو کہ وائرس کووڈ 19 کا سبب بنتا ہے جبکہ اس تحقیق سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا تھا کہ طبی عملے کے جوتے اس بیماری میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جوتوں سے اس وائرس کا پھیلاؤ ممکن ہے مگر ہم جوتوں کا استعمال ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہمیں کرنا چاہیے، ہم اپنے جوتوں کو گھروں، کمروں اور کچن کے اندر نہیں لاتے اور نہ ہی انہیں زیادہ ہاتھ لگاتے ہیں۔ماہرین نے بتایاکہ اس وبا کے دوران اپنے جوتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور انہیں گھر سے باہر ہی اتار دیں۔

مزید :

صفحہ اول -