پولیس میں کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورا ڈیپارٹمنٹ بدنام ہورہا ہے، جسٹس قیصرر شید

پولیس میں کالی بھیڑوں کی وجہ سے پورا ڈیپارٹمنٹ بدنام ہورہا ہے، جسٹس قیصرر ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے نوجوان پرتشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا اور سی سی پی او پشاور کو طلب کرلیا پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس قیصر رشید نے آئی جی پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب یہ ہوکیا رہا ہے، پولیس کس سمت جارہی ہے پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے اور دوسری طرف ایسے واقعات ہو رہے ہیں اس واقعے نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کررکھ دیا ہے لوگوں کو صدمے میں ڈال دیا ہے کالی بھیڑیوں کی وجہ سے پورا ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی ہوئی ہے آپ لوگوں نے ابنارمل لوگوں کو ایس ایچ او بنایا ہے ائی جی نے عدالت کو بتایا کہ کل افسوسناک واقعہ پیش آیا ایس ایچ او اور اہلکاروں کو معطل کیا ہے ایس ایس پی آپریشن کا رول تھا ان کو بھی رات کو ہٹادیا گیاہے عدالت نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے اور ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کی ہدایت کی جمعرات کے روز پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے پولیس کی جانب سے نوجوان پر تشدد اور برہنہ ویڈیو جاری کرنے کا نوٹس لیا تو عدالت نے ائی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنااللہ اور سی سی پی او پشاور کو طلب کیا پولیس حکام کچھ دیر بعد عدالت پہنچے تو جسٹس قیصر رشید اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جسٹس قیصر رشید نے آئی جی پی سے استفسار کیا کہ پولیس کس سمت جا رہی ہے کل کے واقعے نے معاشرے کی بنیادیں ہلا دیں اس واقعے نے لوگوں کو صدمے میں ڈال دیا ہے جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ پولیس کی تاریخ تو قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور دوسری جانب ایسے واقعات ہو رہے ہیں پولیس میں کالی بھیڑیوں کی وجہ سے پورا محکمہ بدنام ہوا ہے اپ لوگوں نے ابنارمل لوگوں کو ایس ایچ او بنایا ہے کیا ایس ایچ او بنانے سے پہلے ان کا ٹیسٹ کیا کریں کہ ان کا ذہنی توازن ٹھیک ہے یا نہیں کیونکہ ایس ایچ او کی بڑی زمہ داری ہوتی ہے ائی جی ڈاکٹر ثنااللہ نے عدالت کو بتایا کہ کل افسوسناک واقعہ پیش آیا ایس ایچ او اور اہلکاروں کو معطل کیا ہے ایس ایس پی آپریشن کا رول تھا ان کو بھی رات کو ہٹادیا ہے ایس ایس پی کا رول تھا ایسا نہ ہو کہ اپنی پیٹی بند بھائی کو کلین چٹ دیں جسٹس قیصر رشید نے ائی جی کو ہدایت دی کہ اس واقعے کی غیر جانبدارنہ تحقیقات کریں ا نکوائری کرے لیکن ایسا نہ ہو کہ انکوائری میں اپنے بندوں کو کلین چٹ دیں اس واقع میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کریں کسی کو مت چھوڑیں، جو بھی ملوث ہوں ان کو سخت سزا دیں امید ہے آپ اس واقعے کے کرداروں کو منطقی انجام پہنچائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -