گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو کٹھہ جھیل اورغیر قانونی تعمیرات کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو کٹھہ جھیل اورغیر قانونی تعمیرات کی رپورٹ پیش ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاو رہائیکورٹ نے ایبٹ آباد میں این او سی کے بغیر بنائی گئی سمندرکٹھہ جھیل اور غیرقانونی تعمیرات سے متعلق گلیات ڈویویلپمنٹ اتھارٹی کو فزیبیلیٹی رپورٹ اڑھائی ماہ میں تیارکرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے استفسار کیا کہ کس کی اجازت سے جھیل بنائی گئی کیا اس سے کسی قسم کے نقصان کاخدشہ تو نہیں اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کریں گے جسٹس قیصر رشید کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی توایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندرحیات شاہ،ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد اصغر خان کنڈی، ڈی جی گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی رضا علی حبیب،انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی ودیگرمتعلقہ اداروں کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے جسٹس قیصر رشید نے استفسار کیا کہ کس کی اجازت سے (لیک)جھیل بنائی گئی ہے؟عدالت کو بتایا گیا کہ کسی بھی متعلقہ محکمے سے این اوسی نہیں لی گئی نہ اجازت لی گئی اور بغیراجازت 2017میں سمندر کٹھہ بنایا گیاعدالت کومزید بتایا گیا کہ جھیل میں 1.7ملین گیلن پانی جمع کیاجاتا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ اگر اس جھیل میں دراڑ پڑجائے تواسکا کون ذمہ دار ہوگا؟ جس پر بتایا گیا کہ بلڈنگ رولز کے تحت بغیر این اوسی اور ڈیزائننگ کسی کو بھی تعمیرات کی اجازت نہیں جبکہ جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات بھی کی گئی ہیں اسی طرح ہرنوئی کے مقام پر دریا میں تفریحی پارک بھی غیرقانونی طور پربنائی گئی ہے ڈی جی گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے عدالت سے فزیبلٹی رپورٹ پیش کرنے کیلئے وقت مانگا جسٹس قیصر رشید نے کہاکہ کسی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوانہوں نے ڈی جی کوہدایت کی کہ وہ خود دورہ کریں اورجائزہ لیں کہ یہ جھیل لوگوں کے مفاد میں ہے یا چند افراد ہی اس سے مستفیدہورہے ہیں ہم دیکھیں گے کہ بعد میں این اوسی دی جاسکتی ہے یانہیں فاضل بنچ نے ڈی جی گلیات سمیت تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو اڑھائی ماہ کے اندر سمندرکٹھہ اورغیرقانونی تعمیرات سے متعلق فزیبلٹی رپورٹ تیارکرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 16ستمبرتک ملتوی کردی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -