ترجمان ق لیگ صفدر باغی کا چیف جسٹس سے عامر تہکالی کے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ

ترجمان ق لیگ صفدر باغی کا چیف جسٹس سے عامر تہکالی کے واقعہ کا نوٹس لینے کا ...

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ ق صوبائی ترجمان خیبر پختونخوا صفدر خان باغی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عامر عرف عامر تہکالے کی پشاور پولیس افسران کو گالم گلوچ نشے کی حالات میں دینے کی وڈیو وائرل ہوئی تھی اور اسکے بعد تہکال پولیس اسٹیشن انچارج بمعہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ انہوں نے عامر عرف عامر تہکالے کو گرفتار کرکے جسمانی تشدد اور انکی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ سے اور سپریم کورٹ چیف جسٹس آف پاکستان سے اس افسوناک واقع پر از خود نوٹس لیا جائے۔تا کہ آئندہ کسی بھی شخص کی انسانی حقوق کی تزلیل نہ کی جاسکے پاکستان مسلم لیگ ق صوبائی ترجمان خیبرپختونخوا صفدر خان باغی کا ڈائیریکٹر جنرل لاء اینڈ ہیومن رائٹس آف پاکستان اور وزیراعظم عمران خان صاحب سے اس افسوناک واقع پر نوٹس لینے کے ساتھ فلفور ایکشن لینے کی اپیل کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ اگر بروقت صاف شفاف انکوئری اور پسے پشت چھپے ہوئے زمہ داران کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں نا لایا گیا تو خداناخواستہ یہ معاملہ مزید خطرناک حالات تک طول لے سکتا ہے جس سے غیر ملکی قوتوں کو تقویت اور پختونوں کے دلوں میں پولیس کے خلاف نفرت ڈالنے کا بیج بویا جا رہا ہے جو کہ اچھی بات نہیں خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور کی غیور پختون قوم سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ اشتعال انگیزی اور فتنوں سے بچ کر رہے یہ صوبہ خیبر پختونخوا یہ پشاور اور اسکی پولیس بمعہ عامر عرف عامر تہکالے ہمارے بھائی ہیں۔لیکن بیرونی و اندرونی ملک دشمن عناصر سے ہم سب نے ملکر اس وطن عزیز اور صوبے خیبر پختونخوا کو بچانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے قوانین اور قانون کے تحت صاف و شفاف میرٹ پر تحقیقات کی جائے اور اس واقع میں مرتکب پولیس افسر و اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شق نہیں کہ ماضی اور حال میں خیبر پختونخوا کی پولیس نے ماضی دھشتگردی میں بیش بہہ جانی قربانیاں وطن عزیز اور اس عظیم خیبر پختونخوا کی پاک مٹی کی حفاظت کے لئے ان بہادر دلیر پولیس آفیسرز اور اہلکاروں نے اپنی جانوں اور لہو کے نظرانے پیش کیا ہم انکی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔لیکن اس افسوناک واقع میں جو بھی پولیس افسر یا اہلکار ملوث پایا گیا تو اسکے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -