خیبر پختونخو ا ریونیوا تھارٹی کی جانب سے 17ارب کی محصولات وصول

خیبر پختونخو ا ریونیوا تھارٹی کی جانب سے 17ارب کی محصولات وصول

  

پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے رواں سال 17 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کیے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا سیٹیزن بجٹ رواں مالی سال 3 گنا زیادہ خرچ کیا۔ اپوزیشن بینچوں کی جانب سے مالی سال 2020-21 کے بجٹ کے حوالے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ریوینو میں شارٹ فال کیپرا کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ کورونا وبا کی وجہ سے وفاق سے ملنے والے محصولات اور خالص بجلی منافع کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کیپرا نے رواں مالی سال 2019-20 میں 17 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کیے ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ سال یہ 10 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کیے گئے تھے۔ یہ پورے ملک میں کسی بھی ریونیو اتھارٹی کی جانب سے سب سے ریونیو کولیکشن ہے۔ تیمور جھگڑا نے ایوان کو بتایا کہ اگر کیپرا کی کارکردگی اتنی اچھی نہ ہوتی اور اتنا ریونیو نہ اکٹھا کیا ہوتا تو کورونا وبا کا اقتصادی حالات پر بہت زیادہ منفی اثر پڑتا۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے سیٹیزن بجٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ فروری 2019 میں 3.2 ارب خرچ کیے گئے تھے تاہم رواں مالی سال کے اسی مہینے میں 8.8 ارب روپے خرچ کیے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ رواں سال اپریل کے بعد کورونا کی وجہ یہ ریلیزز متاثر ہوئیں ہیں تاہم بہت جلد اسے پہلے کی سطح پر لے آئیں گے اور ایوان کو گاہے بگاہے اس سے آگاہ بھی کرتے رہیں گے۔ پی ایف ایم ایکٹ کے حوالے سے سوال پر تیمور جھگڑا نے ایوان میں بتایا کہ وفاق اور دیگر صوبوں کے قوانین کو دیکھتے ہوئے پی ایف ایم ایکٹ کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے اور بہت خیبرپختونخوا پی ایف ایم ایکٹ لانے والا پہلا صوبہ ہوگا۔ تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ریونیو محکمہ معدنیات اور پیڈو کے ذریعے وفاق سے ملنے والے فنڈز ہیں۔ ہم نے محکمہ بلدیات کی جانب سے 200 مختلف خدمات پر عوام سے لی جانے والی فیسیں ختم کی ہیں۔ انہوں نے کہا خواتین اراکین اسمبلی کی جانب سے خواتین کی ترقی اور اپ لفٹ کے لیے لائے گئے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سیلم خان جھگڑا نے کہا ہے کہ کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح بڑھ کر 46 فیصد ہو گئی ہے۔ صوبے میں اب تک کورونا کو شکست دے کر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 11 ہزار سے زائد ہیں۔ گزشتہ روز 1712 کورونا مریض صحت یاب ہوئے جبکہ اس سے ایک دن پہلے 2516 افراد کو صحت یاب قرار دیا گیا۔ محکمہ صحت کورونا مریضوں کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائنز پر من وعن عمل درآمد کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں اب تک 23887 کورونا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایکٹیو مریضوں کی تعداد 11921 ہے۔ اب تک 869 افراد کورونا کی وجہ سے فوت ہو چکے ہیں جبکہ صحت یاب مریضوں کی تعداد 11097 ہے جو کہ 46 فیصد بنتی ہے۔ کورونا مریضوں کی صحت یابی کی شرح کے حساب سے خیبرپختونخوا اس وقت سندھ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے 2 پولی میریز چین ریکشن مشینیں محکمہ صحت کو دی گئی ہیں جو کہ کورونا ٹیسٹنگ کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں قائم ہونے والی نئی لیبارٹریوں کو دیں گے جس سے ہماری کورونا تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ تیمور جھگڑا نے بتایا کہ کوہاٹ اور تیمرگرہ میں دو نئی لیبارٹریاں قائم ہو چکی ہیں جو کہ جلد کام شروع کر دیں گی۔ وزیر صحت نے کہا کہ اس وقت صوبے میں یومیہ اوسطاً 3500 ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ کورونا تشخیصی ٹیسٹوں کی یومیہ تعداد بہت جلد 5 ہزار سے زائد ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا ٹیسٹوں کے لیے نجی شعبے کی لیبارٹریاں بھی محکمہ صحت کے ساتھ آن بورڈ ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -