آن لائن کلاسز کیخلاف احتجاج، درجنوں طلباءگرفتار لیکن پکڑنے والے پولیس افسر کو پھر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کیا سزا دیدی؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

آن لائن کلاسز کیخلاف احتجاج، درجنوں طلباءگرفتار لیکن پکڑنے والے پولیس افسر ...
آن لائن کلاسز کیخلاف احتجاج، درجنوں طلباءگرفتار لیکن پکڑنے والے پولیس افسر کو پھر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کیا سزا دیدی؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

  

کوئٹہ(ویب ڈیسک) آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے والے 66 طلبا کو گرفتار کرنے پر وزیراعلیٰ نے ایس پی سٹی کو عہدے سے برطرف کردیا۔بدھ کے روز ایچ ای سی کے آن لائن کلاسز کے اجراءکے فیصلے کےخلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے تین روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کے آخری روز بلوچستان اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی گئی تاہم پولیس نے ریلی کے شرکاءکو اسمبلی جانے سے روک کر انہیں حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق ریلی کے شرکا کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ طلبا کی گرفتاری کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس سمیت مختلف طلبا تنظیموں نے رات گئے تک بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔ اس موقع پر طلبا رہنماﺅں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ریلی کے طالب علموں کو زدوکوب کرتے ہوئے پابند سلاسل کیا گیا جو کہ قابل تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن کلاسز کے اجراءسے بلوچ اکثریتی علاقوں کے طالب علم متاثر ہورہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہزاروں طالب علم آن لائن کلاسز میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ رہنماﺅں نے اعلان کیا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

علاوہ ازیں مختلف طلبا تنظیموں، سو سائٹی کے رہنماﺅں نے سٹی تھانہ جاکر گرفتار طلبا و طالبات سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے گرفتاریوں کی مذمت کی۔ رات گئے بجلی گھر اور سٹی تھانوں میں موجود طلبا و طالبات کو رہا کردیا گیا تاہم اس دوران صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے سٹی تھانے میں موجود طلبا سے مذاکرات کیے اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے حکومت کی جانب سے طلباءکی گرفتاری کا حکم نہیں دیا گیا، پولیس اور طلبا کے مابین جھگڑے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں کیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو فوری طور پر طلبا کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ ایس پی سٹی کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے جب کہ طالبات سے بد سلوکی کرنے والی لیڈی کانسٹیبل کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -