پشاور میں نوجوان کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کا معاملہ، آئی جی کے پی کے نے بھی خاموشی توڑ دی

پشاور میں نوجوان کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کا معاملہ، آئی جی کے پی ...
پشاور میں نوجوان کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کا معاملہ، آئی جی کے پی کے نے بھی خاموشی توڑ دی

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور میں گزشتہ دنوں ایک نوجوان کو تھانے میں برہنہ کرکے اس پر تشدد کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے بعد لوگوں نے کے پی پولیس کا شدید تنقید کانشانہ بنایا تھا۔

اس معاملے کی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد اور نمایاں شخصیات  نے شدید مذمت کی تھی جس پر اب آئی جی کے پی کے ثنا اللہ عباسی نے بھی خاموشی توڑ دی ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق   آئی جی خیبرپختونخوا ثنا اللہ عباسی نے کہا ہے کہ  کےپی میں ڈیڑھ لاک پولیس اہلکار موجودہیں۔دو چار غیرذمےدارنکلےتوپوری فورس پرالزام عائد نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس مثالی ہے، ان اہلکاروں کو بھی مثالی سزا دیں گے۔

ان سے قبل  تہکال پولیس کی جانب سےنوجوان شہری عامرپرتشدداوراسکی برہنہ ویڈیو  سوشل میڈیاپروائرل ہونے کے معاملے پروزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ایس ایس پی آپریشن پشاور پولیس کو فوری طور پر عہدے سے ہٹاتے ہوئے پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ  آئی جی کے پی کے  کو وزیر اعلیٰ آفس طلب کر لیا  اور ان سے اس شرمناک واقعے کی مکمل تفصیلات معلوم کیں ۔آئی جی کے پی کے نے ملاقات میں واقعہ پر وزیراعلی کو بریفنگ دی ۔وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان آئی جی پی کو واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو فوری معطل اور گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئےواقعے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ متاثرہ شہری کو مکمل انصاف دیا جائے گا، واقعے میں جو بھی ملوث پایا گیا اسے سخت سزا دی جائے گی، کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کر نے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر کوئی مجرم بھی ہے تو اس کو سزا دینا عدالت کا کام ہے پولیس کا نہیں، زیادتی کے مرتکب اہلکاروں کو نشان عبرت بنائیں گے۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل تہکال میں پولیس نے ایک نوجوان کو پولیس سے متعلق نازیبا تبصرہ کرنے پر نہ صرف اسے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے پولیس سٹیشن میں برہنہ کرکے اس کی تذلیل بھی کی تھی جس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیاتھا۔ 

لوگوں کو برہم دیکھ کر اعلیٰ حکام نے ایس ایچ او سمیت 4افراد کو معطل کردیا تھا، تاہم عوام کا مطالبہ ہے کہ صرف معطلی کافی نہیں بلکہ ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -