جنس تبدیلی کے آپریشن کی اجازت دی جائے،نوجوان لڑکی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی،عدالت سے کیا ہدایت جاری ہوئیں؟ جانیے

جنس تبدیلی کے آپریشن کی اجازت دی جائے،نوجوان لڑکی پشاور ہائیکورٹ پہنچ ...
جنس تبدیلی کے آپریشن کی اجازت دی جائے،نوجوان لڑکی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی،عدالت سے کیا ہدایت جاری ہوئیں؟ جانیے

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جنس تبدیلی کے آپریشن کی اجازت دی جائے،نوجوان لڑکی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی جس پر عدالت نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ کو اس درخواست کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

بی بی سی کے مطابق درخواست گزار خاتون کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل نے بتا یا کہ عدالت میں خاتون کی جانب سے دائر کردہ پیٹشن میں استدعا کی گئی ہے کہ ’خاتون خود کو مرد سمجھتی ہے۔ ان کے اندر مردوں والی عادتیں موجود ہیں۔ وہ بچپن ہی سے لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی تھیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ درخواست گزار خاتون کی تقریباً تمام عادتیں لڑکوں جیسی ہیں، جس بنا پر درخواست گزار نے ڈاکٹر سے معائنہ کروا کے مشورہ طلب کیا ہے کہ وہ کس طرح اپنی جنس کو تبدیل کرسکتی ہیں۔‘

اس پر ڈاکٹر نے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ ایسا صرف جنس تبدیلی کے آپریشن سے ممکن ہے۔

محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق پیٹیشن میں استدعا کی گئی تھی کہ ترقی یافتہ ممالک میں جنس تبدیلی کے آپریشن بہت عام ہیں مگر پاکستان میں ڈاکٹروں نے یہ آپریشن بہت ہی محدود تعداد میں کیے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر نے درخواست گزار کو مشورہ دیا تھا کہ وہ عدالت سے اس آپریشن کی اجازت حاصل کرے۔

محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق درخواست گزار کی یہ صورتحال جینڈر ڈسفوریا کہلاتی ہے جس میں کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ جس جنس میں وہ زندگی گزار رہا/رہی ہے یہ اس کی نہیں ہے بلکہ ان کی جنس دوسری ہے اور ار کے باعث وہ شخص مختلف نفیساتی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا حل صرف جنس کی تبدیلی کا آپریشن ہی ہے۔

محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جنس تبدیلی آپریشن میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اس لیے نہ صرف جنس تبدیلی کی اجازت دی جائے بلکہ ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے مطابق شناختی کارڈ سمیت دیگر تمام کاغذات میں بھی تبدیلی کی اجازت دی جائے۔

درخواست پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس نعیم رشید نے سماعت کی۔

بی بی سی کے مطابق  پیٹشن پر عدالت نے حیات آباد میڈیکل کمپلکیس کی انتظامیہ کو ہدایات دی ہیں کہ وہ3 ماہ کے اندر عدالت میں   خاتون کی جنسی حالت کے بارے میں رپورٹ پیش کریں، کیا یہ ممکن ہے کہ خاتون کی جنس آپریشن کے ذریعے سے تبدیل کی جا سکتی ہے؟

درخواست گزار خاتون کا ممکنہ علاج کیا ہے؟،ممکنہ آپریشن کے حوالے سے خاتون کو لاحق خطرات اور اس کے بارے میں ماہرانہ رائے دی جائے اور بتایاجائےہسپتال کس طرح اس معاملے میں خاتون کی مدد کرسکتا ہے؟

محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق ہسپتال کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کے بعد عدالت اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

دوسری جانب ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر جنید کے مطابق میڈیکل سائنس میں جب کسی انسان کو اپنی جنس کے بارے میں شکوک پیدا ہوں یا اسے ایسا لگے کہ اس کی جنس وہ نہیں ہے جس میں وہ رہ رہا ہے بلکہ وہ مخالف جنس کا ہے تو اس بیماری کو جینڈر ڈسفوریا کہتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -