”بھارت میں شیڈول عالمی ایونٹس کیلئے ویزوں کی ضمانت دو“ پی سی بی کے مطالبے پر بی سی سی آئی بھڑک اٹھا، کھیل کی نفرت پر مبنی سیاست سے پھر آلودہ کر دیا

”بھارت میں شیڈول عالمی ایونٹس کیلئے ویزوں کی ضمانت دو“ پی سی بی کے مطالبے پر ...
”بھارت میں شیڈول عالمی ایونٹس کیلئے ویزوں کی ضمانت دو“ پی سی بی کے مطالبے پر بی سی سی آئی بھڑک اٹھا، کھیل کی نفرت پر مبنی سیاست سے پھر آلودہ کر دیا

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) عالمی ایونٹس کیلئے ویزوں کی ضمانت سے متعلق پاکستانی مطالبے پر بھڑک اٹھا ہے جس کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں موجود ایک شخص کے ایجنٹ کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ ہم نے بھارت میں 2021ءمیں شیڈول ٹی 20 ورلڈکپ اور 2023ءمیں شیڈول ون ڈے ورلڈکپ میں اپنے سکواڈز کی شرکت کیلئے ویزوں کی تحریری گارنٹی مانگی ہے، کہ ان ایونٹس میں شرکت کیلئے پاکستانی سکواڈز کے ویزوں اور کلیئرنس کے معاملے پر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

وسیم خان نے کہا کہ ماضی میں بھارت میں ہونے والے مختلف سپورٹس ایونٹس میں شرکت کیلئے ہمارے کھلاڑیوں کو ویزے ہی نہیں دئیے گئے تھے لیکن پاکستان کے اس جائز مطالبے پر ایک بھارتی کرکٹ بورڈ ایک مرتبہ پھر بھڑک اٹھا ہے اور کھیل کو اپنی نفرت انگیز سیاست کیساتھ داغدار کر دیا ہے۔

بی سی سی آئی کے ایک آفیشل نے وسیم خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی نے لازمی قرار دیا ہے کہ کوئی بھی حکومت کھیل کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور یہی معاملہ کرکٹ بورڈز پر بھی ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے کاموں میں دخل اندازی نہ کرے، پی سی بی اس حقیقت کو سمجھے اور آئی سی سی میں موجود ایک شخص کے ایجنٹ کا کردار ادا نہ کرے جوبھارتی مفادات کے خلاف کام کررہا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بی سی سی آئی آفیشل نے آئی سی سی میں بھارتی مفادات کے خلاف کام کرنے والے جس شخص کا ذکر کیا وہ کوئی اور نہیں بھارت کے ہی ششانک منوہر ہیں جن کے بی سی سی آئی سے تعلقات خاصے کشیدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت ان کی مدت میں توسیع کی مخالفت کر کے نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔

مزید :

کھیل -