’انہوں نے مجھے دولت اور شہرت کا لالچ دے کر لوٹ لیا اور ایک مرد سے تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا‘ آن لائن گروپ کا حصہ بننے والے مرد کی افسوسناک کہانی

’انہوں نے مجھے دولت اور شہرت کا لالچ دے کر لوٹ لیا اور ایک مرد سے تعلقات قائم ...
’انہوں نے مجھے دولت اور شہرت کا لالچ دے کر لوٹ لیا اور ایک مرد سے تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا‘ آن لائن گروپ کا حصہ بننے والے مرد کی افسوسناک کہانی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کو دھوکے کی دنیا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جہاں آئے روز لوگوں کے لٹنے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اب ایک آن لائن گروپ کے ہتھے چڑھنے والے مرد نے اپنی ایسی افسوسناک کہانی بیان کر دی ہے کہ سن کر کوئی مرد بھی انٹرنیٹ پر کسی کا اعتبار نہ کرے۔ میل آن لائن کے مطابق میتھیو نامی اس شخص نے بتایا ہے کہ اسے سوشل میڈیا پر ایک فرقے کے بارے میں علم ہوا اور اس فرقے کے لوگوں نے دولت اور شہرت کا لالچ دے کر اسے بھی اس میں شامل کر لیا۔ اس فرقے کے لوگوں نے ایک چرچ بنا رکھا تھا جہاں میتھیو بھی چار سال تک جاتا رہا۔ بعد ازاں اس فرقے کا نام ’ڈے لائف آرمی‘ پڑ گیا۔

میتھیو کا کہنا تھا کہ ”اس فرقے کے لوگوں نے مجھے لالچ تو دولت اور شہرت کا دیا تھا لیکن بعد ازاں میری جائیداد اور جمع پونجی سب کچھ ہتھیا لیا اور مجھے ایک مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے بھی غلیظ حرکت انہوں نے میرے ساتھ یہ کی کہ انہوں نے فرقے کے سربراہ کی غلاظت مجھے پینے پر مجبور کر دیا۔“ میتھیو نے بتایا کہ ”فرقے میں شمولیت کے بعد سیاہ فام خاتون کواے میلونی اور ایک سفید فام مرد ویز ایل کارلسن کو میرا گرو بنایا گیا۔ مجھے کواے میلونی نے ہی ایک مرد کے ساتھ سونے کا حکم دیا تھا جس پر مجھے مجبوراً عمل کرنا پڑا۔ ویز ایل کارلسن نے مجھے مالٹے کے جوس میں فرقے کے سربراہ کی غلاظت ملا کر پلائی تھی۔ اس فرقے کے لوگوں کو روایتی نوکری کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ فرقے سے وابستہ لوگوں کو کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے والدین دوستوں اور خاندان کے لوگوں سے رقم مانگیں اور آن لائن چندہ اکٹھا کریں۔ جب ہم پر کٹھن وقت آتا تو ہم کئی کئی دن بھوکے سڑکوں پر سوتے تھے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -