قومی اسمبلی،آئندہ مالی سال کیلئے مختلف وزارتوں اورمحکموں کے 42کھرب 53ارب سے زائدکے مطالبات زر پیش

قومی اسمبلی،آئندہ مالی سال کیلئے مختلف وزارتوں اورمحکموں کے 42کھرب 53ارب سے ...
قومی اسمبلی،آئندہ مالی سال کیلئے مختلف وزارتوں اورمحکموں کے 42کھرب 53ارب سے زائدکے مطالبات زر پیش

  

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2020-21 کیلئے مختلف وزارتوں اورمحکموں کے مجموعی طور پر 42کھرب 53ارب 96کروڑ 90لاکھ روپے کے190مطالبات زرپرمنظوری کا عمل شروع کردیا گیا،ایوان نے کابینہ ڈویژن،وزارت دفاع ، وفاقی تعلیم،پٹرولیم، مواصلات،خارجہ امور،ہاوسنگ و تعمیرات،انسانی حقوق،اطلاعات ونشریات،وزارت منصوبہ بندی،نجکاری کمیشن سمیت دیگر وزاتوں کے مطالبات منظور کر لئے،مختلف وزارتوں اورمحکموں کے 96مطالبات زر پر ا پوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحاریک نہیں جمع کرائی گئیں تھیں جبکہ کابینہ ڈویژن،ریلوے اور وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے 63 مطالبات زر پراپوزیشن کی تمام کٹوتی کی تحاریک پر ووٹنگ کے بغیر ہی مسترد کر دی گئیں،مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے 31 مطالبات زر(کل)ہفتہ کو منظور کئے جائیں گے،اتوار کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا جبکہ فنانس بل 2020-21 پیر کو منظور کیا جائے گا،

ایم ایم اے نے کٹوتی کی تحاریک اکٹھی کرنے اور ان پرووٹنگ نہ کرانے پر اعتراض کیا اور اس کو حکومت اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان این آراو قرار دیا، جمیعت علما اسلام کے رکن مفتی عبدالشکور نے کہا کہ یہ این آر او ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) کے راہنما حسن اقبال نے کہا کہ وزیر اعظم تو اٹھارہ وزرا سے کابینہ چلانے کی باتیں کرتے تھے جو اب پاکستان کے گورباچوف بن چکے ہیں، وزرا کی فوج بھرتی کر رکھی ہے،یہ حکومت تضادات کا مجموعہ ہے، حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوئی،شوگر سکینڈل میں جب اپنے بندے پکڑے گئے تو پوری شوگر انڈسٹری پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس طرح گاؤں میں بڑے ڈاکو کو بچانے کے لیے پورے گاؤں میں پر ایف آئی کاٹی جاتی ہے تاکہ بڑے ڈاکو بچ سکے،پی آئی اے کے حوالے سے جوبیان دیا گیا مجھے ڈر ہے کہ کہیں ممالک پی آئی اے کے لینڈنگ رائٹس ختم نہ کر دیں۔

ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے وزیر ہوا بازی کے استعفی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کے بیان سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے، ان کی اپنی ڈگری پر سوالات ہیں،رپورٹ سے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا بڑا نقصان اور بدنامی ہے،سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں ریلوے کی تباہی ہوئی،ہمارے کاموں اور نام کو مٹانے کیلئے حکومت نے ریلوے کی ترقی سے جان چھڑوالی،ریلوے کے ریونیو میں ہر سال 7 ارب کا اضافہ ہوسکتا تھا جو موقع گنوادیا گیا،غلط پالیسیوں کے باعث رواں سال ریلوے خسارہ 49 ارب متوقع ہے،سیاسی مداخلت کے باعث ریلوے تباہ ہورہا ہے،شیخ صاحب کا نعرہ ہے نہ کچھ خریدوں گا نہ کچھ لگاؤں گا تاکہ کل کوئی جواب نہ دینا پڑے،یہ تباہی نہ روکی گئی تو ریلوے کباڑ اور خواب بن کر رہ جائے گا، اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی عاصمہ حدید اور نفیسہ شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، اجلاس میں پی پی پی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی آبدیدہ ہوگئیں اور کہا ان کے والدین کرونا کے باعث وینیٹی لیٹر پر ہیں اس کا ذمہ دار عمران خان ہے اگر انہیں کچھ ہواتو مقدمہ عمران خان پر درج کراؤں گی۔

جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا، جس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر نے ایوان میں مختلف وزاتوں اور ڈویژنزکے مطالبات زر پیش کئے،سپیکر نے حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے ان وزارتوں اورمحکموں کے 42کھرب 53ارب 96کروڑ 90لاکھ روپے کے190مطالبات زر پر منظوری کا عمل شروع کرایا،96مطالبات زر جنکی رقم 14کھرب 89ارب 48کروڑ بنتی ہے پر اپوزیشن نے کوئی کٹوتی کی تحریک نہیں دی تھی، ان کی پہلے مرحلے پر منظوری دی گئی، سپیکر نے ان مطالبات زر پر ووٹنگ کرائی، جس پر ایوان نے کثرت رائے سے ان مطالبات زر کی منظور دی، جن وزارتوں اور ڈویژنز کے مطالبات زر کی منظوری دی گئی ان میں وزارت پٹرولیم،وزارت بجلی،خارجہ امور،ہاوسنگ و تعمیرات، انسانی حقوق،اطلاعات ونشریات،انفارمیشن ٹیکنالوجی،بین الصوبائی رابطہ،امور کشمیر وگلگت بلتستان،قانون،انصاف،احتساب بیورو،میری ٹائم افیرز،انسداد منشیات،پارلیمانی امور،وزارت منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات،نجکاری کمیشن،وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آئنگی،سائنس وٹیکنالوجی،ریاستیں و سرحدی علاقہ جات،وزارت آبی وسائل،وزارت تجارت،موسمیاتی تبدیلی، دفاع، مواصلات،دفاعی پیداوار،اقتصادی امور ڈویڑن سمیت دیگر شامل ہیں۔ اس کے بعد کٹوتی کی تحاریک والے مطالبات زر کی منظوری کا عمل شروع ہوا۔

ایوان نے کٹوتی کی تحاریک والے 94مطالبات زر میں سے کابینہ ڈویڑن کے 34مطالبات زر،وفاقی تعلیم کے 9 مطالبات زر سمیت دیگر وزاتوں مطالبات زر کی منظوری دی، اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئیں کٹوتی کی تمام تحاریک حکومت نے مسترد کردیں، ایوان میں کٹوتی کی تحاریک پر ووٹنگ نہیں ہوئی، ایم ایم اے نے کٹوتی کی تحاریک اکٹھی کرنے اور ووٹنگ نہ ہونے کو این آراو قرار دیا، اجلاس میں جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود نے کٹوتی تحاریک اکٹھی کرنے اور ووٹنگ نہ کرنے پر اعتراض اٹھایا اور کہا ایم ایم اے کے ارکان بجٹ میں پورا حصہ لینا چاہتے ہیں۔ مفتی عبدالشکور نے کہا کہ یہ این آر او ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے،کٹوتی کی تحاریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے کابینہ ڈویڑن کو دی جانے والی رقم پر اعتراض اٹھایا اور کہا یہ وزیر اعظم تو اٹھارہ رکنی کابینہ سے ملک چلانے کی باتیں کرتا تھا جو اب ملک کے لئے گورباچوف بن چکا ہے حکومت نے جہاز اور شوگر انڈسٹری کے چند لوگوں کو سامنے رکھ پوری صنعت کو رسک پر ڈال دیا ہے،احسن اقبال نے کہاکہ وزیر اعظم تو اٹھارہ وزرا سے کابینہ چلانے کی باتیں کرتے تھے جو اب پاکستان کے گورباچوف بن چکے ہیں، وزرا کی فو ج بھرتی کر رکھی ہے۔کابینہ ڈویڑن کا تعلق صدر،وزیر اعظم اور کابینہ کے ساتھ۔یہ حکومت جب آئی تو نئے پاکستان کا خواب دکھایا گیا،کل وزہر اعظم نے پارلیمنٹ میں ریاست مدینہ کی بات کی،ہماری نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ بولنا ہے، ریاست مدینہ بنانے کے دعوے داروں نے کہا تھا چھوٹی کابینہ بناؤں گا،آج پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ ہے جس کا بوجھ عوام اٹھایا رہی ہے،کسی کابینہ کے لطیفے اتنے مشہور نہیں ہوئے جتنے اس کابینہ کے ارکان کے لطیفے مشہور ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ان کے بیانات میں تضاد نہیں،وزیراعظم نے کہا کہ قرضے نہیں لیں گے لیکن سب سے زیادہ قرضے لیے،کہا چھوٹی کابینہ ہو گی آج وزرا اور مشیروں کی فوج ظفر موج ہے،وزیر اعظم کی کون سی سی ایسی بات ہے جس میں تضاد نہیں،حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو ئی ہے،وزیراعظم صاحب آپ کی تقریر سے کسی کو روٹی نہیں ملے گی،صرف تقریروں سے ملک نہیں چل سکتے،اس حکومت نے تاریخ کے سب سے ذیادہ قرضے لیے،یہ حکومت تضادات کا مجموعہ ہے،ایم این ایز کو بجٹ جاری کیا گیا ہے،ایم این ایز کو جو بجٹ دیا جاتا ہے اس کے حوالے سے خان صاحب کہتے تھے کہ یہ رشوت ہے،انکی حکومت ایم این ایز کو ہمارے سے ذیادہ فنڈز دے رہی ہے،یہ حکومت بتا دے کو اس نے سیاحت کے لیے اگر کوئی پیسے رکھے ہوں، پاکستان کی بدحالی کی وجہ یہی ہے کہ جو دعوے کیے جاتے ہیں اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا، ان کا مقصد صرف وزیر اعظم بننا تھا وہ بن گئے اب ان کے پاس کوئی پلاننگ نہیں،کہا جاتا ہے کہ کپتان دیانتدار ہے لیکن ایڈوائزر اچھے نہیں ملے، میں کہتا ہوں کپتان خود نا اہل اور نالائق ہے،شوگر کو اندر جب اپنے بندے پکڑے گئے تو پوری شوگر انڈسٹری پر ایف آئی آر کاٹی گئی،گاوں میں بڑے ڈاکو کو بچانے کے لیے پورے گاوں میں پر ایف آئی کاٹی جاتی ہے تاکہ بڑے ڈاکو بچ سکے،پی آئی اے کے حوالے سے جو انہوں نے کہا اس پر آج بین  الاقوامی جریدوں میں اداریے چھپے ہیں،مجھے ڈر ہے کہ کہیں پی آئی اے کے لینڈنگ رائٹس ختم نا کر دیں، یہ اب کہتے ہیں کہ مجھے ٹیم اچھی نہیں ملی،اگر ٹیم اچھی نہیں ہے تو کپتان بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ ٹیم کپتان نے چنی ہے۔

محسن شاہ نواز رانجھا نے کہاکہ اس کابینہ میں مفادات کا تصادم ہے،ندیم بابر کی اپنی ائل کی کمپنی ہے جبکہ وہ مشیر پیٹرولیم ہیں،تمام مشیروں اور معاونین کی شہریت اور اثاثوں کی تفصیلات اس ایوان میں جمع کروائیں جائیں،کیا پاکستان کی عوام کو پتہ ہے کہ مشیر خزانہ کی شہریت اور اثاثہ کتنے ہیں،عمران خان کی 22سال کی محنت میں یہ معاونین اور مشیر کہاں پر تھے،یہ معاونین اور مشیر مالشیے ہیں،یہ اس حکومت کو مروائیں گے،مالشیے کہنے پر حکومتی اراکیننے احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہاں پر آزادی اظہار رائے ہمارا آئنی حق ہے، آپ مجھے حکومت کی پرفارمنس پر تنقید سے نہیں روک سکتے،یہاں وزیر ہوابازی نے کہا کہ آٹھ سو میں سے 290 پائلٹس کیلائسنس جعلی ہیں، یہ غلط ہے،نفیسہ شاہ نے وزیر ہوا بازی کے استعفی کا مطالبہ کردیا،وفاقی وزیر نے غلط بیانی کی، اس پر استعفی دیں یا یہاں ایوان میں آکر معافی مانگیں،پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے،وزیر ہوا بازی کے اپنے ڈگری پر سوالات ہیں، انہوں نے ایوان میں اس رپورٹ پر جو کہا اس سے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا بڑا نقصان اور بدنامی ہے، اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی عاصمہ حدید اور نفیسہ شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،سپیکر چپ کرانے کا بار بار کہتے رہے، ایک اریجمنٹ کے تحت بجٹ کارروائی چلانے پر اتفاق ہوا تھا، حکومتی بینچز کو بھی احترام کرنا چاہیے،پی آئی اے کے حادثے کی رپورٹ پر پائلٹس پر الزام تراشی کی،وفاقی وزیر ایوان میں آکر وضاحت کریں کہ انہیں کاک پٹ میں پائلٹس کی کرونا پر کی جانے والی گفتگو کیسے سنی، پی پی پی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی ایوان میں آبدیدہ ہوگئیں اور کہا ان کے والدین کرونا کے باعث وینیٹی لیٹر پر ہیں اس کا ذمہ دار عمران خان ہے اگر انہیں کچھ ہواتو مقدمہ عمران خان پر درج کراوں گا۔

کٹوتی کی تحاریک پر اپوزیشن کی رومینہ خورشید عالم، ناز بلوچ،مہناز اکبر عزیز سمیت دیگر ارکان نے بحث میں حصہ لیا جبکہ وزارت ریلوے سے متعلق کٹوتی کی تحاریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پچھلے چند برس میں جو ریلوے کی جو تباہی ہوئی، اس بارے میں ایوان کو آگاہ کرنا چاہتا ہے،ہمارے ریلوے کا سسٹم ڈیڑھ سوسال پرانا ہے، جس کو درست کرنے کیلئے 2 دہائیوں کی ضرورت ہے،2013 میں ہم نے 5 سال میں اس میں بہتری لائے، اور پہلا قدم عبور کیا،میں نے شیخ رشید صاحب کو اختلاف کے باوجود 2 سے 3 مرتبہ اس پر بہتری کے لیے رابطہ کیا تھا،منسٹر صاحب کی نااہلی کے باعث ریلوے دوبارہ خسارے میں جارہی ہے،ہم نے اپنے دور میں خسارے کو کم کیا اور منافع کی طرف لے کر آئے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں ریلوے کی تباہی ہوئی،2013 میں ریلوے کی وزارت ملی تو ادراہ تباہ ہوچکا تھا،ہم نے پانچ سال میں ریلوے کی بحالی کی بنیاد رکھی،ہمارے کاموں اور نام کو مٹانے کیلئے حکومت نے ریلوے کی ترقی سے جان چھڑوالی ہے،جب مجھے وزارت ریلوے ملی 30 ارب سے زائد سبسڈی تھی اور18 ارب کماتا تھا،ہم نے پانچ سال میں ریلوے میں 32 ارب کے ریونیو کا اضافہ کیا،ریلوے کے ریونیو میں ہر سال 7 ارب کا اضافہ ہوسکتا تھا جو موقع گنوادیا گیا،پی ٹی آئی حکومت میں پہلے سال ریلوے کا خسارہ 42 ارب روپے تھا،موجودہ وزیر ریلوے نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ریلوے کی بحالی کا سنہری موقع گنوا دیا،غلط پالیسیوں کے باعث رواں سال ریلوے خسارہ 49 ارب متوقع ہے،سیاسی مداخلت کے باعث ریلوے تباہ ہورہا ہے،میں بھی ریلوے میں 12 ہزار بھرتیاں کر سکتا تھا لیکن کم لوگوں سے ریلوے کو چلا کر دکھایا،شیخ رشید نے ایک جھٹکے میں 12 ہزار بھرتیاں شروع کر دیں جس سے خسارے میں اضافہ ہوگا،ریلوے سے ایماندار لوگوں کو ہٹا کر خوشامدیوں کو اوپر لایا گیا ہے،ریلوے لوکو موٹو کو دانستہ تباہ کردیا جس پر وزیراعظم نوٹس لیں،الیکٹرانک ٹکٹنگ کی سہولت ہمارا کارنامہ ہے،60فیصد ٹکٹنگ الیکٹرانک پر منتقل ہوگئی،این ٹی سی کو الیکٹرانک ٹکٹنگ کاٹھیکہ 75 لاکھ پر اس حکومت نے دیدیا،ٹریک مینٹیننس نہ ہونے کے باعث ریلوے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے،شیخ صاحب کا نعرہ ہے نہ کچھ خریدوں گا نہ کچھ لگاؤں گا تاکہ کل کوئی جواب نہ دینا پڑے،یہ حالات رہے تو ریلوے کو کوئی کوڑیوں کے بھاؤ بھی نہیں خریدنے پر تیار ہوگا،ریلوے کو چلانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ وقت کی ضرورت ہے،شیخ صاحب نے آتے ہی نئی ٹرینیں چلائیں جس کی کوئی ضرورت تک نہیں تھی،ریلوے کی زمینوں کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جس کا 99 فیصد کام ہم نے مکمل کر لیا تھا،350 ریلوے کے نئے کوارٹر بنائے، ہر سال اتنے کوارٹر بنانے کا منصوبہ تھا جس کو شیخ صاحب نے روک دیا،ریلوے کیرج فیکٹری،لوکو موٹو فیکٹری،مغلوپرہ ورکشاپ میں کوئی کام ہی نہیں ہورہا کیونکہ خام مال ہی نہیں خریدا جا رہا،ہم ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے انہوں نے آتے ہی چور ڈاکو کا نعرہ لگایا،میں بھی نیب کو بھگت چکا ہوں،گوادر میں ریلوے یارڈ کیلئے 250 ایکڑ زمین کی ادائیگی کر دی تھی،200 ایکڑ کی ادائیگی کرنی ہے جس کے پیسے حکومت جاری نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایم۔ایل ون پاکستان ریلوے کیلئے ایک تاریخی موقع ہے،پاکستان ریلوے کو ایم ایل ون پر فاسٹ ٹریک پر چلانا ایک مشکل کام ہوگا جس پر پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا،ایم ایل ون کا پی سی ون چینی حکام کو اعتماد میں لیے بغیر بنایا گیا ہے،ایم۔ایل ون منصوبہ تعطل کا شکار ہونے سے اس کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے،گزشتہ حکومت کے فوبیا سے باہر نہ نکلا گیا تو ٹھیک کام بھی الٹے ہوجائیں گے،ریلوے کے افسران نیب کی وجہ سے اعتماد کھو چکے ہیں،سال میں تین بار افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں،یہ تباہی نہ روکی گئی تو ریلوے کباڑ اور خواب بن کر رہ جائے گا،ہمارے ریلوے کی بحالی کے اقدامات کو آگے نہیں بڑھا سکتے تو ہماری محنت پر پانی مت پھیریں۔حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق کیا کہ اتوار کو فنانس بل منظور نہیں کیا جائے گا اور اس روز قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا،فنانس بل پیر کو منظور کیا جائے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -