مکئی کے ہائبرڈ بیجوں کی درآمد 

مکئی کے ہائبرڈ بیجوں کی درآمد 
مکئی کے ہائبرڈ بیجوں کی درآمد 

  

پاکستان اپنی ضروریات کا 85 فیصد مکئی کا ہائبرڈ بیج باہر سے درآمد کرتا ہے۔ گزشتہ سال (2020-2019)، 4لاکھ 40 ہزار من مکئی کا ہائبرڈ بیج درآمد کیا گیا جس پر ساڑھے 8ارب روپے سے زائد کا زر مبادلہ خرچ کرنا پڑا۔ زیادہ تر یہ بیج امریکہ، تھائی لینڈ، ترکی اور انڈیا سے درآمد کیا گیا۔

پاکستان میں مکئی پر ریسرچ کرنے کے لئے ساہیوال میں قائم تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی، جوار و باجرہ، ایک نمایاں اور قدیمی تحقیقی ادارہ ہے۔ اس ادارے نے 1940 میں مکئی پر تحقیق کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد اس ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں کو معطل کر دیا گیا۔ لیکن 7سال بعد 1954ء میں ادارے کی سرگرمیاں پھر سے بحال ہو گئیں۔ جب پاکستان میں مکئی پر ہونے والی تحقیق کو معطل کیا جا رہا تھا تب امریکہ میں 100فی صد رقبے پر ہائبرڈ مکئی کاشت ہو رہی تھی۔ بالآخر 1959ء میں، تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی کو ہائبرڈ بیج بنانیکا ٹاسک دیا گیا۔ 1966ء میں ہی اس ادارے نے مکئی کی ہائبرڈ ورائٹی بنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ 7 سال کے قلیل عرصے میں تیار کی جانے والے اس ورائٹی ڈبل کراس 59 کی پیداواری صلاحیت 76من فی ایکڑ تھی۔ ٹھیک  تین سال بعد 1969ء میں ادارے نے دوسری دھماکہ دار ہائبرڈ ورائٹی ڈبل کراس 697 متعارف کروا دی جس کی پیداواری صلاحیت 93من فی ایکڑ تھی۔ 1966ء سے لے کر آج تک یہ ادارہ 43 ورائٹیاں تیار کر چکا ہے، جس میں 21 ہائبرڈ ورائٹیاں شامل ہیں۔ اس ادارے کی تیار کردہ مکئی کی حالیہ ورائٹیوں کی پیداواری صلاحیت 140من فی ایکڑ تک ہے۔

تحقیقاتی ادارہ مکئی، جوار و باجرہ ساہیوال میں تیار کی گئی مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان میں 1966ء سے ہی مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کی جا رہی ہیں تو پھر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کون حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے کہ وہ یہاں اپنے ہائبرڈ بیج انتہائی مہنگے داموں کاشتکاروں کو فروخت کریں؟

پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کاروبار کرنے کے لئے لائسنس دینے کا آغاز 1980ء کی دہائی سے ہوا۔ ان کمپنیوں کو یہاں آنے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ ہمارے پاس ہائبرڈ بیج کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ اس کی وجوہات کچھ اور ہوں گی جنہیں بہرحال تلاش کیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں سب سے پہلی کمپنی، مانسینٹو تھی جسے 1984ء میں بیج کا کاروبار کرنے کا لائسنس دیا گیا۔ جب مانسینٹو پاکستان میں فخریہ طور پر ہائبرڈ بیج متعارف کروا رہی تھی تب تک ساہیوال میں قائم تحقیقاتی ادارہ، مکئی کی تین کامیاب ہائبرڈ ورائٹیاں تیار چکا تھا۔ پائنئیر سیڈ (1989)، سنجنٹا (1991)اور آئی سی آئی(1998) کا پاکستان میں آنا تو بہت بعد کی باتیں ہیں۔

جب تحقیقاتی ادارہ برائے مکئی نے 60ء کی دہائی میں ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کر لیں تو اس کے بعد اگلا مرحلہ تجارتی پیمانے پر ہائبرڈ بیج کی تیاری کا تھا۔ اس کام کے لئے ضروری تھا کہ ہائبرڈ سیڈ پروڈکشن کے لئے کوئی ادارہ بنایا جاتا۔ یا پھرپہلے سے موجود کسی سرکاری ادارے کی استعداد و صلاحیت میں اضافہ کر کے اسے ہائبرڈ سیڈ کی پروڈکش کے لئے تیار کیا جاتا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔ الٹا حکومت نے تھوڑا بہت بیج پیدا کرنے والے ویسٹ پاکستان ایگری کلچرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن جیسے سرکاری ادارے کو 1972ء میں یہ فرما کر بند کر دیا کہ یہ ادارہ کام نہیں کرتا۔سرکاری ادارے کو بند کرنے کے چند ماہ بعد حکومت نے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ادارہ براہ خوراک و زراعت سے بیج کا مسئلہ حل کرنے کے لئے رہنمائی کی دوخواست کی۔ ان دونوں عالمی اداروں نے بیج کی پیداوار نجی شعبے کے سپرد کرنے کی بھر پور وکالت کی۔

1976 ء میں حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک سے 56ملین ڈالر کی مالی امداد و تکنیکی معاونت قبول کر کے ان کی ہدایات پر عملدرآمد شروع کر دیا جس سے بیج کی پیداوار سرکاری ہاتھوں سے نکل کر نجی ہاتھوں میں جانے کا عمل تیز ہو گیا۔بہرحال ورلڈ بینک اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے بھی بہتری کا راستہ لیا جا سکتا تھا۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ ادارہ تحقیقاتِ مکئی میں تیار ہونے والی ہائبرڈ ورائٹیوں کے نر و مادہ پودے ملکی پرائیویٹ کمپنیوں کو دینے کی پالیسی متعارف کرواتی۔ ملکی کمپنیوں کو تجارتی پیمانے پر ہائبرڈ بیج تیار کرنے کی تربیت فراہم کی جاتی۔ اور یہ کمپنیاں مقامی سطح پر تیار شدہ ہائبرڈ بیج کاشتکاروں کو سستے داموں فروخت کرتیں۔ لیکن مقامِ افسوس کہ حکومت نے اس مقصد کے لئے کوئی پالیسی نہیں بنائی،بلکہ بعد میں تحقیقی ادارے کو تجارتی پیمانے پر بیج بنانے سے بھی روک دیا اور یہ پابندی آج تک برقرار ہے۔

اس طرح کے حالات میں وہی کچھ ہو سکتا تھا جو بعد میں ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔ حکومت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لائسنس جاری کر دئیے کہ وہ ہائبرڈ بیج تیار کر کے یا باہر سے درآمد کر کے کاشتکاروں کو فروخت کریں۔ آج یہ کمپنیاں 10سے 12ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے مکئی کا ہائبرڈ بیج فروخت کر رہی ہیں، جبکہ اس بیج کی پیداواری لاگت 2500سے3000روپے فی ایکڑ کے لگ بھگ پڑتی ہوگی۔

 پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 میں تحقیقی اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ورائٹیاں بولی کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ اس ایکٹ میں ترمیم کر کے بولی کے عمل کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ایکٹ میں یہ شق بھی شامل ہے کہ تحقیقی ادارہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہائبرڈ بیج کے نر و مادہ پودے فروخت نہیں کرے گا۔ یہ نہایت خوش آئند بات ہے۔اس سے ملکی کمپنیوں کو ہائبرڈ بیج بنانے کے شعبے میں قدم جمانے کا موقع ملے گا۔ بلکہ میری تجویز تو یہ ہو گی کہ کم از کم 5سال تک مقامی کمپنیوں کو ہائبرڈ بیج کی پیداوار کے لئے نر و مادہ پودے فروخت کرنے کی بجائے مفت تقسیم کئے جائیں۔ جب زیادہ سے زیادہ کمپنیاں ہائبرڈ بیج بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گی تو پھر بولی کا نظام متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مکئی کی ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کرنے کے حوالے سے پاکستان مکمل طور پر خود کفیل ہے۔ اس کامیابی پر ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں قائم مکئی پر تحقیق کرنے والے اداروں کو شاباش دینی چاہئے۔ تحقیق کے سکیل کو مزید بڑھانے کے لئے انہی اداروں کو افرادی قوت اور دیگر سہولیات مہیا کر دی جانی چاہئیں۔ لیکن یہ کام کرنے کے لئے کسی بہت بڑی ٹاسک فورس، تھنک ٹینک، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت یا ورلڈ بینک مشن کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے سب سے موزوں آدمی تحقیقی ادارے کا سربراہ اور اس میں کام کرنے والے زرعی سائنسدان ہیں۔ ان کی تجاویز کو قبول کیا جائے نشاندہی پر مناسب سہولتیں مہیا کر دی جائیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس سے ادارے کی کارکردگی میں زبردست انگڑائی پیدا ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -