یتیموں کی کفالت ،المرا فاونڈیشن اور صوفیہ وڑائچ

یتیموں کی کفالت ،المرا فاونڈیشن اور صوفیہ وڑائچ
یتیموں کی کفالت ،المرا فاونڈیشن اور صوفیہ وڑائچ

  

لفظ ”یتیم“ کتنا عجیب وغریب ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی دل میں احساس محبت جنم لیتا ہے۔ یتیم بچے یا بچی کے لیے ہمارے دل میں محبت اور پیار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے معاشرے کے پسے ہوئے‘ محروم لوگوں کو ہمیشہ اوپر اٹھایا ہے۔ ان کے مورال کو بلند کیا ہے۔ ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اللہ کے رسول ﷺکی ایک بہت پیاری حدیث ہے جس میں ارشاد فرمایا” مسلمان معاشرے میں سب سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور ا س کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔(الجامع الصغیر)

 اس سے زیادہ خوش قسمتی یا خیر کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ آپ کے گھر میں ایک یا ایک سے زیادہ یتیم ہوں اور آپ ان کی کفالت کر رہے ہوں۔وہ خواتین بڑی عظیم ہوتی ہیں جو اپنے بچے کے ساتھ ساتھ کسی یتیم بچے کو بھی بالکل اپنے سگے بچوں کی طرح پالتی ہیں ۔ایسی ہی ایک خاتون صوفیہ وڑائچ ہیں ۔ با ہمت اور درد دل رکھنے والی یہ خاتون میجر (ر) رشید وڑائچ مرحوم کی صاحبزادی اور ڈی آئی جی موٹروے محبوب اسلم کی اہلیہ ہیں۔میجر رشید وڑائچ سے ہماری پرانی یاد اللہ ہے ،وہ بھی فلاح انسانیت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ،بھوکوں کو کھانا کھلانا ،بیواوں کی داد رسی اور مجبور و مقہور افراد کی مدد ان کا من پسند مشغلہ تھا۔

1995 سے شہر لاہور میں چوبرجی کے مقام پر صبح سویرے مزدوروں اور غریب افراد کو ناشتہ کروا نے والے میجر رشید وڑائچ گلبرگ میں قائم فورسز اکیڈمی میں وسیع دستر خوان کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔یہ وہ دور تھا جب الیکٹرانک میڈیا کی چکا چوند کا دور دور تک نام نشان نہ تھا ،نمود و  نمائش سے بے غرض میجر رشید وڑائچ اکثر و بیشتر لاہور کے صحافیوں سے نشستیں رکھتے رہتے تھے ،دبنگ لہجے میں بات کرنے والے میجر رشید وڑائچ 2009میں انتقال کر گئے ،ان کی نرینہ اولاد نہیں تھی ،اکلوتی بیٹی صوفیہ وڑائچ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ،والد کی جانب سے خدمت کا جذبہ ان میں بدرجہ اتم موجود ہے ،والد کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل پولیس آفیسرمحبوب اسلم سے شادی ہوئی اور شادی کے فوری بعد شوہر کی پوسٹنگ کے پیش نظر شہر اقتدار اسلام آباد میں منتقل ہو گئیں ،صوفیہ وڑائچ کو اللہ نے دو خوبصورت بیٹیوں اور دوبیٹوں سے نواز رکھا ہے،درد دل رکھنے والے شفیق باپ کے انتقال کے بعد صوفیہ وڑائچ نے نہ صرف مفت دستر خوان کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ اس میں مزید وسعت پیدا کی ۔ساتھ ہی المرا فاونڈیشن کے نام سے روایتی طریقوں سے ہٹ کر یتیم بچوں کی کفالت کا بیڑہ اٹھایا ،نیت میں خلوص اور اپنے مالک حقیقی پر مکمل توکل اور اعتماد کرکے انسان جب بھی کسی اچھے کام کو شروع کرتا ہے تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اللہ تعالیٰ اسکی مدد کرتا ہے۔کیولری گراونڈ لاہور کینٹ جیسے پوش ایریا میں یتیم بچوں کی کفالت کے لئے صوفیہ وڑائچ نے ایک بڑا گھر کرایہ پر لے رکھا ہے جس میں ابتدائی طور پر چھے ننھے منے یتیم بچوں کی ایسے انداز میں کفالت کی جا رہی ہے کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے ۔یہاں ہاسٹل یا کسی فلاحی سینٹر کی بجائے یتیم بچوں کو بالکل گھر جیسا ماحول فراہم کیا گیا ہے ۔صوفیہ وڑائچ کئی گھنٹے خود ان بچوں کے ساتھ گذارتی ہیں اور بچے صوفیہ کے ساتھ اس درجہ مانوس ہیں کہ انہیں دیکھتے ہی ”ماما ،ماما “ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ان کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں ،صوفیہ وڑائچ بھی ان یتیم بچوں کی بلائیں لیتے نہیں تھکتیں ۔ یہاں بچوں کو بہترین بیڈ رومز ،پلے ایریاز اور کھانے پینے کی سہولیات میسر ہیں جبکہ بچوں کی تربیت کے لئے تعلیم یافتہ اور ٹرینڈ فی میل سٹاف رکھا گیا ہے ،بچوں کی تعلیم کے لئے بہترین سکول کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں ان یتیم بچوں کو دوسرے بچوں کی طرح انگلش کے ساتھ ساتھ چائینز زبان بھی سکھائی جاتی ہے ۔ المرا فاؤنڈیشن میں بچوں کو قرآن کریم سکھانے اور اسلامی تعلیمات دینے کے لئے قاری صاحب باقاعدگی کے ساتھ آتے ہیں جبکہ صوفیہ وڑائچ نے سٹاف کی بچوں کے ساتھ رویے کی مانیٹرنگ کے لئے جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگا رکھے ہیں جنہیں وہ اپنے موبائل پر کسی جگہ سے بھی دیکھ سکتی ہیں ۔گھر اور بچوں کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت سیکیورٹی سٹاف بھی موجود ہے۔

گذشتہ دنوں المرا فاونڈیشن میں صوفیہ وڑائچ سے ایک تفصیلی نشست ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ  والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے بچپن میں ہی یہ خواہش تھی کہ بہت زیادہ بہن بھائی ہونے چاہئیں جن سے مل کر میں خوب کھیلوں کودوں ،جب بڑی ہوئی تو ہمیشہ اپنے والد کو غریب لوگوں کی مدد کرتے دیکھا ،ان کے انتقال کے بعد میں دنگ رہ گئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بیوہ خواتین اور غریب افراد روتے دیکھے کہ میجر صاحب کیسے ان کی خاموشی کے ساتھ مدد کرتے تھے کہ ہم گھر والوں کو بھی اس کا علم نہ تھا ۔2005 میں جب پاکستان میں ہولناک زلزلے نے تباہی مچائی اور آزاد کشمیر میں ہزاروں یتیم بچے دیکھے تو دل میں یتیم بچوں کی کفالت کا جذبہ بیدار ہوا تاہم اس وقت میری اپنی دو بچیاں انتہائی چھوٹی تھیں جس کی وجہ سے میرے شوہر اور اہل خانہ نے میرے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بچے جب تھوڑے بڑے ہو جائیں تو پھر پوری دلجمعی کے ساتھ اس عظیم کاز کو پورا کر لینا۔صوفیہ وڑائچ نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ کیولری گراونڈ میں اپنی رہائش کے قریب ہی ایک گھر کرایہ پر لے کر روایتی طریقے سے ہٹ کر ”المرا فاونڈیشن کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ یہاں قیام پذیر یتیم بچوں کو بالکل اپنے بچوں کی طرح معاشرے کا کارآمد فرد بناکر ملک و قوم کی خدمت کی جا سکے ۔ یہ یتیم بچے بھی دیگر بچوں کی طرح نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کریں بلکہ بزنس ،پاک فوج اور سرکاری اداروں میں بہترین پوسٹنگ پر اپنی قابلیت کے نتیجے میں پہنچ سکیں اور ملک و قوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیں۔

صوفیہ وڑائچ کا کہنا تھا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا ،اس کے ساتھ مسکرا کر بات کرنا بڑی نیکی ہے، یتیموں کے حقوق کے حوالے سے اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں 23 مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، ان کے اموال کی حفاظت اور ان کی نگہداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ان پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں،ہمارے معاشرے میں ہمارے بہت سے بہن بھائی ہماری خدمت کے محتاج ہیں جہاں ہم اپنے لئے جیتے اور اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں، وہاں اگر ہم یتیم بچوں کا خیال بھی رکھیں تو دین ودنیا کی سعادتیں ہمارا مقدر بن جائیں۔ یتیموں اور بے سہارا طبقے کی مدد اور خدمت کرنا حکومت کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے، مخیر حضرات کے تعاون سے یہ یتیم نوجوان پڑھ لکھ کر ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صوفیہ وڑائچ کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرے میں فلاح و بہبود کا کام سب سے پہلے انسان کی اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے، معاشرے کی فلاح و بہبود کی ابتدا کے لئے بہت بڑا کام کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ وہ سڑک سے ایک پتھر کو ہٹا کر بھی شروع کیا جاسکتاہے،جب معاشرے کا ہر فرد اپنے اپنے حصے کا کام کرے گا تو پھر پاکستان بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گا،پاکستان میں فلاحی کام کرنے کے بہت مواقع ہیں، ہمیں متمول طبقے کو اس جانب لانا چاہیے ، پاکستا ن میں کئی نجی وفلاحی ہسپتال ایسے ہیں جو مفت علاج ومعالجہ کی سہولیات لاکھوں افراد کو فراہم کررہے ہیں، کئی ادراے ایسے ہیں جو مفت تعلیم وتربیت ہزاروں غریب بچوں کو مہیا کر رہے ہیں، کچھ فلاحی ادارے لوگوں کی بھوک مٹانے کے لئے کام کر رہے ہیں اور کچھ یتیم بچوں کی پرورش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،زمرد خان کے ’پاکستان سویٹ ہوم‘نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ، وہاں پر یتیم بچوں کی جس انداز میں کفالت ہو رہی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ایک دوسرے کے لئے خیر اور ہمدردی کا جذبہ رکھنا انسانیت کا اعلی درجہ ہے۔،بہترین سماج وہ ہے جس میں کمزور و حاجت مندوں کی دیکھ بھال کی جائے، معاشرہ وہی حسین و جمیل ہے جس میں ہر طبقہ کا خیال رکھا جائے۔ انسان جب کبھی کسی نیک اور اچھے کام کی ابتدا کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ نیت میں خلوص اور اپنے مالک حقیقی پر مکمل توکل اور اعتماد کرکے انسان جب بھی کسی اچھے کام کو شروع کرتا ہے تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اللہ تعالیٰ اسکی مدد کرتا ہے،ان یتیم بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں میرے شوہر محبوب اسلم اورمیری دونوں بیٹیاں بھی پوری طرح میرے ساتھ ہیں ۔

صوفیہ وڑائچ کا بنیادی مقصد یتیم کی کفالت ہے ان کی رہائش ، تعلیم اور دوسری ضروریات زندگی کا خیال رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یتیم بچے معاشرے میں اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر ایک باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں،"میں جب ان بچوں کو مسکراتا دیکھتی ہوں تو مجھ میں مزید انرجی پیدا ہو جاتی ہے۔المرا فاونڈیشن میں یتیم بچوں کو بہترین رہائش ، اچھا کھانا، اعلیٰ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور تفریح فراہم کی جارہی ہے اور معاشرے کے چیلنجز اور حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے بچوں کی کاونسلنگ بھی کی جاتی ہے ، اس سلسلہ میں باقاعدہ طور پر ایک خاتون سائیکٹرسٹ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو روزانہ تین سے چار گھنٹے ان بچوں کے ساتھ گذارتی ہیں ،میں ان بچوں کو مکمل طور پر گھر کا انوائرمنٹ دینا چاہتی تھی جس میں اللہ نے مجھے کامیابی عطا کی ہے،جلد ہی مزید 6بچے اور اس گھر میں آ جائیں گے جس کے بعد 12بچوں کے ساتھ میرا یہ پہلا پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا جس کے بعد شہر میں اسی طرز کے مزید ادارے بنائے جائیں گے۔"انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر مجھے اپنی فیملی ،خاندان اور دوستوں کے ذریعے اس ادارے کو چلانے کے لئے بڑی ہیلپ ملی ہے،دوستوں کے ذریعے جن لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ ہم ایک ایسا ادارہ چلا رہے ہیں جہاں یتیم بچوں کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے تو کئی لوگ اس ادارے کا وزٹ کرتے ہیں اور بچوں سے ملنے کے بعد اور یہاں ان کو دی جانے والی سہولیات دیکھنے کے بعد المرا فاونڈیشن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

صوفیہ وڑائچ سے ہونے والی اس تفصیلی ملاقات کے بعد جب میں وہاں سے روانہ ہوا تو ایک اطمینان سا تھا کہ ابھی ہمارے معاشرے میں بڑی جان باقی ہے،اس گئے گذرے دور میں بھی مخیر حضرات یتیم بچوں کی کفالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پاکستان میں مخیر حضرات کا فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا خوش آئند ہے، اپنی مدد آپ کے تحت فلاحی کام کرنے والے افرادمعاشرے کے عظیم لوگ ہیں، ایک دوسرے کا ہا تھ تھامنے کا جذبہ رکھنے والے افراد بلاشبہ درد مند اور نیک دل ہیں انسانیت کی بے لوث خدمت اور فلاحی کاموں کا صلہ بے شک اللہ کی ذات ہی دے سکتی ہے تاہم بطور ذمہ دار شہری ہر فرد کو ایسے افراد اور اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے جو اس عظیم کاز کو لے کر چل رہے ہیں۔قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ”بے شک وہ لوگ جو کھاتے ہیں یتیموں کے مال ظلم سے وہ تو بس کھا رہے ہیں اپنے پیٹوں میں آگ اوروہ عنقریب جھونکے جائیں گے بھڑکتی آگ میں “۔ آفرین ہے اس گھر پر جس میں یتیم پلتا ہو، یتیم کی حق رسی ہوتی ہو،اسے شفقت وپیار ملتا ہو اورہلاکت ہے اس گھر کیلئے جس گھر میں یتیم کی دادرسی اوراسکے حق کی پہچان نہیں ہوتی۔ بارگاہ رسالت ماب ﷺمیں ایک شخص حاضر خدمت ہواعرض کی یارسول اللہﷺ!میں ایک یتیم کی پرورش کرتا ہوں کس حدتک اسکی سرزنش کرسکتا ہوں؟حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جس حدتک اپنی اولاد کی سرزنش کرتے ہویعنی اسے ادب سکھانے کیلئے سرزنش کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اسی طرح جس طرح ایک والداپنے بچوں کی سرزنش کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -