مغرب میں انسانی حقوق کی بنیاد بننے والا معاہدہ میگنا کارٹا کیا ہے؟

مغرب میں انسانی حقوق کی بنیاد بننے والا معاہدہ میگنا کارٹا کیا ہے؟
مغرب میں انسانی حقوق کی بنیاد بننے والا معاہدہ میگنا کارٹا کیا ہے؟

  

آج کی دنیا میں انسانی حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، امریکہ اور یورپی ممالک تو خود کو انسانی حقوق کا چیمپین قرار دیتے ہیں اور مخالف ملکوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر ان پر پابندیاں بھی عائد کرتے رہتے ہیں، لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ مغربی دنیا میں انسانی حقوق نامی چیز کی ابتدا کب ہوئی؟ اس کی ابتدا برطانیہ سے سنہ 1215 میں اس وقت ہوئی  جب انگلستان کے بادشاہ نے اپنے اختیارات میں کمی کو قبول کیا اور ایک دستاویز تشکیل پائی جس کو میگنا کارٹا یا عظیم چارٹر کہا جاتا ہے۔ یہ چارٹر زیادہ عرصہ تو نہیں چل پایا لیکن کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا اور آج بھی اس کی گونج سنائی دیتی رہتی ہے، میگنا کارٹا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے انسانی حقوق کیلئے راہیں کھولیں اور مطلق العنان بادشاہی کے آگے بند باندھا ۔

میگنا کارٹا کی دستاویز پر 15 جون سنہ 1215 کو انگلینڈ کے کمزور بادشاہ جان آف انگلینڈ نے امرا کے ساتھ دستخط کیے، اس وقت امرا جنہیں بیرن کہا جاتا تھا، اور بادشاہ میں اختلافات شدت اختیار کرچکے تھے ، امرا بغاوت پر آمادہ تھے تبھی اس کشمکش اور بغاوت کو روکنے کیلئے آرچ بشپ آف کنٹر بری نے میگنا کارٹا ڈرافٹ کیا جس میں شاہی اختیارات کو تقسیم کردیا گیا۔ اگرچہ آج اسے انسانی حقوق کیلئے اہم دستاویز قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ درحقیقت بادشاہ اور عوام میں نہیں بلکہ بادشاہ اور اشرافیہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ تھا ۔ اس میں چرچ کے حقوق امراء کے حقوق، غیرقانونی طور پر حراست میں نہ لینے کا پیمان، فیوڈل کی حدود قائم کرنے کا وعدہ شامل تھا۔ بادشاہ اور اس کے باغیوں کے درمیان اس معاہدے کی پاسداری اور نگہبانی کے لئے پچیس امراء کی ایک کونسل نگرانی کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن دونوں فریقوں نے اس چارٹر پر عملدرآمد نہ کیا اس لئے اس وقت کے پوپ انوسنٹ سوم نے اس چارٹر کو منسوخ کردیا۔ اس کے بعد پہلی امراء کی بادشاہ کے ساتھ جنگ کا آغاز ہوگیا۔

 بادشاہ جان کے بعد اس کے کم عمر ولی عہد نے میگنا کارٹا کو دوبارہ اس کی اصلی حالت میں 1216میں بحال کرکے جاری کردیا لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔ پھر 1217میں باغیوں کے ساتھ جنگ کے بعد میگنا کارٹا کو امن کی دستاویز کے طور پر استعمال کیا گیا لیکن اس میں کچھ انقلابی حصے خارج کردیئے اس طرح میگنا کارٹا کی توڑ پھوڑ شروع ہوگئی۔ ہنری سوم نے اس کا نام صلاح کے طور پر میگنا کارٹا رکھا۔ ہنری سوم اور باغی امرا کے درمیان یہ ٹریٹی لیمبتھ کے مقام پر معرض وجود میں آئی۔ ہنری سوم نے یہ چارٹر پھر 1225میں جاری کیا۔ اس کے بعد نئے ٹیکس لگانے کے لئے ہنری سوم کے بیٹے ایڈورڈ نے اس شق کو ایک بار پھر 1288میں دہرایا اور اس دفعہ میگنا کارٹا کو انگلینڈ کے قوانین کا حصہ بنا دیا۔ پھر اس کے بعد ہر ایک نیا آنے والا بادشاہ اس کی تجدید کرتا رہا۔ البتہ جوں جوں وقت گزرتا گیا انگلینڈ کی نوزائیدہ پارلیمنٹ نے نئے قوانین بنانے شروع کردیئے اور اس چارٹر کی عملی حیثیت بہت کم ہوگئی۔ اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -