گریٹ ڈپریشن ، امریکہ پر بھوک مسلط ، 10 سال تک عوام ایک وقت کے کھانے کو ترستے رہے

گریٹ ڈپریشن ، امریکہ پر بھوک مسلط ، 10 سال تک عوام ایک وقت کے کھانے کو ترستے ...
گریٹ ڈپریشن ، امریکہ پر بھوک مسلط ، 10 سال تک عوام ایک وقت کے کھانے کو ترستے رہے

  

امریکہ آج دنیا کا سب سے بڑی معیشت رکھنے والا ملک ہے لیکن اس پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہوگیا تھا، اس بدحالی کو گریٹ ڈپریشن کے نام سے جانا جاتا ہے جو سنہ 1929 میں امریکی سٹاک مارکیٹ کے کریش سے شروع ہوا اور 10 سال تک جاری رہا، اس دوران امریکی عوام بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے اور دو وقت کی روٹی کو ترس گئے۔ 

29 اکتوبر سنہ 1929 کو امریکہ کی سٹاک مارکیٹ وال سٹریٹ کو اپنے سیاہ ترین دن سے گزرنا پڑا، اس دن کو بلیک ٹیوز ڈے یا بدترین منگل کہا جاتا ہے، اس روز سرمایہ کاروں نے ایک ہی دن میں نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً 16 ملین شیئرز کا کاروبار کیا، انہیں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ہزاروں سرمایہ کاروں کا صفایا ہو گیا، بدترین منگل کے نتیجے میں امریکہ اور باقی صنعتی دنیا  کی تنزلی شروع ہوئی اور دنیا گریٹ ڈپریشن کی طرف بڑھ گئی، جو اس وقت تک کی مغربی صنعتی دنیا کی تاریخ میں سب سے گہری اور طویل ترین معاشی بدحالی تھی۔

اس سے پہلے کہ ہم آپ کو بلیک ٹیوز ڈے کے بارے میں بتائیں پہلے یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ امریکی سٹاک مارکیٹ کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی ۔وال سٹریٹ میں واقع نیویارک اسٹاک ایکسچینج کی بنیاد سنہ  1817 میں رکھی گئی تھی لیکن سٹاک مارکیٹ اس سے پہلے ہی وجود میں آچکی تھی، اس کی ابتدا سنہ  1792 میں اس وقت  ہوئی جب اسٹاک بروکرز اور تاجروں کے ایک گروپ نے وال اسٹریٹ پر بٹن ووڈ کے درخت کے نیچے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔سنہ 1817 میں شروع ہونے والی نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں سنہ 1920کی دہائی کے دوران تیزی سے توسیع ہوئی جو اگست 1929 میں اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس وقت تک، پیداوار پہلے ہی کم ہو چکی تھی اور بے روزگاری بڑھ چکی تھی، جس سے اسٹاک اپنی حقیقی قیمت سے بہت زیادہ رہ گیا تھا۔ 1929 کے اسٹاک مارکیٹ کے کریش کی دیگر وجوہات میں کم اجرت، قرضوں کا پھیلاؤ، معاشی بدحالی کا شکار زرعی شعبہ اور بینکوں کے بڑے قرضوں کی زیادتی تھی جنہیں ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔

 اگست 1929 میں اپنے عروج کے بعد ستمبر اور اکتوبر 1929 کے اوائل میں اسٹاک کی قیمتیں گرنا شروع ہوئیں اور 18 اکتوبر کو گراوٹ انتہا  کو پہنچ گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا جس کے نتیجے میں 24 اکتوبر کو جمعرات کے روز ریکارڈ ایک کروڑ 28 لاکھ 94 ہزار 650 حصص کا کاروبار ہوا،  سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں اور سرکردہ بینکرز نے  صورتحال کو دیکھتے ہوئے جمعہ کے روز ایکشن لینے کا فیصلہ کیا، انہوں نے مارکیٹ میں اعتدال پیدا کرنے کیلئے اسٹاک کے زبردست بلاکس خرید کر مارکیٹ کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، پیر کو، طوفان ایک بار پھر ٹوٹا، اور  سٹاک مارکیٹ پھر بدترین مندی کا شکار ہوگئی۔ اس  کے بعد بلیک ٹیوز ڈے یعنی 29 اکتوبر سنہ  1929 کا دن  آگیا، اس روز سٹاک کی قیمتیں مکمل طور پر گر گئیں اور نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ایک ہی دن میں ایک کروڑ 64 لاکھ 10 ہزار تیس حصص کا کاروبار ہوا۔ سرماریہ کاروں کو  اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ہزاروں سرمایہ کاروں کا صفایا ہو گیا، بلیک ٹیوز ڈے کو اتنے زیادہ شیئرز کا لین دین ہوا کہ سٹاک مارکیٹ کی مشینری ہی جواب دے گئی اور وہ ٹریڈنگ کے حجم کو نہ سنبھال پائی اور کریش کر گئی۔ اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -