مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد حسین نعیمی ؒ

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد حسین نعیمی ؒ
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد حسین نعیمی ؒ

  



ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

گلشن ِ دنیا کو سنوارنے کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی مکرمﷺ تک رب العالمین نے ہر دور میں جہالت اور گمراہی کو ختم کرنے کے لئے انبیاءکرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا وہ اپنے مخصوص زمانے میں مخصوص جگہوں پر دعوتِ الی اللہ کے فرائض سر انجام دیتے رہے ، آخر یہ سلسلہ تاجدارِ انبیاءعلیہ الصلوٰة والسلام پر آ کر ختم ہو گیا۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کو کسی مخصوص جگہ یا قوم کے لئے نبی بنا کر نہیں بھیجا گیا،بلکہ پوری دنیا اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ ”سلسلہ نبوت“یعنی نبوت کا دروازہ آپ پر بند فرما دیا ۔ آپ کے بعد امت کی رہنمائی کی ذمہ داری آپ کی امت کے علماءکرام پر عائد فرما دی گئی کہ وہ امت ِ مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں۔ تبلیغ دین کا تاج ان کے سروں کی زینت بنا دیا۔ وقتاً فوقتاً رب العالمین نے اپنے پیارے محبوبﷺ کی امت میں سے ایسی ہستیاں پیدا فرمائیں جو امتِ مسلمہ کی صحیح معنوں میں رہنمائی کے فرائض سر انجام دیتی رہیں۔

ہر دور میں رب العالمین نے یزیدیت کے مقابلے میں حسینیت کے علمبردار پیدا فرمائے ،جنہوں نے اسلام کے عَلم کو صحیح معنوں میں بلند فرمایا۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو صحیح راہ کی پہچان کروائی۔ اپنے پیارے نبیﷺ سے کٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ زندہ کیا۔ عشق مصطفیﷺ کا درس دیا ، حب ِمصطفیﷺسے مسلمانوں کے قلوب و اذہان کو منور کیا۔ باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ پیارے نبیﷺ کے پیغام کو کوچہ کوچہ ، نگر نگر اورقریہ قریہ پہنچایا ۔ اتحاد بین المسلمین کا درس دیا۔ معاشرے میں امن کی فضا قائم کرنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ دین مصطفویﷺکی بقاءکے لئے اپنا سب کچھ وقف کر دیا۔ دنیا میں رہے تو دینِ اسلام کے لئے جب اس دارِ فانی کو خیرباد کہا تو دین اسلام کے لئے۔انہی نفوسِ قدسیہ میں برصغیر پاک و ہند کی ایک عظیم شخصیت جسے دنیائے اسلام مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد حسین نعیمی ؒ کے نام سے یاد کرتی ہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین ِ اسلام کے لئے وقف کی ہوئی تھی،دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ہمہ تن گوش رہے۔

 امامت کے مصلّٰے سے لے کر سیاست کی پر خاروادیوں میں دین اسلام کا عَلم بلند کرتے رہے۔ گم گشتہ راہوں کو صراطِ مستقیم کی پہچان اور نبی مکرمﷺسے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے میں اپنی ساری زندگی صرف کی۔ احیائے قرآن و سنت معاشرے کے بگڑے ہوئے نظام کو بہتر بنانے ، مصطفوی انقلاب بپا کرنے ،بچوں اور بچیوں کے مستقبل سنوارنے کے لئے ”عظیم“ دینی اور جدید دنیاوی تعلیم سے آراستہ ادارے جنہیں دنیائے اسلام جامعہ نعیمیہ لاہور ، جامعہ نعیمیہ سراجیہ (للبنات) کے نام سے پہچانتی ہے بطورِیاد گار چھوڑے۔ جہاں آج بھی ہزاروں کی تعداد میں طلباءوطالبات اپنی علمی پیاس کو بجھانے کے لئے آپ کے میخانے سے سیراب ہو رہے ہیں۔ یہ رب العالمین کا قبلہ مفتی صاحب پر خصوصی فضل تھا کہ انہیں باری تعالیٰ نے دین کی خدمت کے لئے چن لیا۔ یہ اس کا انعام ہی تو تھا کہ اتنی عظیم المرتبت شخصیت ہونے کے باوجود عجز و انکساری کے پیکر تھے۔ تکبر اور خواہشاتِ نفسانی کو قریب تک نہ پھٹکنے دیا۔دین کی خدمت کے لئے، جس جگہ ضرورت پڑی اپنے آپ کو پیش کر دیا۔بیک وقت تبلیغ دین کے امور کو سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ جامعہ نعیمیہ کی تعمیر کے وقت مستریوں کے ساتھ مزدوروں کی طرح کام کرتے رہے اور علامہ اقبال ؒکے اس پیغام کو اپنا آئیڈیل بنایا !

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

عاجزی اس قدر تھی کہ اجنبیت میں ملاقات کا شرف حاصل کرنے والے آپ کی سادگی ،عجز و انکساری دیکھ کر حیران ہو جاتے۔ جامعہ میں آنے والے ہر طالب علم کے لئے اپنا منشور علامہ اقبال ؒکے اشعار کی صورت میں جامعہ کی دیواروں پر رقم کروا دیا، جو ہر آنے والے کو اپنی زندگی میں انقلاب بپا کرنے کی تڑپ اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ مفتی صاحب نے حقیقی معنوں میں خدمتِ دین کا فریضہ سر انجام دیا۔ مفتی صاحب نے اپنے فرائض منصبی میں کبھی کوتاہی نہ برتی، ہر لمحہ خدمت دین کو ہر کام پر مقدم کیا۔ جب آپ چوک دالگراں کی جامع مسجد میں درسِ قرآن دیتے تھے اسی دوران ایک دن آپ کے بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو جب تک آپ نے درسِ قرآن نہیں دیا اس وقت تک گھر نہیں گئے۔ درس دینے کے بعد گھر جا کر اس کی تدفین کا انتظام کیا۔ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کی، بقول شاعر :

بازار سے گزر رہے ہیں خریدار نہیں ہیں ہم

دنیا میں رہ رہے ہیں طلب گار نہیں ہیں ہم

بازار سے تو گزرے، لیکن خریدار نہیں بنے، دنیا میں رہے تو فقط رب العالمین کے ہو کر رہے، دین اسلام کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، سائیکل پر سفر کر کے دین ِ اسلام کی خدمت کے وہ فرائض سرانجام دیئے جو رہتی دنیا تک ان کے نام کو زندہ رکھیں گے ۔تاریخ کے اوراق پر رقم کیے ہوئے عظیم کارنامے آنے والوں کے لئے قابل ِ تقلید اور قابل ِ رشک ہوں گے کہ ایسے عظیم لوگ بھی اس دنیا میں ہو گزرے ، سادگی اور فقر کی راہوں کے مسافر بن کر بھی خدمت دین اسلام کے ایسے عظیم کارنامے سر انجام دے گئے عصرِ حاضر میں جن کی نظیر نہیں ملتی ۔

اخلاص کے ساتھ دین اسلام کی خدمت کی۔ اسی اخلاص کا ثمر ہے کہ آج آپ کے روحانی بیٹے پوری دنیا کے اندر دین اسلام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دین اسلام کے ساتھ مخلصی اور آپنے آقا ﷺسے وفاءکے نتیجہ میں رب العالمین نے ایسے عظیم بیٹے سے نوازا، جس نے یزیدیت سے ٹکر لے کر حسینیت کے علم کو بلند کیا اور دین ِ اسلام کی بقاءکے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے حضور اکرم ﷺ سے وفا کا حقیقی نمونہ پیش کیا۔ جب ہر طرف اہل ِ علم اور اہل طریقت کی زبانوں پر سکوت طاری تھا تمام مکاتب ِ فکر کی ”مقتدر“ شخصیات کو اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے ۔ ان حالات میں شہید اسلام ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمیؒ میدانِ عمل میں اترے مسلمانوں کا ناحق خون بہانے والے ظالم ، سفاک، دہشتگردوں کے خلاف عَلم ِجہاد بلند کیا، اپنی جان کی بھی پروا نہ کی، حسینیت کا علم بلند کرنے پر رب العالمین نے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز فرما دیا۔

شہید اسلام ڈاکٹر سرفراز نعیمیؒ کا خون منادی کر رہا ہے کہ مسندوں اور خانقاہوں سے نکل کر رسمِ شبیری ادا کرنے کا وقت ہے۔ ©©”جبہ و دستار“سجا لینے سے بات نہیں بنے گی ، حسینیت کے کارواں کا مسافر بن کر باطل کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اگر ہم میدان ِ عمل میں نہ اترے تو بارگاہِ مصطفویﷺ میں کس منہ سے حاضر ہوںگے۔ آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کریں۔ اگر ہم اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کر لیں تو کسی میں جرا¿ت نہیں کہ وہ ہمیں میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ اپنے آقاﷺسے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ زندہ کریں تو کامیابیاں و کامرانیاں ہمارے قدم چومیں گی۔ رب العالمین ہمارے لئے فتح و نصرت کے ابواب کھول دے گا ۔خلّاقِ دو عالم ان نفوسِ قدسیہ کی قبور پر اپنی کروڑ ہا رحمتیں نازل فرمائے۔

مزید : کالم