بھارتی سپریم کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ میں متنازعہ ترمیم کو غیر آئینی قرار دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ میں متنازعہ ترمیم کو غیر ...

 نئی دہلی (اے پی پی) بھارتی سپریم کورٹ نے ملک کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ میں ایک متنازعہ ترمیم ، جسے سیکشن 66A کے طور پر بھی جانا جاتا ہے،کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2009ء میں ایک ترمیم کے تحت اس ایکٹ کو قانونی شکل دی گئی تھی۔سپریم کورٹ کے جسٹس آر ایف نریمان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’’دفعہ 66A غیر آئینی ہے اور سپریم کورٹ اسے ختم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔‘‘اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پر جارحانہ تبصرے پوسٹ کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس عمل کو جرم قرار دے دیا گیا تھا، جس پر 3 سال تک کی سزائے قید سنائی جا سکتی تھی۔ آزادی اظہار کے لیے سرگرم کارکنوں نے اس قانون کو آزادی رائے پر قدغن قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مہم شروع کر رکھی تھی۔

مزید : عالمی منظر