اسرائیل میں پہلی باراعلیٰ عہدے پر فلسطینی کی تعیناتی

اسرائیل میں پہلی باراعلیٰ عہدے پر فلسطینی کی تعیناتی

یروشلم ( آن لائن )اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک فلسطینی شہری کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست کی تاریخ میں ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق طارق ابو حامد پیشے کے اعتبار سے کیمیکل انجینیر ہیں اور ان کا تعلق مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی صور باھر کالونی سے ہے۔ اسرائیلی خبر رساں ایجنسی "جے ٹی اے" کے مطابق ابو حامد کو وزارت سائنس وٹیکنالوجی اور خلائی تحقیقات کے شعبے کا ڈپٹی ڈائریکٹر لگایا گیا ہے۔عبرانی اخبار "ہارٹز" کی رپورٹ کے مطابق طارق ابوحامد کے پاس اسرائیل کا جو شناخت کارڈ ہے اس کے تحت وہ صرف اسرائیل کے کسی علاقے میں رہائش اختیار کرسکتا ہے۔ اس کی دستاویزات اعلیٰ عہدے پر تعیناتی کے لیے کافی نہیں ہیں۔خیال رہے کہ فلسطینی سائنسدان پچھلے دو سال سے اسرائیل کی وزارت سائنس وٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔ اس سے قبل وہ اسی ادارے میں کیمیکل ریسرچ کے شعے میں چیف انجینیر بھی رہ چکا ہے۔ امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی اوراسرائیل کے ’’فائٹسمن‘‘ سائنسی انسٹیٹیوٹ کے درمیان متبادل توانائی کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں بھی ڈاکٹرطارق شامل رہے ہیں۔ بیالس سالہ ڈاکٹر ابوحامد نے ترکی میں قائم انقرہ یونیورسٹی سے کیمیکل انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ دوران تعلیم انہوں نے کیمیائی فضلے کے بائیولوجیکل تجزیے پر بھی تحقیقات کیں۔

مزید : عالمی منظر