بہت یاد آؤ گے مصباح الحق

بہت یاد آؤ گے مصباح الحق

 افسوس ہے کہ مصباح الحق کے نام کے ساتھ اب سابق کپتان مصباح الحق لکھناپڑے گا، اگر یہ کہا جائے کہ مصباح نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی سب سے کمزور ٹیم کی کپتانی کی تو شاید یہ غلط نہیں ہو گا۔ سابق کپتان مصباح الحق نے جب پاکستان ٹیم کی ایک روزہ کرکٹ میں کپتانی شروع کی تو ٹیم کو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا لیکن آہستہ آہستہ مصباح نے ٹیم کو کامیابیوں کی طرف لانا شروع کیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایشیاء کی واحد ٹیم ہے جس نے جنوبی افریقہ کو ان کے گھر میں جا کر ون ڈے سیریز میں شکست دی اور مصباح ہی کی کپتانی میں پاکستان ٹیم تاریخ میں دوسری بار ایشیاء کپ بھی جیتنے میں کامیاب ہوئی اور یہی نہیں بلکہ سال 2013ء میں مصباح نے سب سے ذیادہ رنز سکور کیے پاکستان کے اِس عظیم کھلاڑی کا ایک اور منفرد ریکارڈ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بغیر کوئی سنچری سکور کیے سب سے ذیادہ ہالف سینچریز بنائی (42) اور سال 2013ء میں ایک روزہ کرکٹ میں سب سے ذیادہ ہالف سینچریز ( 15)بھی سکور کیں۔ مصباح تو ہر مشکل وقت میں پاکستان ٹیم کو آکرسنبھالتے تھے پِھر نا جانے ہمارے اپنے ہی ملک کے لوگ ان کو کیوں نا پسند کرتے ہیں شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ صرف ہارڈ ہیٹنگ ہی دیکھنا چاہتے ہیں اور کرکٹ کی کلاس کو بھول چکے ہیں اِس کی مثال میں اِس طرح سے دونگا کہ جیسے ہی اسد شفیق نے پاکستان کی طرف سے کھیلنا شروع کیا ذیادہ تر لوگوں نے ان کو پسند نہیں کیا کیوں کہ وہ پیور شاٹس کے پلیئر ہیں اور ڈرائیو وغیرہ کھلتے ہیں لیکن دوسری طرح صہیب مقصود ہیں جو بال کو اونچا کھیلنا پسند کرتے ہیں جیسے ہی وہ پاکستان کی طرف سے کھیلے لوگوں نے ان کو ذیادہ پسند کیا اور مجھے یہ کہتے ہوئے بالکل بھی دقت پیش نہیں آ رہی کہ یہی وجہ کہ پاکستان آج ڈھائی سو بھی نہیں کر پا رہا ، کوئی بھی پلیئر وکٹ پر رکتا نہیں سب بال کو گراؤنڈ سے باہر پھینکنا چاہتے ہیں وہ صرف مصباح ہی تھے جو ٹیم کو آکرسنبھالتے تھے اور میچ کو ایک اچھی پوزیشن پر لا کھڑا کرتے تھے۔ مصباح نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں162 میچز کھیلے جن میں انہوں نے 43.40 کی اوسط سے5122 رنز سکور کیے جب کہ انکا اسٹرائیک ریٹ 73.75کا ہے جو موجودہ کئی پلیئرز سے قدرے بہتر ہے۔ مصباح الحق کو اپنے ایک روزہ کیریئر میں چھ مرتبہ میچ کا بہترین پلیئر قرار دیا گیا، مخالف ٹیمز ( نیوزی لینڈ کے خلاف 1 بار ، ویسٹ انڈیز کے خلاف 3 بار ، جنوبی افریقہ کے خلاف 1 بار جب کہ زمبابوے کے خلاف بھی ایک ہی بار ) ۔ ایک روزہ کرکٹ میں مصباح کو ایک بار سیریز کا بہترین پلیئر بھی قرار دیا جا چکا ہے جہاں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ میچز کی سیریز میں شاندار260 رنز سکور کیے تھے۔ اپنے اِس شاندار ایک روزہ کیریئر میں مصباح نے83چھکے اور342 چوکے لگائے جب کہ 66 پلیئرز کو کیچ پکڑ کے ڈریسنگ روم کی راہ دکھائی۔ رہی بات مصباح کی کپتانی کی تو اتنا ہے کہو گا کہ ایشین بریڈمین ظہیر عباس کی کپتانی میں پاکستا ن نے.53.85%میچز جیتے ، عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے .53.96%میچز جیتے اور مصباح کی کپتانی میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 53.48% میچز جیتے. خیر ! آخر میں یہی کہوں گا مصباح الحق کو سمجھنا ویسا ہی ہے جیسے ایک مشکل کتاب کو صرف سمجھدار لوگوں کا سمجھنا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی