سنگدلی کی انتہا

سنگدلی کی انتہا
سنگدلی کی انتہا

  

15؍ مارچ 2015ء بروز اتوار یوحنا آباد میں دو گرجوں کے باہر خود کش دھماکوں کے نتیجے میں بے چارے بہت سے شہری ہلاک اور بڑی تعداد میں موقع پر موجود لوگ شدید زخمی ہوگئے۔ یہ بدترین دہشت گردی تھی۔ پوری قوم نے اس کی مذمت کی۔ اس دوران اس دہشت گردی سے بھی بڑھ کر ایک گھناؤنا جرم سرزد ہوا۔ ردِ عمل میں عیسائی آبادی نے دو مسلمان نوجوانوں کو جو سوئے اتفاق سے عین اس وقت اس سڑک پر اپنے اپنے کام سے جارہے تھے، مشتبہ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور زندہ جلا دیا۔ پولیس کی نفری موجود تھی اور ان نوجوانوں کو اُس نے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا۔ پولیس سے ان نوجوانوں کو چھیننا کیسے ممکن ہوا، جبکہ یہ پولیس کی گاڑی میں بٹھا دیے گئے تھے؟ ان بے گناہ نوجوانوں کے جلائے جانے کے جو مناظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کئے ، انھیں دیکھنا آسان کام نہیں۔ یہ مناظر اتنے دردناک ہیں کہ کوئی بھی انسان انھیں دیکھ کر اپنے آنسو ضبط نہیں کرسکتا۔ ایک نوجوان حافظ نعیم یوحنا آباد سے قریبی آبادی مصطفی ٹاؤن کا رہنے والا تھا۔ یہ اپنے معاش کے لئے شیشے کی چھوٹی سی دکان چلاتا تھا اور اس واقعے کے وقت وہ ریڑھی پر شیشہ لادے اپنی منزل کی طرف لے جارہا تھا۔ دوسرا نوجوان بابر نعمان بمشکل اٹھارہ بیس سال کا معصوم سا لڑکا تھا، جو جھاوریاں ضلع سرگودھا کے قریب ایک گاؤں کوٹ پہلوان کا رہائشی تھا اور ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کر رہا تھا۔ ان دو بے گناہ نوجوانوں کا خون قاتلوں کے سر ہے، جنھوں نے ان کو نہایت سفاکی سے جلا ڈالا۔ لیکن حکمران اور موقع پر موجود پولیس بدرجہ اتم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

22؍ مارچ کو کوٹ پہلوان میں مظلوم شہید بابر نعمان کے گھر تعزیت کے لئے حاضری دی۔ قیم جماعت اسلامی ضلع سرگودھا حافظ فرحان ، امیر جماعت اسلامی زون38 ملک بشیر اعوان ایڈووکیٹ ، جماعت اسلامی کے کارکنان اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے نمائندگان کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ اس کے علاوہ پولیس کے کارندے بھی خاصی تعداد میں گاؤں میں تعزیتی احاطے کے باہر ایک بیٹھک میں براجمان تھے۔ بہت سے اہلکار گلی میں جگہ جگہ کھڑے تھے۔ یہ سب مصنوعی کارروائی بہت مضحکہ خیز محسوس ہوئی۔ یہاں ان پولیس والوں کی کیا ضرورت تھی۔ بہرحال ہم لوگ سیدھے تعزیت کے لئے جمع دوست احباب اور مظلوم خاندان کے ارکان کے پاس حاضر ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی شہید کے عمر رسیدہ دادا جناب اللہ دتہ صاحب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ دیگر بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ یہ منظر واقعی بڑا رقت آمیز تھا۔ مرحوم کے سب رشتہ دار اور اعزہ موجود تھے، شہید کے والد اختر حیات بہت حوصلے اور صبر میں تھے۔ ان کے چہرے سے شدید غم عیاں تھا، مگر میں ان کے عزم و حوصلے کی داد دیتا ہوں کہ انھوں نے بہت اعتماد کے ساتھ یہ کہا کہ میرا بیٹا تو مجھے واپس نہیں مل سکتا، نہ ہی یہ زخم کبھی مندمل ہوسکتا ہے، مگر آپ کی وساطت سے میں حکمرانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پیسے دے کر اشک شوئی کرنا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ کسی کا لختِ جگر روپے پیسے سے نہیں تولا جا سکتا۔ ہمیں انصاف چاہیے اور انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام مجرم بشمول پولیس کٹہرے میں لائے جائیں۔ مجرموں کو جنھوں نے یہ جرم کیا اور اپنی گاڑیوں سے پٹرول نکال کر ان بے گناہوں پر چھڑکا اور جو تصویروں میں صاف نظر آتے ہیں، سرعام پھانسی لگائی جائے تو ہم سمجھیں گے کہ انصاف ہوا ہے۔

اختر حیات صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جماعت اسلامی نے سرگودھا شہر میں ہمارے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا، ہم جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں ۔ ہم قانون کا احترام کرنے والے غریب لوگ ہیں۔ اسلام پر ہمارا یقین پختہ ہے۔ جماعت نے اس واقعہ کے روزِ اول سے ہمارے ساتھ جو تعاون کیا ہے اس نے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔ جماعت کا مظاہرہ پر امن اور بھرپور تھا، جس کے بعد حکومت کی طرف سے ہمیں پانچ لاکھ روپے کا چیک موصول ہوا ہے۔ اس موقع پر میں نے شہید کے لئے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر و اجر کی دعا کی۔ میڈیا کے لوگوں نے مختلف سوال کئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ میں غم زدہ خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کے لئے حاضر ہوا ہوں، میرے پیش نظر کوئی پریس کانفرنس کرنا نہیں۔ تاہم اس موقع پر جس طرح شہید کے والد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی تائید بھی کرتا ہوں اور مظلوم خاندان کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے ساتھ ہماری یک جہتی کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں خالص اللہ کی رضا کے لئے ہے۔ ہم ہر مظلوم کے ساتھی ہیں اور ظالم کے مقابلے پر ان شاء اللہ اپنی روایات کے مطابق ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان دونوں شہدا کے خاندانوں کو حکومت بیس بیس لاکھ روپے دے۔ اختر حیات نے بتایا کہ ان کا بیٹا پہلی بار اپنے ضلع سے باہر 20 جنوری کو گیا تھا۔ وہ بھولا بھالا معصوم بچہ تھا۔ اس نے تلاشِ معاش کے لئے لاہور کا رخ کیا اور ایک گارمنٹس فیکٹری میں اسے ملازمت مل گئی۔ تمام لوگ یک زبان تھے کہ یہ لڑکا پورے گاؤں میں اپنی شرافت، سنجیدگی اور نفاست کے لئے مشہور تھا۔

اس موقع پر موجود گاؤں اور علاقے کے عام بزرگان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے ایم پی اے کا تعلق انھی کے گاؤں سے ہے۔ موصوف بہت بڑے زمیندار ہیں مگر انھیں توفیق نہیں ہوئی کہ وہ مظلوم خاندان کے ہاں آکر اظہار تعزیت کر لیتے۔ جنازے میں وہ اس لئے شریک ہوگئے کہ اس روز ڈی آئی جی، ایس پی اور دیگر سرکاری افسران اور حکومتی ایجنسیوں کے عہدیداران جنازے میں موجود تھے۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے سیاستدان عوام الناس کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ ان کو ووٹ دینے والے کس حال میں ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسمبلیوں کے نمائندگان کا یہ طرز عمل سالہا سال سے سب کے سامنے ہے، مگر قوم کا عوامی شعور ایسے لوگوں کو مسترد کرنے کے لئے ابھی تک تیار نہیں ہوسکا۔ منتخب نمائندہ اپنے پورے علاقے کی نمائندگی کرتا ہے، خواہ کسی نے اسے ووٹ دیا ہو یا نہ دیا ہو۔ اس گاؤں کے بے چارے مزارعین اور بے مالک عوام اپنے گاؤں کے اس وڈیرے کے خلاف کیسے جاسکتے ہیں۔ مجھے یوں نظر آتا ہے کہ اب ظلم کی بساط لپیٹنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ نئی نسل اس غلامانہ ذہنیت اور روایتی روش کو بدل ڈالے گی۔ اقبال کے الفاط میں

سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کُہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

مصطفی آباد کے نوجوان کے ہاں بھی ان شاء اللہ حاضری دینی ہے۔ چند دن خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب کی طرف پروگراموں کی وجہ سے مصروفیت رہی۔ اس نوجوان نعیم کی شہادت کی خبریں، اس کی تصاویر اور اس کے والدِ بزرگ وار اور عزیز و اقارب کے جو خیالات اخبارات کی زینت بنے ہیں، ان کو پڑھ اور سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ ایسے بھیانک اور دل دوز ظلم کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔ بہرحال اللہ کی رحمت کا مرہم ہی ہر زخم کا مداوا اور ہر مرض کی شفا ہے۔ اللہ ان تمام لوگوں کو صبر سے نوازے۔ ان کے لختِ جگر بے انتہا تکلیف سے دوچار ہوئے، مگر اس مختصر وقت کے بعد وہ تو جنتوں کی وسعتوں میں چلے گئے۔ پسماندگان کو اللہ اپنی رحمتوں کا سایہ عطا فرمائے رکھے۔

مزید : کالم