پاکستان میں پائیدار امن کی تلاش

پاکستان میں پائیدار امن کی تلاش
پاکستان میں پائیدار امن کی تلاش

  

امن کی ضرورت کس مخلوق کو نہیں انسان جانور، چرند پرند، حشرات الارض، کیڑے مکوڑے غرض دنیا میں کوئی بھی مخلوق ایسی نہیں جس کو امن وسکون کی ضرورت نہ ہو، یہ زمین پر بسنے والی ہر مخلوق کی بنیادی اور پہلی ضرورت ہے اس سے کوئی بھی مخلوق مستغنی نہیں ہوسکتی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چند دعائیں ذکر کی ہیں، ان میں ایک دعا یہ بھی ہے ربّ اجعل ھذا البلد اٰمنا ورزق اھلہ من الثمرات من آمن منھم باللہ والیوم الآخر۔ بقرۃ

اے رب کریم ! اس شہرمکہ کو امن کا گہوارہ بنا دے اور اس کے ایمان دار شہریوں کو تازہ پھل کھانے کے لئے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دونوں التجائیں قبول فرمائیں اور اس شہر مکہ کو ایک مامون و محفوظ شہر بنا دیا اور تمام دنیا کے لئے امن کی جگہ ایسی بنائی کہ حدود حرم میں باہمی قتل وقتال تو کیا جانوروں کا شکار کرنا بھی حرام قرار دے دیا تا کہ قیامت تک آنے والی ہر مخلوق یہا ں امن وسکون سے زندگی بسر کر سکے کیونکہ جس خطہ زمین پر امن کا راج ہوتا ہے اور اس کی معیشت مضبوط ہوتی ہے وہاں کے باسی اطمینان کی زندگی گزارتے اور سُکھ کا سانس لیتے ہیں اور جہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہو وہاں زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔

ہمارا ملک پاکستان بھی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف اندرونی وبیرونی سازشوں کی زد میں ہے یہاں کے باشندے امن کی راہ تک رہے ہیں اور امن کو واپس لانے کی جد وجہد کر رہے ہیں ان باتوفیق لوگوں میں ایک پیارا نام محترم خورشید احمد ندیم کا بھی ہے۔ خورشید ندیم صاحب پاکستا ن میں پائیدا ر امن کی تلاش میں آجکل مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں اور سوسائٹی کے مختلف طبقات سے مل کر پاکستا ن کو امن واپس لوٹانے کی سنجیدہ کوشش کرہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ (آمین)

چنانچہ اس سلسلے میں فیصل آباد کے مقامی ہوٹل ون میں ان کے قائم کردہ ادارے ادارہ تعلیم و تحقیق اسلام آباد کے زیر اہتمام انتہائی مفید دو پروگرام منعقد ہوئے پہلا پروگرام سماجی امن اور مذہب کے موضوع پر ایک سیمینار کی شکل میں منعقد ہوا، اس میں کلیدی خطاب حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب مدظلہم نے کیا، سیمینار کی صدارت حضرت مولانا مجاہد الحسینی صاحب مدظلہم نے فرمائی، افتتاحی کلمات جامعہ امدادیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے ارشاد فرمائے، سیمینار کا آغاز باقاعدہ تلاوت کلام پاک سے ہو ا ھدیہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مفتی صاحب نے سیمینار کے تمام شرکاء کا خیر مقدم کیا ان کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح کے سیمینار کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں خورشید ندیم نے اپنے ادارے کا مختصر جامع تعارف پیش کیا، ادارے کے اغراض ومقاصد خوبصورت انداز میں بیان کئے اور ادارے کے تحت منعقد ہونے والے اس طرح کے سیمینار وں کی ضروت و اہمیت بیان کی۔ اس کے بعد سیمینار کے مہمان خصوصی حضرت مولانا زاہدالراشدی نے سماجی امن اور مذہب کے موضوع پر مفصل، مدلل بہت ہی خوبصورت انداز مین کلید ی خطبہ پیش کیا، مولانا نے فرمایا :

’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور غورو فکر کی صلاحیت سے نوازا ہے اس لئے اختلاف کا ہونا ایک فطری بات ہے عقل ودانش کا معیار ایک جیسا نہیں ہے، اس کے درجات اور دائرے مختلف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، مختلف ذہنی سطحوں اور متنوع فکری دائروں سے نوازا ہے جب مزاج، ذہنی سطح اور فکر ی دائرے مختلف ہیں تو پھر اختلاف ناگزیر ہوگا، عقل ودانش کے استعمال سے نتائج فکر مختلف ہوں گے یہ اختلافات زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہیں اور یہ اختلافات قیامت تک رہیں گے کوئی ان کو ختم نہیں کرسکتا آراو افکار کا تنوع اور خیالات وتأثرات کا اختلاف اس رنگا رنگ زندگی کا حسن ہے۔ یہ اختلاف سیاست میں بھی ہے۔تہذیب و ثقافت میں بھی ہے،معیشت و تجارت میں بھی ہے،طب و حکمت میں بھی ہے اورمذہب میں بھی ہے۔جب یہ اختلافات زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہیں تو اس طرح کے ماحول میں مذہبی اختلاف کو فوکس کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے اس لئے اختلافات کا موجود ہونا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے اور نہ ہی اختلافات سے گھبرانے کی ضرورت ہے البتہ اختلاف کے اظہارکے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ فساد وجھگڑا اختلاف سے پید انہیں ہوتا بلکہ اختلاف کے اظہار کے طریقوں اور رویوں سے ہوتا ہے، بڑے سے بڑے اختلاف کو نرمی کے ساتھ، سمجھنے اور سمجھانے کے انداز میں اور اچھے لہجے میں بیا ن کیا جائے تو کوئی لڑائی جھگڑا نہیں اور اگر اختلاف کو کرخت اور سخت لہجے میں، دوسروں کی تحقیر اور توہین کے ساتھ بیان کیا جائے تو فساد کا باعث ہے اس لئے اصل ضرورت اختلافات کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ سماجی رویوں اور معاشرتی طور طریقوں کو بدلنے کی ہے‘‘۔

اس موقع پر مولانا نے سماجی امن کے لئے بطور خلاصہ چار باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

۱۔ اختلافات کو اختلافات کے دائرے اور اس کی سطح پر رکھا جائے کیونکہ اختلافات کے دائرے اور سطحیں الگ الگ ہیں سب اختلافات ایک درجے کے نہیں ہوتے ہر اختلاف حق وباطل اور کفرواسلام کا نہیں ہوتابلکہ خطاوصواب کا بھی ہوتا ہے اولی ٰ اور غیر اولیٰ کا بھی ہوتا ہے اس لئے اختلاف کو اس کے دائرے اور حدود میں رکھا جائے جس کاوہ مستحق ہے۔

۲۔ اختلاف کا اظہار اچھے لہجے، مناسب الفاظ اور معیار ی اسلوب اور رویے میں کیا جائے۔

۳۔ سوسائٹی اور پبلک میں مختلف طبقات کے اختلافات موجود ہونے کے باوجود بھی مشترکات پر بات کی جائے اس سے قوم کو بہت سی مشکلات سے نجات ملے گی۔

۴۔ سیاسی مذہبی اور طبقاتی اختلافات کے باعث ایک دوسرے سے مکمل سوشل بائیکاٹ سے اجتناب کیا جائے۔ مدینہ منورہ میں مسلمان اور یہودی یکجا ایک شہر میں رہتے تھے، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا، ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہونا اور معاشرتی معاملات میں مشترکہ طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا حتی کہ مسجد نبوی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہودیوں کو اپنے مذہب وطریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دینا یہ سب ہمارے لئے قابل عمل نمونہ ہے اس لئے مختلف طبقات کے رہنماؤں کو آپس میں معاشرتی بائیکاٹ کی بجائے باہم مل جل کر رہنے، معاشرتی معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور باہمی ملاقاتوں کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ آپس کی ملاقاتوں سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

مولانا مجاہد الحسینی مدظلہم نے صدارتی اور اختتامی کلمات ادا فرماتے ہوئے تحریک ختم نبوت 1953 ؁ء کے چند تاریخی حقائق سے پردہ اٹھایا اور اس دور کے اکابر اہل علم کے باہمی مذہبی سماجی تعلقات کے حوالے سے قابل عمل نمونے پیش کیے۔

دوسرا پروگرام پاکستا ن میں پائیدار امن کی تلاش کے عنوان پر دور وزہ تربیتی ورکشاپ کی صورت میں تھا۔ اس کا اہتمام بھی اسی ہوٹل میں خورشید ندیم صاحب کی طرف سے تھا۔ دودرجن کے قریب مختلف مدارس اور مکاتب فکرکے منتخب علماء شریک ہوئے، مقررین میں جامعہ امدادیہ کے شیخ الحدیث مفتی محمد زاہد صاحب، خورشید ندیم صاحب اورمحترم وجاہت مسعود صاحب شامل تھے، تقریباً سب شرکا ء نے اس طرح کی تربیتی ورکشاپوں کو وقت کی ضرورت قرار دیا او رباہمی ملاقاتوں کو سماجی امن کے لئے اہم قرار دیا اور اپنے عزم کا اظہا ر کیا کہ سماجی تبدیلی کیلئے باہمی خوشگوار تعلقات، رواداری اور ایثار کو فروغ دیں گے دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حقوق وجذبات کی رعایت کریں گے، ناگزیر اختلافات کو اچھے پیرائے میں بیان کریں گے اور مشترکہ نکات کو اظہار خیال کا موضوع بنائیں گے۔

اللہ تعالیٰ سب کو عمل کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین)

مزید : کالم