پاکستان کی سمندری حدود میں توسیع

پاکستان کی سمندری حدود میں توسیع
پاکستان کی سمندری حدود میں توسیع

  

23 مارچ کی پریڈ میں صدرِ مملکت نے قوم کو ایک بڑی خوشخبری بھی دی تھی اور فرمایا تھا کہ پاکستان کی سمندری حدود جو پہلے200سمندری میل تک تھیں، اب بڑھ کر350 سمندری میل تک ہو گئی ہیں۔

پاکستان چونکہ سمندروں کی خوگر (Seafaring) قوم نہیں اس لئے ہمیں سمندری علوم و فنون سے کوئی زیادہ دلچسپی یا رغبت نہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کا ماضی بھی ان علوم و فنون سے محروم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی، لیکن اپنے سمندری ساحلوں کی کوئی قدر نہ پہچانی۔ حکمرانوں کے پاس وسیع و عریض سمندری حدود تھیں جن سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا گیا۔

711ء میں محمد بن قاسم کی قیادت میں عرب فوج سندھ پر حملہ آور ہوئی اور دیبل (کراچی) کی بندرگاہ کو قبضے میں لے کر راجہ داہر کو شکست فاش دی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب آج سے 1300 سال پہلے بحری قوت اور اس کی عسکری اہمیت سے آشنا تھے۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے تو وہ اس وقت ایک تاریک براعظم سے بھی تاریک تر تھا۔ اور امریکہ کی دریافت تو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے سے بھی 800 برس بعد کی ہے!

لیکن جب غیر عرب مسلمانوں نے ہندوستان کے ہندو راجاؤں اور مہاراجاؤں کو شکست دی تو ان کے حملے کے راستے بھی خشکی کے راستے تھے۔ اور ان کے میدانِ جنگ بھی خشکی کے میدانِ جنگ تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے غیر عرب مسلم حملہ آوروں نے خشکی کے فنونِ جنگ پر اپنی ساری توجہ مرکوز رکھی اور اپنے پیشرو عربوں کی بحری جنگ (کراچی کے ساحل پر) اور اس کی اہمیت وافادیت کو فراموش کر دیا۔۔۔ یہ فراموشی ہندوستانی مسلم حکمرانوں کو اس قدر مہنگی پڑی کہ چھ سات سو برس بعد افرنگی اقوام نے سمندری راستوں سے آ کر رفتہ رفتہ خشکی کے سارے مسلم فرمانبرراؤں کو شکست دے دی۔ یہ تمام ا فرنگی اقوام (ولندیزی، پرتگیزی، فرانسیسی، برطانوی) تمام کی تمام خوگرِ سمندر (Seafaring Nations) تھیں جنہوں نے کرۂ ارض پر پھیلے دو تہائی آبی رقبے پر قبضہ کر لیا اور باقی ایک تہائی خشکی کو بھی اِسی وسیلۂ بحر کے طفیل اپنے زیر نگیں لے آئے۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن ان افرنگی خوگرِ سمندر اقوام کا طوطی چار دانگِ عالم میں بول رہا ہے!

پاکستان بننے کے بعد جو افواج ہمارے حصے میں آئیں ان میں ائر فورس اور نیوی دو ایسی سروسز تھیں جو مقابلتاً جدید دور کی عسکری سوغاتیں کہی جا سکتی تھیں۔ ہم مسلمانانِ پاکستان کو برطانوی سمندری قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس کے توسط سے ہم موجودہ پاک بحریہ کے وارث اور حامل ہوئے اور ہمیں معلوم ہوا کہ سمندر کیا ہے، اس کے اوپر اور اس کے نیچے کیا کیا دفینے پوشیدہ ہیں اور اس کی سٹرٹیجک اہمیت کا گراف کتنا بلند ہے!

مَیں نے یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ قارئین کو متذکرہ بالا خوشخبری کے اُن چیدہ چیدہ خدو خال سے آگاہ کروں کہ جو شائد ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوں یا ارادتاً انہوں نے اس طرف توجہ نہ فرمائی ہو۔

میڈیا میں بھی آپ نے پڑھا اور سُنا ہو گا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں150سمندری میلوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ کب ہوا، کیوں ہوا،اس کا فائدہ کیا ہو گا، کیا سمندر کی کوئی حدود بھی ہوتی ہیں یا وہ بقول شعرائے کرام بے کنار ہوتے ہیں۔۔۔ یہ کالم انہی نکات پر ایک مختصر سی بحث کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں۔

پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ سمندری یا ناٹیکل میل کیا ہوتا ہے اور خشکی کے میل اور سمندر کے میل میں کیا فرق ہے۔خشکی کا میل، سمندر کے میل سے تھوڑا سا چھوٹا ہوتا ہے۔ایک بحری میل میں1852میٹر ہوتے ہیں جبکہ خشکی کے میل میں1760 گز (یا1624میٹر) ہوتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ خشکی کا فاصلہ بہ نسبت سمندر کے فاصلے کے سدھائی میں (Straight) ہوتا ہے اور اس پر ارضی گولائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا،جبکہ سطح آب پر یہ گولائی اثر انداز ہوتی ہے اور سیدھے فاصلے کو کچھ طویل کر دیتی ہے۔

کراچی سے لے کر گوادر تک پاکستان کا جو ساحلی علاقہ ہے اگر اس کے درمیان (مرکز) میں بیٹھ کر سمندر میں سیدھے زاویۂ قائمہ (90 ڈگری) پر تیرتے جائیں تو 200 بحری میلوں تک کا وہ پانی ہماری ملکیت ہو گا کہ جو کراچی اور گوادر کے سامنے دائیں بائیں کی خشکیوں اور ساحلوں تک پھیلا ہو گا۔ اس200میل پانی کے اوپر اور اس کے نیچے جو کچھ ہو گا وہ ہمارا ہو گا اور اس کے آگے جو سمندر 201ویں سمندری میل سے شروع ہو گا وہ بین الاقوامی سمندر کہلائے گا جس پر کسی کا قبضہ نہیں ہو گا۔ دُنیا کے تمام ممالک کے بحری جہاز وہاں آ جا سکیں گے اور اس کی تہہ میں مچھلیاں پکڑنے، تیل نکالنے یا دیگر معدنیات کو نکال کر اپنے ملک لے جانے کی کھلی چھٹی ہو گی۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ کراچی کے ساحل پر نوجوان لڑکے بالے گرمیوں میں نہانے اور تیرنے کا شغل کرتے رہتے ہیں۔ یہ شغل بعض اوقات جان لیوا بھی بن جاتا ہے۔ اگر آپ دریا یا سمندر کے کنارے بیٹھ کر پاؤں پانی میں ڈالیں تو چند قدم دور تک پانی زیادہ گہرا نہیں ہو گا۔ لیکن جوں جوں آپ آگے جائیں گے پانی کی گہرائی زیادہ ہوتی جائے گی۔ اصطلاح میں ساحل سے لے کر 12میل آگے تک کا علاقہ کانٹیننٹل شیلف (Continental Shelf) کہلاتا ہے۔ اس شیلف میں سمندر زیادہ گہرا نہیں ہوتا،لیکن جوں جوں آگے بڑھیں گے، گہرائی اور بڑھتی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بحری جہاز جب کسی بندرگاہ پر آ کر لنگر انداز ہوتے ہیں تو ان کی لنگر اندازی کے مقامات اتنے گہرے کر دیئے جاتے ہیں کہ جہاز ان کے اوپر تیرتا رہتا ہے اور اس کا پیندا زمین کو نہیں چھوتا۔

اس کانٹیننٹل شیلف میں مچھلیاں اور دیگر آبی مخلوق تو ہوتی ہی ہے، اس کے علاوہ وہاں’’زیر زمین‘‘ تیل اور گیس کے بھی وسیع ذخائر ہوتے ہیں۔ قارئین کو معلوم ہو گا کہ سمندر کے نیچے ایک خاص گہرائی کے بعد زمین آ جاتی ہے، اس کے نیچے پھر سمندر اور پھر زمین اور پھر سمندر۔۔۔ یعنی ہمارے سمندر کے نیچے ایک اور زمین ہے اور اس زمین کے نیچے ایک اور سمندر ہے۔۔۔ اور علی ہذا القیاس۔۔۔

پاکستان کے پاس تو ابھی تک وہ ٹیکنالوجی اور تکنیکی علم و ہنر نہیں کہ جس کو کام میں لا کر ہم اپنی زمینوں کے اندر پائے جانے والے تیل و گیس اور دیگر معدنیات کے ذخائر کی تلاش کر سکیں چہ جائیکہ سمندر کے اندر کوئی تیل یا دوسری معدنیات کا کھوج لگانے کی بات کریں۔۔۔ لیکن اس بات میں ہر گز کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے حصے کے سمندر کے نیچے بے انداز دولت پوشیدہ ہے۔

مثلاً تیل کی دولت تو بڑی بات ہے۔۔۔ ہمارے پاس اگر جدید ٹیکنالوجی آلات موجود ہوں تو ہم صرف ماہی گیری کی صنعت کی ترقی دے کر سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں۔۔۔ برسبیل تذکرہ۔ ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے اتنے درجن ماہی گیر واپس بھارت بھیج دئے جو پاکستانی حدود میں مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ ہم نے شائد ہی کبھی سوچا ہو گا کہ ان بھارتی بحری در اندازوں کو کون پکڑتا ہے، کون فیصلہ کرتا ہے کہ یہ در انداز تھے اور بھارت اس پر احتجاج کیوں نہیں کرتا یا اپنی بحریہ کو استعمال کر کے اپنے ان ماہی گیروں کو پکڑنے والوں پر حملہ کیوں نہیں کر دیتا۔

بات یہ ہے کہ یہ بھارتی ماہی گیر ہمارے اُس 200 میل تک پھیلے سمندری علاقے میں آ کر مچھلیاں پکڑتے ہیں جس کو خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کا نام دیا جاتا ہے۔ بھارت کے یہ ماہی گیر جن بھارتی کشتیوں پر سوار ماہی گیری کرتے ہیں ان پر جدید ترین نیوی گیشن (جہاز رانی) آلات نصب ہوتے ہیں۔ ان کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) میں داخل ہو کر بحری در اندازی کر رہے ہیں لیکن وہ عمداً ایسا کرتے ہیں۔ بعض اوقات پکڑے جاتے ہیں اور اکثر اوقات نہیں پکڑے جاتے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کو پکڑنے کی پاکستانی ایجنسی جس کو پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) کہا جاتا ہے، کے پاس اتنے زیادہ وسائل نہیں کہ سب کو پکڑ سکے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بھارت کے ماہی گیر ہر سال 8ارب روپے سے زیادہ قیمت کی مچھلیاں پکڑ کر بھارت لے جاتے ہیں اور پاکستان کو اس آبی دولت سے محروم کر دیتے ہیں۔

پاکستان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (MSA) کے پاس سمندری گشت کے جو محدود وسائل ہیں وہ دن رات اپنےEEZ میں (یعنی200سمندری میل میں) پیٹرولنگ کرتے ہیں۔ پھر بھی ہمارے سمندر کی بے کنار وسعتیں اس سمگلنگ کو نہیں روک سکتیں ؟

اقوام متحدہ نے کئی سال پہلے یہ قانون پاس کیا تھا کہ ساحلی ممالک کا اپنے ساحلوں سے200 میل دور تک کا علاقہ ان ممالک کی ملکیت شمار ہو گا۔ اس کے اوپر اور نیچے کے ذخائر پر بھی ان کا تسلط تسلیم کیا جائے گا۔ 200سمندری میل کی یہ حد کن عوامل کو سامنے رکھ کر لگائی گئی تھی یہ ایک تکنیکی اور طویل بحث ہے جو قارئین کے لئے ’’چنداں‘‘ مفید یا معلومات افزا نہیں ہو گی۔ اس لئے اس کو چھوڑتے ہیں۔ البتہ اب20مارچ2015ء کو اقوام متحدہ نے پاکستان کی سمندری حدود میں جو150میل کا اضافہ کر دیا ہے تو اس کے نتیجے میں 50,000 مربع کلو میٹر کا بحری علاقہ مزید پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ زون کا رقبہ2,40,000مربع کلو میٹر تھا جو اب بڑھ کر تقریباً 3لاکھ (2,90,000) مربع کلو میٹر ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایک ادارہ قائم ہے جس میں آبی اور ارضی وسائل کے21ماہرین شامل ہیں۔ جیالوجی، جیو فزکس اور ہائیڈرو گرافی کے یہ ماہرین فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی ملک کو200 سمندری میل کے سٹینڈرڈ خصوصی زون سے زیادہ علاقہ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ آج سے دس سال پہلے2005ء میں پاک بحریہ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی تینوں نے مل کر ایک ایسے منصوبے پر کام شروع کیا کہ جس کی رو سے پاکستان کی200 میل کی مقررہ حدود سے زیادہ علاقہEEZ میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ چار پانچ سال تک اس پر کام جاری رہا۔ پھر اپریل 2009ء میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں اپنا کیس پیش کیا جس پر سات اراکین پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک پاکستان کی سفارشات/ درخواست کی چھان بین کی اور آخر 20مارچ 2015 کو اعلان کیا کہ پاکستان کے EEZ میں 150ناٹیکل میل یا 50,000مربع کلو میٹر رقبے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

یہ خوشخبری اگرچہ ایک بڑی خوشخبری ہے لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی نتھی ہو گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک تو پاکستان کو اپنےEEZ میں تیل اور گیس وغیرہ کی تلاش کا کام تیز تر کرنا ہو گا اور دوسرے اپنی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (MSA) کی تنظیم اور اس کے وسائل میں اضافہ کرنا ہو گا۔

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا قیام یکم جنوری 1987ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا کام پاکستان کی میری ٹائم (سمندری) حدود کی حفاظت اور پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اس کے موجودہ ڈی جی، رئر ایڈمرل اطہر مختار ستارۂ امتیاز (ملٹری) ہیں جو بڑے تجربہ کار، لکھے پڑھے اور پروفیشنل سولجر ہیں۔ اس ایجنسی کے انصرامی اور انتظامی مستقر کراچی، گوادر اور پسنی میں واقع ہیں۔ اس کے وسائل میں چار کار ویٹ قسم کے جنگی بحری جہاز (وحدت، نصرت، رحمت اور برکت)، ہوائی جہازوں کا ایک سکوارڈرن اور ان کے علاوہ کئی پٹرول بوٹس (گشتی کشتیاں) شامل ہیں۔۔۔ تاہم اب ان محدود وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے!!

مزید : کالم