رجسٹریشن برانچوں میں ’’کمی ‘‘فیس‘‘ سکینڈل کے تمام ریفرنس زیرالتواء

رجسٹریشن برانچوں میں ’’کمی ‘‘فیس‘‘ سکینڈل کے تمام ریفرنس زیرالتواء

 لاہور (عامر بٹ سے)انکم ٹیکس،اے جی آفس ،انسپکٹر جنر ل آف رجسٹریشن پنجاب اور سٹیمپ برانچ کی آڈٹٹیموں کی جانب سے کی جانے والی انسپکشن کے نتیجے میں نکلنے والی'' کمی فیس''، ڈی سی او لاہور کے شعبہ ایچ آر سی برانچ نینظر انداز کر دی ،ممبر ٹیکسز،چیف سٹیمپ انسپکٹر اور انسپکٹر جنرل آف رجسٹریشن برانچ انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی تحریری ہدایات بھی مسلسل نظر انداز کئے جانے کی روایت قائم کر دی گئی،ڈی سی او لاہور اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ،روزنامہ پاکستان کوملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب کے ماتحت ڈیپارٹمنٹ بورڈ آف ریونیو ،اے جی آفس ،انکم ٹیکس کی تشکیل کردہ انسپکشن آڈٹ ٹیموں کی جانب سے کئی کئی گھنٹوں اور دنوں کی مشقت کے بعد رجسٹریشن برانچوں میں نکالی جانے جانے والی کمی فیس پر ڈی سی او لاہور کا شعبہ ایچ آر سی پردہ ڈالنے لگا آڈٹس اور ان کے نتیجے میں نمایاں ہونے والی ''کمی فیس'' کے تمام ریفرنس بھی ایچ آر سی برانچ میں التواء کا شکار کردیئے گئے ہیں مزید معلوم ہوا ہے کہ کئی کئی سالوں سے'' کمی فیس ''میں ملوث تمام سرکاری ملازمین سے ریکوری کروانے کی بجائے ڈی سی او لاہور آفس میں کام کرنے والی ایک مخصوص لابی اپنے مفادات پورے کرنے کے بعدتمام بنیادی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالے جارہی ہے ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ندیم اشرف اور ممبر ٹیکسز پنجاب ساجد یوسفانی کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ آن ریکارڈ اور تحریری طورپر ہدایت کی جا چکی ہے جو کہ مسلسل نظر انداز کی جارہی ہے ، ریونیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ''ریونیو'' لاہور عرفان نواز میمن ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر جنرل اسفند یار بلوچ اور ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر )محمد عثمان کو کمی فیس میں ملوث تمام سرکاری ملازمین سے بروقت ریکوری کروانے کیلئے سخت اقدامات کرنے ہوں گیکیونکہ ریکوری نہ ہونے سے حکومتی خزانے کو لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1