ایم۔ کیو ۔ ایم اچانک سنجیدہ سیاست کرنے لگی

ایم۔ کیو ۔ ایم اچانک سنجیدہ سیاست کرنے لگی

تجزیہ: چودھری خادم حسین

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے ہونے والے معاہدے کی ایم۔ کیو۔ ایم کے سوا باقی تمام پارلیمانی گروپوں نے حمایت کر دی ہے۔ متحدہ والوں کو اعتراض ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 225 اور 189 کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے جوڈیشل کمشن کے قیام کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے پیپلزپارٹی اور اے۔ این۔ پی سمیت باقی تمام جماعتوں نے تائید کی اور جوڈیشل کمشن کے قیام کے لئے آرڈی نینس کے مسودے کے خدوخال بھی منظور کر لئے ہیں اس کے بعد اس معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے اور آرڈی نینس کے ذریعے جو ڈیشل کمشن کا قیام عمل میں آ جائے گا وزیر اعظم محمد نوازشریف نے اس مقصد کے لئے گزشتہ روز پارلیمانی گروپوں کا نمائندہ اجلاس بلایا اسی میں ان کو یہ تائید ملی ہے۔

یہ معاہدہ اپنی جگہ ہے تاہم متحدہ اب نائن زیرو کے چھاپے اور صولت مرزا کے بیان کے بعد سنبھل گئی اور سنجیدگی سے بات ہونے لگی ہے۔ ادھر خود حکومت کی طرف سے ان کو بات کرنے کا موقع یا جواز فراہم کیا گیا، وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ برطانوی ہائی کمشنر کو کوئی دستاویزات نہیں دی گئیں۔ الطاف حسین کے دھمکی آمیز بیانات کی طرف توجہ دلائی گئی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی طرف سے کسی کا نام ای۔سی۔ایل میں نہیں ڈالا گیا اور اس امر پر ضرور سوچا جائے گا کہ الطاف حسین کو پاکستان میں لایا جا سکتا ہے؟ تاہم وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا ہم نے دستاویزات برطانوی حکومت کے حوالے کی ہیں۔ یوں متحدہ کو زمین پر پیر لگانے کی گنجائش ملی ہے۔

پاکستان میں نئے برطانوی ہائی کمشنر لندن میں حکومت سے مشاورت کر رہے ہیں وہ واپس آئیں گے تو مزید پتہ چلے گا ابھی تو بقول وزیر داخلہ قانون شکنوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، جرائم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنا کر دم لیں گے اور آپریشن بلا امتیاز ہوگا۔

دوسری طرف تحریک انصاف پھر سے ٹوٹ پھوٹ کے ایک نئے عمل سے گزر رہی ہے، ہم نے تحریر کیا تھا کہ معاہدے کا مسودہ تحریک انصاف ہی کے اندر سے میڈیا تک پہنچا یہاں تو خود عمران خان نے جہانگیر ترین کو دیئے جانے والے نوٹس والی خبر کی تائید کر دی اور ہدایت کی ہے کہ جن حضرات نے پارٹی کے اندر کی خبریں دی ہیں ان کو تلاش کیا جائے، وہ کہتے ہیں ایسے لوگوں کو جماعت سے نکال دوں گا۔ بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ شروع ہے اور عمران خان نے پھر پارٹی الیکشن اور دوسرے کام چھیڑ لئے ہیں۔ یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں کہ سب کاموں سے کیسے عہدہ برآ ہوں گے کہ اب تو انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ تک کہہ دیا کہ اسمبلیوں میں جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد جائیں گے۔ اس مسئلہ پر ان کی جماعت کے اندر بے چینی ہے۔ منتخب لوگ جانا چاہتے ہیں۔ غیر منتخب لوگوں کی خواہش ہے کہ منتخب ارکان بھی اُن کی طرح باہر بیٹھیں۔

انہی حالات میں حکومت اپنے طور پر ترقیاتی کام جاری کئے ہوئے ہے۔ فوج دہشت گردی اور کراچی کے ٹارگٹیڈ آپریشن کی طرف متوجہ ہے سرحدوں کے حالات اپنی جگہ ہیں۔ ان تمام مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ایسے اتفاق کی ضرورت ہے جیسا گزشتہ روز وزیر اعظم کی مشاورت میں ہوا۔

مزید : تجزیہ