یمن کے صدر صنعاءسے عدن بھاگ گئے ، باغیوں کیخلاف غیرملکی مداخلت کی اپیل ، سفارتخانے بند،سعودی عرب نے باغیوں کو کچلنے کیلئے یمن میں فضائی کارروائی شروع کردی

یمن کے صدر صنعاءسے عدن بھاگ گئے ، باغیوں کیخلاف غیرملکی مداخلت کی اپیل ، ...
یمن کے صدر صنعاءسے عدن بھاگ گئے ، باغیوں کیخلاف غیرملکی مداخلت کی اپیل ، سفارتخانے بند،سعودی عرب نے باغیوں کو کچلنے کیلئے یمن میں فضائی کارروائی شروع کردی

  

جدہ ، صنعاء(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے اور یمن میں حوثی باغیوں اوراُن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاجارہاہے جبکہ سرحد پر طیارے اور ٹیک شکن توپیں نصب کردی گئی ہیں،ا س سے پہلے حوثی باغیوں کے فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی کے بعدیمن کے صدر نے حوثی باغیوں کیلئے کارروائی کیلئے اقوام متحدہ سے بھی مدد مانگ لی اوردارلحکومت صنعاءسے عدن پہنچ گئے جہاں وہ بدستورموجودہیں اوروہیں سے مملکت کے امور چلارہے ہیں ، دوسری طرف مصر نے عدن میں اپنا سفارتخانہ خالی کردیا۔

ماں کا خوفناک اقدام،ایک سالہ بچے کو 'ہتھیار'بنا لیا ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کو مبینہ طورپر ایران کے حمایہ یافتہ حوثی باغیوں نے زمینی پیش قدمی اورفضائی حملے شروع کردیے ،ایک جنگی طیارے نے عدن میں صدارتی کمپاو¿نڈ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا اور تین میزائل داغے لیکن فضائی دفاعی نظام کے ذریعے اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا ۔درایں اثناءحوثیوں کے زیر قبضہ یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک نشریے میں صدر ہادی کو پکڑنے والوں کے لیے قریباً ایک لاکھ ڈالرز کی پیش کش کردی۔ادھر جنوبی شہر لحج میں حوثی باغیوں نے یمن کے وزیردفاع میجر جنرل محمود الصبیحی اور ان کے ایک مشیر اعلیٰ کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں دارالحکومت صنعا منتقل کردیا جس کے بعد اطلاعات تھیں کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی شہر چھوڑگئے ہیں تاہم وزیر خارجہ ریاض یاسین نے ان خبروں کی تردید رکتے ہوئے بتایاکہ فضائی حملے کے باوجود صدرجنوبی شہر عدن ہی میں موجود ہیں اور وہ اس شہر سے کہیں اور نہیں گئے ہیں۔

مسلم شہر کے لئے بڑا اعزاز، دنیا کا بہترین شہر قرار ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

وزیرخارجہ نے حوثیوں کی مسلح یلغار کو پسپا کرنے کے لیے غیرملکی فوجی امداد کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیاکہ منصور ہادی کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت حوثی باغیوں سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گی جب تک کہ وہ صنعا سے واپس اپنے آبائی شمالی علاقوں کی جانب نہیں لوٹ جاتے ہیں۔

یمن کی ابتر صورت حال پر غور کے لیے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا جمعہ کو اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، اس اجلاس میں یمنی وزیرخارجہ کی جانب سے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی مداخلت کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔عرب لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل احمد بن ہیلی نے بتایا ہے کہ یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے تنظیم سے حوثی شیعہ باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے فوجی مداخلت کی درخواست کی ہے اور حوثیوں کو شیعہ ایران کا گماشتہ گروپ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ان کے ملک پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

وہ ملک جہاں شادی کے بعد 3 روز تک دلہا دلہن کو باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ، ناقابل یقین منطق ،یہاں کلک کریں۔

یمن میں حالات کشیدہ ہونے پر مصر نے جنوبی شہر عدن میں اپنا سفارتخانہ بندکرکے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا سے مسلسل پیش قدمی کے بعد عدن کا محاصرہ کرلیا تھا۔عدن کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا گیا۔ صنعا پر حوثیوں کے قبضے اور صدر منصور ہادی کے وہاں سے اٹھ آنے کے بعد سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک نے اپنے سفارت خانے اور سفارتی عملہ کو عدن میں منتقل کردیا ۔

سعودی عرب نے طبل جنگ بجا دیا،فوج سرحد پر جمع ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں ۔

آخری اطلاعات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات سعودی عرب نے یمن میں باغیوں کیلئے کارروائی شروع کردی اورباغیوں کیلئے فوجی کارروائی میں سعودی عرب کی مدد کیلئے بحرین ، کویت ، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی تیاری کرلی ہے ۔ سعودی عرب نے موقف اپنایاکہ آپریشن کا مقصد قانونی حکومت کو بچانا ہے،حوثی باغیوں نے ہمیشہ تشدد کا راستہ اپنایا ہے انہیں یمن پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے ،ہم حکومت اور عوام کو بچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور یمن میں مداخلت کی دعوت خود یمن نے دی۔

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کے رشتہ داروں کی مشکل حکومت نے حل کر دی۔۔ مزید جانئے

امریکہ میں تعینات سعودی سفیر الجبیرکا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کی جائے گی جبکہ اس آپریشن میں 10 ممالک کی حمایت حاصل ہے جن میں بحرین ،کویت، قطر اور یو اے ای بھی شامل ہیں اور اتحادی فوجیوں کے ساتھ مل کر پوری فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔یمنی سرحدوں پر بھاری اسلحہ ،طیارے اور شکن توپیں نصب کر دی گئی ہیں جبکہ باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔اس بارے میں خلیجی ممالک کا کہنا تھا کہ یمنی صدر منصور ہادی کی حکومت کا تحفظ کریں گے۔

نوٹ : اس خبر کے اندر رنگین دکھائی دینے والے دوسری خبروں کے لنک ہیں ، ان پر کلک کرنے سے یہ خبر چھوڑ کر  آپ متعلقہ خبر پر پہنچ جائیں گے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں