تہذیب الاخلاق ٹرسٹ کی تعلیمی خدمات

تہذیب الاخلاق ٹرسٹ کی تعلیمی خدمات
تہذیب الاخلاق ٹرسٹ کی تعلیمی خدمات

  

سر سید احمد خاں کی یا د میں قائم ہونیوالے تہذیب الاخلاق ٹرسٹ کے زیر اہتمام دو تعلیمی ادارے لاہور میں قائم ہیں جو اس کے با نیوں کی اعلیٰ انتظامی صلا حیتوں کے نتیجہ میں نہ صرف کامیابی سے چل رہے ہیں بلکہ یہ لاہور میں علیگڑھ کی روایات کے امین اور نظریہ پا کستان کے فروغ کے لئے کوشا ں ہیں، جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت اور اچھے انسان بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔مثل مشہور ہے کہ بڑے درخت سایہ زیادہ دیتے ہیں جس سے بنی نوع انسان سالہا سال تک استفادہ کرتی رہتی ہے۔

تہذیب ا لا خلاق ٹرسٹ بھی ایک ایسا ہی تنادرخت ہے جو گزشتہ چاردہائیوں سے سایہ مہیا کررہا ہے ۔ اس ٹرسٹ کے سر پرستوں اور سربراہوں میں بڑے بڑے نامور افراد شامل ہیں جنہوں نے علیگڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن قائم کرکے سر سید کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کی کوششیں کیں ۔جس کی بدولت غالب روڈ گلبرگ لاہور میں تیس کنال رقبہ پر علیگڑھ ہائر سیکنڈری سکول وکالج اور لاہور سے 39 کلو میٹر ملتان روڈ پر علیگڑھ پبلک سکول و کالج مانگا میں پچاس ایکڑ وسیع سر سبز و شاداب رقبہ پر پھیلا ہوا ہے، جسے عنقریب سر سید یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالو جی بنا دیا جا ئے گا علیگڑھ کالج کے پرنسپل سکواڈرن لیڈر(ر) محمد عبدالنعیم خاں دن رات اس کوشش میں مصروف ہیں ۔کالج کے وسیع کیمپس میں کھیلوں کی گراؤدنڈ ز،جامع لائبریری ،عالیشان کمپیوٹر لیب ،نہایت اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں سے مزین ہوسٹل بھی موجود ہے جسے بجا طور پر سر سید احمد خاں کے نظریہ تعلیم و تربیت کا تر جمان بھی کہا جاسکتا ہے ۔

تہذیب الاخلاق ٹرسٹ کے موجو دہ صدر محتر م جی اے صابر ی پیشہ کے اعتبار سے انجینئر ہیں، دونوں تعلیمی اداروں کی ترقی میں گہری دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے ذاتی کاموں کو پس پشت ڈال کر مشن کی تکمیل کر رہے ہیں ۔اس ٹر سٹ کو محترم جسٹس مولوی مشتاق حسین جیسے لوگو ں کی سر براہی بھی حاصل رہی ہے اور محتر م اے رحمن محترم اے منان بھی چیئر مین رہے ہیں ، تاہم اس ٹرسٹ کی بنیا دیں مضبوط کرنے میں جس شخصیت نے سب سے زیادہ محنت کی ان کا نام محتر م غلا م معین الدین صابری (مرحوم ) ہے بطور سیکڑٹری ٹرسٹ جنہوں نے اپنی سر کاری مصروفیا ت کے باوجود علیگڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کو ایک انتہائی متحرک اور زبر دست تحریک بنادیا تھا ۔تمام اہم قومی و دینی موقعوں پر خصوصی تقریبا ت منعقد کرتے جن میں یوم سر سید احمد خاں یو م قائداعظم ؒ یوم اقبا لؒ یو م پاکستان ،یوم آزادی عیدمیلادالنبی ﷺ اور عیدین پر محفل مشاعرہ اور دینی سکالرز کو مدعو کر کے ان کے لیکچر کرائے جاتے تھے ۔مجھے ابتدا سے ہی ان کے ساتھ وابستہ رہنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملتا رہا ۔صابری صاحب 1999 میں بھر پور زندگی گزارنے اور علیگڑھ تعلیمی اداروں کو مضبوط کر نے کے بعد انتقال فر ما گئے تھے ۔

جناب اے رحمن جو اس وقت ٹرسٹ کے صدر تھے ماہنامہ تہذیب الا خلاق کے خصوصی ایڈیشن میں ایک یاد گار مضمون تحریر کیا جس میں صابر ی صا حب کو زبر دست خراج عقیدت پیش کیا تھا وہ لکھتے ہیں کہ میرا ان کے ساتھ 45 سال پر پھیلا ہو ا خلوص کا رشتہ ہے اس دوران وہ علیگڑھ تحریک کے مقا صد پورے کرنے کے لئے متحرک رہے اور دونوں سکولوں کے مقا صد کو پورا کرنے کیلئے وہ نہ صرف کاسہ گدائی لیکر ہر جگہ جانے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے بلکہ ہم سب متعلقہ لوگوں کو ساتھ لے جانے کے لئے منت کرنے سے بھی عار محسوس نہ کرتے جیسے ان کا کوئی ذاتی کام ہے ۔طالبا ت کیلئے گلبرگ میں نیا علیگڑ ھ سکول کی بلڈنگ تعمیر کرنیکا مر حلہ سب سے کٹھن تھا وہ اس طرح سر گرم رہے جیسے اپنا گھر بنا رہے ہو ں ۔سکول کی تعمیر کیلئے ایک خًطیر رقم کا حصول سب سے مشکل تھا جسکی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر میں ایک پر ہی اکتفاکرونگا جس سے اس مقصد کے حصول کیلئے ان کی ہمت اور لگن کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔یہ مثا ل لاہور میں متحدہ عرب امارات کے سربراہ تک رسا ئی اور ملاقا ت تھا جس کیلئے میں اور صابری صاحب اس سخی فرمانروا کے محل کے برآ مدے میں دو گھنٹے سے زائد بھوکے پیا سے بیٹھے رہے ۔یہ سخت گرمی کے دن تھے مگر صابری نہایت صبر و استقلال سے حصول مقصد کی خاطر انتظار کی گھڑیا ں گنتے رہے ۔بالا خر ہمارا صبر پھل لا یا اور ہمیں متحدہ عرب امارات کے سر براہ سے ملاقات کی نوید سنائی گئی جو اس لحاظ سے با ر آور ثا بت ہوئی کہ سکول کی عمارت تعمیر کر نے کیلئے ابتدا ئی کام کا آغاز ممکن ہو گیا۔ جس بلڈنگ کے ایسے معمار ہو ں وہ کتنی بلند ،عظیم اور پختہ ہو گی اس کا اندازہ ایسے با کما ل لوگوں کی محنت سے لگا یا جا سکتا ہے ۔

مزید :

کالم -