قیام پاکستان انسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں

قیام پاکستان انسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں
 قیام پاکستان انسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں

  

ایوان اقبال میں منعقدہ یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خاں نے کہا، اتفاق و اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔23مارچ دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے عزم کا دن ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے مفکر پاکستان ڈاکٹر علا مہ محمد اقبالؒ کی فکر اور سوچ کے مطابق برصغیر کے مسلمانوں کو یکجا کیا۔اپنے خطاب میں سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا، ہم لازوال قربانیاں پیش اورخون کی ند یاں عبور کر کے بالآخر خود مختار ریاست پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آزادی حاصل کرنے کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا۔ پا کستا ن کا قیام انسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں۔ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک مشن، نظریہ، جذبہ ، تحریک اور نصب العین ہے۔23مارچ کا دن اسی ایمانی جذبے کی یاد تازہ کرتا ہے کہ جس کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا حصول ممکن ہوا۔ اس میں شک نہیں ہمیں دہشت گردی و بے روز گاری سمیت بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے،مگر ہم عزم و استقلال سے ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرکے ملک کو مستحکم کر رہے ہیں۔ قائداعظم ؒ کے سنہری اصول ایمان ، اتحاد اور تنظیم پر عمل پیرا ہوئے بغیر مستحکم پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی سالمیت کو مقدم رکھنے کے لئے مذہبی وسیاسی جماعتیں باہمی نفرتوں اور کدورتوں کو بالا ئے طاق رکھ کر تعمیر ملک و ملت کے لئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے عملی اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ آئین کی بالا دستی و قانون کی حکمرانی قائم کر کے ہی جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

تقریب سے وزیر اعلیٰ نے بھی خطاب کرنا تھا، مگر وہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے نہ پہنچ سکے،البتہ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوم پاکستان کے عظیم اور تاریخی دن کے موقع پر میرا قوم سے وعدہ ہے کہ آخری بچے کے سکول داخلے، غربت، بے روزگاری، جہالت کے اندھیرے دور کرنے، سفارش، دھونس دھاندلی، کرپشن، ناانصافی اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، اس سفر میں معاشرے کے ہر طبقے کو میرا ساتھ دینا ہے اور ہم سب نے مل کرایک ٹیم کے طور پر اس مشکل سفر کو طے کرنا ہے۔ قرار داد پاکستان کی لاج رکھتے ہوئے محنت، امانت، صداقت اور دیانت کو شعار بنا کر آگے بڑھنا ہے ۔ملک کو بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں ایسی فلاحی اسلامی ریاست بنانا ہے، جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز رنگ و نسل آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں ۔ انصاف ، میرٹ اور قانون کی حکمرانی سکہ رائج الوقت ہو اوراس منزل کے حصول کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ سفر مشکل اور طویل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ تحریک قیام پاکستان اور قرارداد پاکستان والے جذبے کو زندہ کر کے ہم منزل حاصل کرسکتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہاکہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے۔ 23 مارچ 1940 ء کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ہندوستان کے کونے کونے سے مسلمان منٹوپارک میں اکٹھے ہوئے اور قائد اعظمؒ ؒ کی کرشماتی قیادت میں صرف 7 سال کے عرصہ میں مسلمان ایک الگ مملکت کے حصول میں کامیاب ہوگئے۔ قائد اعظمؒ کی قیادت میں اکٹھے ہونے والے سب لوگ متحد اور پُرعزم تھے اور ایک نیک مقصد کے لئے جدوجہد میں شریک تھے۔ ان میں نہ کوئی شیعہ تھا اور نہ کوئی بریلوی ، نہ ہی کوئی اہل حدیث اورنہ کوئی دیوبند ، سب کے سب متحد ہو کر ایک الگ وطن کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جائزہ لینا ہے کہ آج جب اس تاریخی دن کو گزرے 77 سال ہو چکے ہیں، کیا ہم نے قائد اعظمؒ کی روح اور تحریک پاکستان کے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کے ساتھ انصاف کیا ہے؟یوم پاکستان کے تاریخی دن کے موقع پر میرا وعدہ ہے، سماجی، معاشی اور معاشرتی انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ بے روزگاری اور غربت کے خاتمے اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کریں گے اورکسی صورت عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ۔

تقریب سے چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمان شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ عام آدمی کی آواز بآسانی ایوانوں تک پہنچ سکے، مگر آج حکمرانوں تک عام آدمی کی آواز نہیں پہنچ پا رہی۔لوگ پوچھتے ہیں وہ اپنی آواز ایونوں تک پہنچانے کے لئے کون سے ذرائع استعمال کریں؟ حکمرانوں کے اس روئیے سے عام لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔جب تک مسلم لیگ اور حکومت خود کو لوگوں کے سامنے جوب دہ نہیں ہوگی،اس وقت تک جمہوریت اور حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ 23مارچ تمام سیاسی پارٹیوں ، حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو دورکرکے آپس میں رابطے مضبوط کرنے کا دن ہے۔ہم سب کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم باہمی نفرتوں اور کدورتوں کو بالائے طاق رکھ کر ملک و ملت کی تعمیرکے لئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا عملی ثبوت پیش کریں گے۔ اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ چار سال پہلے جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی، تو ملک کو ہر طرف سے دہشت گردی اورتوانائی کے بحرانوں کا سامنا تھا، مگر حکومت نے مضبوط حکمت عملی اختیار کرکے دونوں بحرانوں سے قوم کو نجات دلانے کے لئے عملی اقدامات کئے، جس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔جب ملک میں امن ہو گا،تب ہی ترقی ہوگی۔حکومتی اقدامات کے پیش نظر کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان ایک نئے دور میں داخل، ملک کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور قوم کا مستقبل روشن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں ،تا کہ ملک آگے بڑھ سکے ۔انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان، جس جگہ قرارداد پاکستان منظور ہوئی، اس مقام پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے عالیشان گریٹر اقبال پارک تعمیر کیا ہے جو ان کا شاندار کارنامہ ہے۔ہم ان سے اُمید رکھتے ہیں کہ باب پاکستان کے منصوبے کو بھی اسی برق رفتاری سے مکمل کروائیں گے، جس طرح انہوں نے گریٹر اقبال پارک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کوپایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔۔۔اس موقع پر صوبائی وزراء مجتبیٰ شجاع الرحمان ،ذکیہ شاہنواز ،شیخ علاوالدین ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، کمشنر لاہور عبداللہ سنبل ،ڈپٹی کمشنر سمیر احمد ، اساتذہ ،طلبہ و تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے۔

مزید :

کالم -