اتر پردیش میں انتہا پسند یوگی کی حکومت

اتر پردیش میں انتہا پسند یوگی کی حکومت
 اتر پردیش میں انتہا پسند یوگی کی حکومت

  

راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے لیڈر ونایک دمودرسوارکر نے منظوم نعرہ لگایا تھا:

اک دیو، اک دیش، اک بھاشا

اک جاتی، اک جیوا، اک آشا

(خدا ایک، وطن ایک،،زبان ایک،نسل ایک، قسم ایک، امید ایک)۔۔۔ یعنی ہر وہ شخص جو ہندوستان میں رہتا ہے، وہ صرف ایک خدا، یعنی بھگوان کا پیروکار بن کر رہ سکتا ہے۔ 1923ء میں لگائے گئے اس منظوم نعرے کی شکل ارتقائی منازل طے کرکے اب 94 سال بعد کچھ یوں ہو چکی ہے کہ جو شخص بھی ہندوستان میں رہتا ہے، اسے ہندو بن کر بھگوان کو ماننا ہو گا ، اگر نہیں تو وہ ہندوستان سے چلا جائے، ورنہ اسے یہاں رہنے نہیں دیا جائے گا۔ بھارت میں السلام علیکم کہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،بلکہ مسلمانوں کو بھی نمستے کہنا ہو گا اور بندے ماترم پڑھنا ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس ارتقاء میں بہت سے لوگ اپنی بھانت بھانت کی تنظیموں کے ذریعے حصہ ڈالتے گئے، جیسے کہ 1925ء میں قائم ہونے والی راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے بانی کشیو بالی رام ھیڈگیوار اور اس کے دست راست ونائک دمودر سوارکر۔۔۔ 1909ء میں قائم ہونے والی پہلی اور بعد میں مختلف اوقات میں بننے والی بہت سی ہندو مہاسبھائی تنظیمیں، جن کی قیادت سوامی شرد آنند، لالہ لجپت رائے، بالا کرشنا شیوارام اور کئی دوسرے انتہا پسند لیڈر کرتے رہے، مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے نتھو رام گاڈسے کا تعلق بھی ہندو مہاسبھا سے تھا۔ ان کے علاوہ جن سنگھی بھی تقسیم ہند سے پہلے مسلم کش فسادات میں ملوث رہے۔ آزادی کے بعد قائم ہونے والی سب سے نمایاں ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا ہے، جسے 1966ء میں بال ٹھاکرے نے قائم کیا ۔ 2012ء میں بال ٹھاکرے کے مرنے کے بعد اب اس کا بیٹا ادے ٹھاکرے شیو سینا چلا رہا ہے۔یہ مہاراشٹر کی پوری ریاست میں دندناتے پھرتے ہیں اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں مسلم کشی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ مہاراشٹر کا ایک سابق وزیر اعلی منوہر جوشی،جو مسلمانوں کے خلاف بہت سی جنونی کارروائیوں میں ملوث تھا ، کا تعلق بھی شیو سینا سے تھا اور اس کا معمول تھا کہ روزانہ وزیراعلیٰ ہاؤس جانے سے پہلے وہ بال ٹھاکرے کے پاس حاضری دینا ضروری سمجھتا تھا۔ ممبئی کا موجودہ لارڈ مئیر وشواناتھ مہا دیشور ہے جو ممبئی میں مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات میں ملوث رہا ہے اور ادے ٹھاکرے کا دست راست سمجھا جاتا ہے۔ مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے تعلق رکھنے والے بہت سے وزرائے اعلیٰ پہلے بھی گزرے ہیں اور آج کے دن بھی جن تیرہ ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) سے ہی ہے ۔ آر ایس ایس سے سیاست کا آغاز کرنے والے نریندر مودی 13سال تک گجرات کے وزیراعلیٰ رہے،جہاں مسلمانوں کا ایسا قتل عام ہوا جس کی برصغیر کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں ہندو جنونیوں کی پیش قدمی جاری تھی اور بہت سے مقامات پر انہیں قتل کیا جا رہا تھا کہ بالآخر یہ دن بھی آ گیا کہ یوگی ادتیا ناتھ جیسا شخص اتر پردیش کا وزیراعلیٰ بن گیا۔ ایک ایسا صوبہ جہاں چار کروڑ سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد کسی صورت 20کروڑ سے کم نہیں ہے اور یہ کروڑوں لوگ اب جنونیوں کے رحم و کرم پر ہیں، خاص طور پر اتر پردیش ، مہاراشٹر اور گجرات میں جہاں ہندو جنون انتہا کو پہنچ چکا ہے۔۔۔اتوار 19 مارچ کو یوگی ادتیا ناتھ نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی پہلے دن سے گوشت کی دکانوں پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ تعصب کی انتہا دیکھئے کہ بھارت کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کی ترجیحات کیا ہیں؟ تعلیم، صحت، روزگار، صنعت و تجارت یا زراعت کی بجائے اس ہندو انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل، جس کے لئے وہ کئی سال سے اشتعال انگیز تقاریر کر رہا تھا۔ اس متعصب شخص یوگی ادتیا ناتھ کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ یہ 1972ء میں ہمالیہ کے دامن میں دریائے گنگا نے کنارے واقع شمال مغربی اتر پردیش کے ضلع پوڑی گڑھوال میں پیدا ہوا جو نینی تال، ہردوار اور ڈیرہ دون جیسے مشہور اور خوبصورت پہاڑی مقامات کے وسط میں واقع ہے، بعد ازاں 2000ء میں جب اتر پردیش کے پہاڑی اضلاع کو علیحدہ کرکے اترآکھنڈ کی ریاست بنائی گئی تو یہ ضلع اس میں شامل کر دیا گیا۔ یوگی ادتیا ناتھ نے آبائی شہر سے ریاضی میں گریجویشن کی ہی تھی کہ 1991ء میں بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لئے رتھ چل پڑا۔ یہ شروع ہی سے متعصب ہندو خیالات رکھتا تھا، اِس لئے اس رتھ میں شامل ہوکر بابری مسجد شہید کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس کے بعد یہ اپنے آبائی علاقے میں نہیں گیا، بلکہ مشرقی اتر پردیش کے شہر گورکھ پور میں آباد ہو گیا اور آہستہ آہستہ ایک ایسے مندر کا پروہت بن گیا، جس کا تعلق ہندو مہاسبھا سے تھا۔ وہیں پر اس نے متعصبانہ تقریروں کے جوہر دکھانے شروع کئے اور بی جے پی میں شامل ہو کر 1998ء میں گورکھ پور کے حلقے سے لوک سبھا کا ممبر بن گیا۔ اس کے بعد وہ پانچ بار اسی شہر سے لوک سبھا میں منتخب ہوا اور 19 سال لوک سبھا میں اپنے متعصبانہ خطابات کے جوہر دکھانے کے بعد بالآخر اب اتر پردیش کا وزیراعلیٰ بن چکا ہے ۔ ان دو عشروں میں یوگی ادتیا ناتھ نے بارہا ایسی اشتعال انگیز تقاریر کی ہیں جن کا حوالہ دیتے ہوئے میرا ہاتھ کانپ جاتا ہے۔ یہ یوگی ادتیا ناتھ ہی تھا، جس نے مارچ 2011ء میں کہا تھا کہ مدفون مسلمان خواتین کی نعشوں کو قبر کھود کر باہر نکالو اور ان کی میتوں کے ساتھ بد فعلی کرو ۔ یوگی ادتیا ناتھ نے 2005ء میں بنارس کے مشہور ہندو مندر پر ایک پُرجوش تقریر کے دوران کہا کہ ہم مسلمانوں کو السلام علیکم نہیں کہنے دیں گے، بلکہ انہیں ہندوؤں کی طرح ہاتھ جوڑ کر ناک چھوتے ہوئے نمسکار کرنا ہو گا اور جو مسلمان نمسکار نہیں کرے گا، اسے بھارت سے نکال دیا جائے گا۔

2005ء میں ہی یوگی ادتیا ناتھ نے عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کی مہم شروع کی، جس میں تقریباً 1800 عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنایا گیا۔ اسی سال اتر پردیش کے ایک اور مقام ایٹاہ میں تقریر کرتے ہوئے یوگی ادتیا ناتھ نے کہا کہ اس نے اتر پردیش اور اس کے بعد پورے بھارت کو زبردستی ہندو بنانے کا سفر شروع کر دیا ہے اور وہ اس وقت تک نہیں رکے گا، جب تک بھارت میں موجود آخری مسلمان یا عیسائی ہندو نہ ہو جائے۔ جو مسلمان یا عیسائی ہندو نہیں ہوں گے یا تو قتل کر دئیے جائیں گے یا انہیں بھارت سے نکل جانے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ نومبر 2015ء میں یوگی ادتیا ناتھ نے بھارتی فلمی اداکار شاہ رخ خان کے بارے میں کہا کہ شاہ رخ خان اور حافظ سعید میں کوئی فرق نہیں اور دونوں ملیچھ ہیں۔ اس نے کہا کہ شاہ رخ خان بھارت سے چلا جائے، ورنہ وہ اسے ممبئی کی سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور کر دے گا۔ تقریباً ایک سال قبل جون 2016ء میں یوگی ادتیا ناتھ نوبل انعام یافتہ راہبہ مدر ٹریسا پر چڑھ دوڑا اور کہا کہ اسے نوبل انعام اِس لئے دیا گیا،کیونکہ وہ پورے بھارت کو عیسائی بنانے کے مشن پر کام کر رہی تھی۔ اگست 2014ء میں اتر پردیش کے شہر اعظم گڑھ میں کی گئی ایک تقریر کو یوگی ادتیا ناتھ نے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا، جس میں اس نے کہا کہ اگر ایک ہندو مارا جائے تو اس کے بدلے میں سو مسلمان قتل کرو اور اگر کوئی ایک ہندو لڑکی کسی مسلمان سے شادی کر لے تو اس کے بدلے میں سو مسلمان لڑکیوں کی ہندو ؤں سے زبردستی شادی کی جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔کل رات یو ٹیوب پر اس کی مختلف اشتعال انگیز تقاریر سنتا رہا جہاں ا س کی درجنوں ایسی تقریریں موجود ہیں، صرف نمونے کے طور پر ان میں سے کچھ کا حوالہ دیا تاکہ قارئین کو یوگی ادتیا ناتھ کا مائنڈ سیٹ سمجھ میں آ جائے۔۔۔پاکستان میں امن کی آشا کے نام پر سیاست کرنے والے آج بھی موجود ہیں، جنہوں نے نہ تو قیام پاکستان کو دل سے تسلیم کیا ہے اور نہ ہی وہ دو قومی نظریہ کی اساس سے بہرہ ور ہیں، اگر جانتے بھی ہیں تو غالباً انہیں اپنے کاروباری مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ ان لوگوں کی آنکھیں نہ تو بال ٹھاکرے ، ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی کے رویوں سے کھلیں اور نہ ہی انہیں نظر آتا ہے کہ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے عزائم کیا ہیں۔ اگر یوگی ادتیا ناتھ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکتا تو اتنی مہربانی ضرور کریں کہ سقوطِ ڈھاکہ کے واقعات کو ایک بار ضرور پڑھ لیں، کیونکہ ہندو جنونیوں کے عزائم صرف بھارت کے لئے نہیں،بلکہ پورے برصغیر کے لئے ہیں۔اسی لئے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے ایک ہزار سال کی تاریخ کا بدلہ لینے کی بات کی تھی اور اب نریندر مودی ڈھاکہ میں بیٹھ کر اور سینہ تان کر کہتا ہے کہ پاکستان ہم نے ہی توڑا تھا۔اگر اب بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو بات یوگی ادتیاناتھ پر نہیں رکے گی، بلکہ اس سے کہیں آگے تک جائے گی۔

مزید :

کالم -