عوامی بس میں گُل زمینوں کا سفر

عوامی بس میں گُل زمینوں کا سفر
 عوامی بس میں گُل زمینوں کا سفر

  

جن لوگوں نے کرشن چندر اور قدرت اللہ شہاب کو پڑھ رکھا ہے انہیں معلوم ہو گا کہ آزادی سے پہلے جموں اور پھر سرینگر تک جانے والے اکشر مسافر سیالکوٹ کے راستے نندہ بس سروس پہ سفر کیا کرتے تھے ۔ اسی کمپنی کے ’جد امجد‘ گلزاری لال نندہ کانگریسی لیڈر کے طور پر بھارت میں مرکزی وزیر رہے اور پنڈت جواہر لعل نہرو اور پھر لال بہادر شاستری کے انتقال پر قائم مقام وزیر اعظم بھی بنے ۔ بہر حال ، آج کے کالم میں میرا مقصد نندہ خاندان کی تاریخ بیان کرنا نہیں ۔ صرف میٹرو فِیڈر سروس کی نئی بسوں کو چکھنے کے بعد دل میں ایک یاد کی لہر سی اٹھ رہی ہے کہ چھوٹی عمر میں آدھی سواری کے طور پر ہم جن لاریوں کے ذریعے اول اول لذتِ سفر سے آشنا ہوئے وہ اسی نندہ بس سروس کو مشرف بہ اسلام کر کے ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کے نام سے سڑکوں پہ چھوڑ ی گئی تھیں ۔

اب اگر آدمی بسوں کی ظاہری شکل صورت پہ جائے تو اس دور کی تراپڑ تراپڑ لاری اور آج کی ائر کنڈیشنڈ کوچ کے درمیان کوئی زمین آسمان کا فرق دکھائی نہیں دے گا ، ان معنوں میں کہ 1909 ئسے لے کر رواں سال کے ماڈلوں تک ٹوٹ بٹوٹ سمیت ہر کسی کی موٹر اسی قدیم اصول کے تحت چل رہی ہے کہ ’ہینڈل ایک تو پہئیے چار ‘ ۔ البتہ انجن کے محل وقوع کو بنیاد بنائیں تو پچھلی صدی کے وسط تک ’پھینی‘ بسیں کم ہوا کرتی تھیں اور ’منہ والی‘ زیادہ، جنہیں بعد میں باالترتیب ڈبہ اور راکٹ کہا جانے لگا ۔ بیرونی انجن والی لاریوں میں چڑھائی چڑھنے کی کچھ اضافی طاقت ہوا کرتی تھی ، اس لئے پاکستان بننے کے بعد بھی جنرل ایوب خان کے ابتدائی دور تک راولپنڈی سے کشمیر جانے والی مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کا پہاڑی بیڑہ اسی ساخت کی لاریوں پر مشتمل رہا ۔ جب ہمارے لئے کشمیر کی چڑھائی زیادہ مشکل ہوگئی تو پرانی وضع کی یہ بسیں میدانی اضلاع کے قصباتی روٹوں پہ چلنے لگیں ، جیسے لاہور سے شرقپور اور نارنگ منڈی ، سیالکوٹ سے چاروہ چوبارہ اور کنگرہ موڑ ۔ ان میں سے بعض میں اگلی پانچ نشستوں کو چھوڑ کر باقی سیٹیں ایک دوسری کے آگے پیچھے نہیں بلکہ لمبائی کے رخ پر ایک طویل قطار کی صورت میں آمنے سامنے لگی ہوتی تھیں ۔ یعنی اگر آپ کی بس وزیر آباد سے گوجر خان کے لئے روانہ ہوئی ہے تو آدھے مسافروں کا رخ منڈی بہاالدین کی جانب ہو گا اور با قی نصف کا بھمبر کی طرف ۔ بیچ کی جگہ کو ویہڑہ کہتے تھے ، جو درجنوں انسانوں اور ایک آدھ ممالیہ جانور کی مہمان نوازی کرتے ہوئے بھی تنگئی داماں کی شکایت نہ کرتی ۔ یوں کہنا چاہئیے کہ اس آنگن میں انسان اور بکری ایک ہی گھاٹ پہ سفر کرتے ۔

ذاتی مشاہدہ کو دہراؤں تو پرانے لاہور کی شاہ عالمی کے باہر سرکلر روڈ پر صبح کے جھٹپٹے میں ماماں جی کے ساتھ پہلی بس پکڑنے کا منظر آنکھوں میں گھوم جاتا ہے ۔ پہلی بس محض ایک سواری نہیں تھی ، بلکہ اسے کچھ اصول پرستی ، خاندانی وقار اور ایک خفیف سی پرہیز گاری کا معاملہ بھی سمجھا چاہئیے ۔ اس کی خاطر بچوں کو ’فجریں‘ جلد اٹھانے کے لئے سرِ شام سلا دیا جاتا ، وقت بچانے کی خاطر صرف چائے رس کا ناشتہ ملتا اور صبحدم گلیوں کے سناٹے میں اپنے ہی جوتوں کی گونج نیم اجنبی سی محسوس ہوتی ۔ اڈے پر دور ہی سے صدا آ رہی ہے ’سیالکوٹ ، سیالکوٹ ، سیالکوٹے‘ اور آخری ’ے‘ اتنی لمبی اور پر تپاک جیسے شہر اقبال کو کھینچ کر اپنے پاس بلایا جا رہا ہو ، لیکن یہ سیلف سٹارٹ بس نہیں تھی کہ چابی دکھائی اور حرکت شروع ہو گئی ۔ اس لاری کا مُوڈ بنانے کے لئے اسے علی الصبح گھنٹہ آدھ گھنٹہ گرم کرنا پڑتا ، تب جاکر مائل بہ حرکت ہوتی ۔

آزادی کے بعد ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کی ملکیت نندہ فیملی کے ہاتھ سے نکل کر مجلس احرار اسلام کے شیخ حسام الدین کے پاس آ چکی تھی، لیکن پہلے دس بارہ برسوں میں مسافروں کے لئے بسوں میں درج حفاظتی تدابیر قدرے سیکولر نوعیت ہی کی رہیں ۔ جیسے ’سر اور بازو باہر مت نکالیں‘ ’شیشے احتیاط سے چلائیں‘ ’ فرنٹ سیٹ پہ سونا منع ہے‘ ۔ مزید احتیاط کے طور پر ڈرائیور کے عین سامنے ’ حد رفتار تیس میل فی گھنٹہ ‘ لکھ کر دائیں ہاتھ آگ بجھانے کا آلہ نصب کر دیتے اور اس سے ذرا باہر وہ گیند نما ہارن جو تیزی سے دبانے پر پہلے تو ’پونہہ ، پونہہ‘ کی مختصر آواز نکالتا اور پھر ایک بڑا سا ’پوآں ‘ سنائی دیتا ۔ سیالکوٹ کی معروف کنک منڈی اور ریلوے روڈ پر جبکہ لاہور پہنچ کر بڈھے دریا کو پار کرتے ہوئے یہ ’پونہہ پونہہ ، پو�آں‘ ایک مسلسل لے میں تبدیل ہو نے لگتی ۔

مسافروں کے لئے بسوں کی اندرونی ہدایات پر دو قومی نظریہ کا اثر 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد نمایاں ہونے لگا تھا ۔ پھر بھی ابتدا میں یہ اخلاقی اندراجات ذرا عمومی نوعیت کے تھے ۔ مثال کے طور ، ٹول بکس کو چھوڑ کر پہلی پانچ سیٹوں پر ’برائے مستورات ‘ کے الفاظ اور یہ انتباہ کہ ’ بوقت ضرورت یہ سیٹیں خالی کرنی پڑیں گی‘ ۔ اس کے علاوہ ’تمباکو نوشی سے پر ہیز کریں ‘ ’خاموشی عبادت ہے ‘ ’کنڈکٹر سے اخلاق اپنی عزت‘ ۔ جنرل یحیی کے عہد میں ان اقوال زریں پر دنیا کی بے ثباتی چھانے لگی تھی ’بس کا مالک میں نہیں ، مالک خدا ہے ‘ اور ’چلنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے ، شائد یہ تیری زندگی کا آخری سفر ہو ۔‘ سقوط ڈھاکہ تک ان نعروں کی ترتیب پر اتنی جذباتیت غالب آ گئی کہ غلط سب ایڈٹنگ کی وجہ سے ایک بس کے داخلی فرنٹ پر یہ جڑواں جملہ بھی توجہ کا مرکز بنا ’مسلمانو ، نماز قائم کرو ۔ حد رفتار تیس میل فی گھنٹہ‘ ۔ فرد کی طرح ہر معاشرتی اکائی کی ایک اپنی نفسیات ہوتی ہے ۔ ایوب خان کے زوال کے ساتھ ہی ’ترے جانے کے بعد تری یاد آئی‘ بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا، لیکن ایک ایک کرکے ان تمام مراحل کی نشاندہی مشکل ہے جن سے گزر کر یہ وردی والی تصویر ایک عظیم الشان فنکارانہ تحریک بن گئی تھی ۔ شروع میں الگ الگ مصرعے چیدہ چیدہ ٹرکوں کے عقبی حصے کی زینت بنے ، جیسے ’جانے والے ترے ٹائروں کے نشاں باقی ہیں ‘ ۔ پھر مصوری ٹرکوں کے حصے میں آگئی اور شاعری بسوں کے ، لیکن ٹائروں والے نمونہ ء کلام میں ’حمزہ‘ کے دبنے سے جو مسئلہ پیدا ہوا یہ ادبی تحریک اس کے اثرات سے نہ نکل سکی ۔چنانچہ بسوں اور ویگنوں پہ ہزاروں میل کا سفر کر لینے کے باوجود اپنی زندگی میں دو ہی شاعرانہ نمونے ایسے دیکھے جو وزن میں لگے ۔ پہلا شعر تھا :

اگر تم خواب میں آتے تمہارا کیا بگڑ جاتا

ہماری عید ہو جاتی ، تمہاری سیر ہو جاتی

اس تاریخی موقعے پر دیرینہ دوست ساجد پیر زادہ کے ساتھ لارنس پور کی فئیر پرائس شاپ سے ایک ایک گرم کوٹ کا کپڑا بغل میں دبائے واہ چھاؤنی واپس آ رہے تھے کہ ہماری تیز رفتار پشاوری بس کے خوش گفتار کنڈکٹر نے ہماری مسرت کو بھانپ لیا اور دونوں کی سخن فہمی کی داد یہ کہہ کر دی : ’خو اسی لئے تو لکھا ہے کہ تم پڑھے‘۔

دوسرے نمونہء کلام کا واقعہ اتنا سیدھا سادہ نہیں ۔ بس تھی سالٹ رینج نام کی ، رنگ تھا سفید اور سفر تھا سرگودھا سے راولپنڈی براستہ خوشاب ، کھوڑ ، تلہ گنگ ۔ اب جو ڈرائیور کے عین سامنے دیکھا تو نہائت خوشخط دو شعر درج تھے ۔ پڑھ کر طبیعت ’ہری‘ ہو گئی :

کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اذنِ کلام

ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں

فقط اس جرم میں کہلائے گنہگار کہ ہم

بہر ناموس وطن جامہء تن مانگتے ہیں

زیادہ حیرت اُس نام پہ ہوئی جو اشعار کے نیچے جلی حروف میں درج تھا ’فخر ایشیا احمد ندیم قاسمی‘ ۔ اپنی حیرت دور کرنے کے لئے کالج کے دنوں کے ساتھی اور منفرد شاعر شعیب بن عزیز سے تذکرہ کر بیٹھیے تو انہوں نے بس کمپنی کی ملکیت ، وضع قطع اور روٹ کی تفصیلات جاننے کے بعد ایک انقلابی نتیجہ نکالا ۔ کہنے لگے تم مانو یا نہ مانو احمد ندیم قاسمی نے اپنے آبائی گاؤں انگہ یا نواحی قصبے نوشہرہ سے پنڈی جانے کے لئے کبھی نہ کبھی اس بس پہ سفر کیا ہو گا اور ڈرائیور کے اصرار پر یہ اشعار خود لکھوائے ہوں گے ۔ اس درست نمونہ ء کلام پہ میری خوشی شرمندہء تحقیق نہیں ہو سکی ، مگر یہ خیال کئی بار آیا کہ اگر ندیم صاحب کی زندگی میں ان سے یہ واقعہ چھیڑا جاتا تو کوئی نہ کوئی دلپذیر داستان ضرور سننے کو ملتی ۔ نئی میٹرو فِیڈر گاڑیاں اپنی صفائی ستھرائی ، عملے کے شائستہ رویے اور آمد و رفت میں ایک گونہ باقاعدگی کی بدولت اس دور کی اومنی بس سروس کا مقابلہ کرتی دکھائی دیتی ہیں جب قوم کی تقریباً متفقہ رائے تھی کہ ہمارے ترقی پذیر ملک میں طبقاتی فرق کو مٹانے کے لئے تعلیم ، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے قومی ملکیت میں ہونے چاہیءں، لیکن اومنی بسوں کی طرح نئے زمانے کی یہ عوامی کوچز بھی تغزل سے یکسر عاری دکھائی دیتی ہیں ۔ اگر میری تجویز کو مذاق نہ سمجھا جائے تو ان بسوں میں شعیب بن عزیز کے مشورے سے آج بھی ایسے تر و تازہ ، فکر انگیز اور با وزن اشعار درج کئے جا سکتے ہیں جن کی بدولت لاہور کے چودہ رُوٹوں کی مسافت کشادہ تر گُل زمینوں کا سفر بن جائے۔

مزید :

کالم -