اُچا تے لُچا

اُچا تے لُچا
 اُچا تے لُچا

  

سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بڑے ہی خوشگوار موڈ میں صحافیوں کو ایک ضرب المثل سُنا کر سب کو محظوظ فرما رہے تھے۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ اُن کا اشارہ کس کی طرف تھا، کیونکہ پاکستان میں ایسے لوگوں کا ہی طوطی بول رہا ہے۔ ہر کام میرٹ کے بغیر ہوتا ہے، اِس لئے میرٹ کے تعین میں غلطیاں تو روز ہو رہی ہیں اور اتنی باریک بینی سے یہ قوم کس کو دیکھتی ہے؟اِسی طرح انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ وہ پنجاب کوواپس لے لیں گے۔ بحیثیت ایک سابق صدر کے انہیں پورے پاکستان کی بات کرنی چاہئے تھی، کیونکہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پورے پاکستان کے لیڈر تھے۔ ہاں یاد آیا صرف مغربی پاکستان کے لیڈر تھے، اِس لئے یہ پنجاب کو لینے والی بات کچھ جچی نہیں۔ سیاسی طور پر پیپلز پارٹی مُلک کی مقبول ترین پارٹی رہی ہے،یہ بات تو سب مانتے ہیں، مگر2013ء کے الیکشن میں پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو گئی، جس کی یقیناًکوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی۔

کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکی، اِسی لئے آصف علی زرداری نہ چاہتے ہوئے بھی تین سال کے لئے مُلک سے باہر چلے گئے اور اب جب حالات تھوڑے بدلے ہیں تو واپس آ کر انہوں نے پنجاب کو لینے کی بات کی ہے جو خوش آئند ضرور ہے ۔۔۔ اُنہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ پنجاب سے سیٹیں لے کر اپنی اکثریت بنائیں۔ مگر جو اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وہ پنجاب کو بنانے کے متعلق ہیں۔ ذرا دیکھیں سندھ کو کیا بنا دیا۔ کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، اُسے اندھیروں میں ڈبوئے رکھنے کا اعزاز کس کو حاصل رہا ہے اور جب سے رینجرز اور فوج نے کارروائیاں کی ہیں، کراچی کا نہ صرف امن بحال ہوا ہے، بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بہتر ہوئی ہیں،مگر سندھ کے عوام کو کیا ملا؟ کوڑے کے ڈھیر تک تو سندھ حکومت سے اٹھائے نہیں جاتے، اگر ملک ریاض صفائی کروا دے تو اُس کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اِسی طرح لاڑکانہ کی سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔ حیدر آباد اور لاڑکانہ کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کی لمبی فہرست ہے، جس پر کام کروانے کی بجائے حکومتِ سندھ بالکل خاموش ہے، جبکہ سرکلر لائن کا منصوبہ جب سے شروع ہواہے، تب سے کئی دفعہ اس کا افتتاح ہو چکا ہے۔ سندھ کو بنانے کے چکر میں سکھر کی مثال بھی سامنے رکھی جائے، پینے کے صاف پانی سے محرومی، سٹریٹ کرائم میں اضافہ، ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر، پانی کا بحران،ٹینکر مافیا، لینڈ مافیا، عدالتوں میں فنڈز کے بارے میں کیس، نقل کا رجحان، تعلیم کا پست معیار، وزراء کے سکینڈل اور بلیم گیم سے اِن سب کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش بڑی ہی مضحکہ خیز باتیں ہیں۔

لگتا ہے پنجاب کو دوبارہ پیپلز پارٹی کا گڑھ بنانے کی بات کرنے والے آصف علی زرداری نے کبھی سکھر، لاڑکانہ، حیدر آباد اور دیگر شہروں کا دورہ نہیں کیا، وہاں کون سا سندھ اتنے برسوں سے بن رہا ہے۔ ہم ترقی کے خلاف نہیں، مگر باتوں میں ترقی اور عمل میں ترقی کا یہی فرق ہے جو پنجاب اور سندھ میں دکھائی دے رہا ہے۔ بصد شوق آیئے، پنجاب کو پی پی پی کا گڑھ بنایئے، لوگ آپ کو دُعائیں دیں گے، مگر کہیں سندھ کی مثال آڑے نہ آ جائے، اِس لئے تمام سیاست دانوں کو بولنے میں احتیاط برتنی چاہئے،کیونکہ گفتار کے ساتھ کردار و عمل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پنجاب پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا ہے اور اب بھی بن سکتا ہے، مگر اس کے لئے لوگوں کے ذہنوں میں جو خدشات ہیں، اُنہیں دور کریں۔ وہ دور گیا جب روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پر دُنیا پاگل ہو جاتی تھی۔اب پاکستان سے غربت کسی حد تک کم اور مڈل انکم گروپ مضبوط ہو چکا ہے۔ لوگ کام دیکھتے ہیں، نام نہیں کہ کون کتنا اُچا ہے اور کون۔۔۔اب تو مُلک کا سوچیں، اس کی آنے والی نسلوں کا سوچیں، دوہرے معیار نہ اپنائیں۔ قائد کی راہ اپنائیں، کرپشن مُلک میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اس سے نجات دلوائیں۔۔۔ یہ ہو گا ’’بنانا‘‘ اور یہی ہو گا منشور جو پارٹیوں کے مقدر کا فیصلہ کرے گا۔

مزید :

کالم -