دشمنوں کو راستہ دکھانے والے!

دشمنوں کو راستہ دکھانے والے!
 دشمنوں کو راستہ دکھانے والے!

  

کئی برس تک پابندِ سلاسل رہنے والے قبلہ حامد سعید کاظمی کی رہائی پر اُنہیں مبارکباد دینے کے لئے آصف علی زرداری اُن کے گھر ملتان پہنچے۔ آصف علی زرداری کی رمزیں سوائے اُن کے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ جب ملتان میں وہ میڈیا سے ہمکلام ہو رہے تھے تو اُن کی ایک جانب یوسف رضا گیلانی اور دوسری جانب حامد سعید کاظمی بیٹھے تھے۔ حامد سعید کاظمی الزامات سے رہائی پا چکے تھے اور یوسف رضا گیلانی امریکیوں کو ویزے دینے کے الزام کی زد میں ہیں۔ ملتان کے سیاست دانوں نے بھی کیا مقام پایا ہے،جوبھی بڑا سکینڈل ہے، وہ اُن سے آ جڑتا ہے۔حج سکینڈل کی باز گشت حامد سعید کاظمی کی بریت کے باوجود اب عرصے تک سنائی دیتی رہے گی۔اگرچہ آصف علی زرداری نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر اس کیس کا الزام دھر کر اس پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جس دور میں یہ واقعہ ہوا،اُس دور کے حاجی صاحبان آج بھی حج انتظامات کے ناقص ہونے کی دہائی اور گواہی دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کچھ تھا ہی نہیں اور ایک بے بنیاد الزام کے تحت ساری کارروائی ہوئی۔ الزامات سچ تھے اور شواہد بھی سامنے آئے، اب جہاں تک اس کے ذمہ داروں کا تعلق ہے تو اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ کرپشن ہوئی ہی نہیں تھی اور صرف چیف جسٹس کے سو موٹو ایکشن کی وجہ سے یہ سکینڈل بنا، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔۔۔مجھے تو آصف علی زرداری کی ذہانت اور حامد سعید کاظمی کی معصومیت پر رشک آ رہا ہے، جب سے آصف علی زرداری ملتان میں اُنہیں مبارکباد دے کر گئے ہیں،یقیناًحامد سعید کاظمی خوشی سے نہال ہوں گے کہ پیپلزپارٹی کے مالکِ کل نے گھر آ کر مبارکباد دی اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔غالباً اب حامد سعید کاظمی پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں جانے کا سوچیں گے بھی نہیں۔

میرے ذہن میں وہ ساری فلم چل رہی ہے جو حامد سعید کاظمی کی گرفتاری سے شروع ہوئی اور پیپلزپارٹی، اقتدار میں ہونے کے باوجود اُن کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ وہ وزارت سے گئے، آزادی سے محروم ہوئے، بدنامی کی وادئ تیرہ سے گزرے، اپنی بے گناہی کی دہائی دیتے رہے، مگر باہر نہ آ سکے۔ پیپلزپارٹی عملاً اُن سے لاتعلق ہو گئی۔ اُن کی رہائی کے لئے جو بھی احتجاج ہوئے وہ جماعتِ اہلِ سنت نے کئے۔ پیپلزپارٹی نے کوئی جلسہ کیا، نہ جلوس نکالا، جب سے آصف علی زرداری نے یہ کہا ہے کہ انہوں نے حسین حقانی سے جوکام لینا تھا لے لیا، اب اُن سے کوئی تعلق نہیں، اُس وقت سے یہ عقدہ بھی حل ہو چکا ہے کہ وہ کام لینے کے بعد کیوں فارغ کر دیتے ہیں؟اُنہیں جب کسی میں کچھ نظر نہیں آتا تو اُسے ڈسپوزایبل ڈبے کی طرح اُٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں، البتہ اِس بات کا دھیان ضرور رکھتے ہیں کہ کل کلاں اگر اس کی ضرورت پڑے تو واپس منگوا سکیں۔ ذرا پچھلے چار پانچ برسوں میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں، پریس کانفرنسوں اور پارٹی کارکنوں سے گفتگو کا ریکارڈ دیکھئے، آپ کو کہیں حامد سعید کاظمی کا تذکرہ نہیں ملے گا، کوئی احتجاج نہ سوال، بس ایک لاتعلقی اورخاموشی۔۔۔ اس کے برعکس ایان علی اور ڈاکٹر عاصم حسین کی حمایت میں ان کی زبان شعلہ بار نظر آئے گی۔ دونوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو جمہوریت دشمنی اور انتظامی کارروائی سے تعبیر کرنے کا رویہ ملے گا۔ سردار لطیف خان کھوسہ، جو پیپلزپارٹی کے ہائی پروفائل کیسوں میں وکیل ہوتے ہیں، کبھی ایان علی کی طرح حامد سعید کاظمی کے لئے ٹی وی ٹاک شوز میں گفتگو کرتے نظر نہ آئے۔

اپنی ذاتی اور خاندان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں اور قانونی جنگ سے رہائی پانے کے بعد حامد سعید کاظمی باہر آئے تو آصف علی زرداری وکٹری کا نشان بنانے ملتان پہنچ گئے۔ آصف علی زرداری کسی کمزور گھوڑے پر کبھی شرط نہیں لگاتے اور نہ وقت ضائع کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حامد سعید کاظمی قید و بند کاٹنے اور بے گناہ قرار پا کر باہر آئے ہیں تو اب ایک وننگ ہارس ہیں، اُن کی اس حیثیت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے،سو وہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اُنہیں مبارکباد دینے ملتان پہنچے۔ حامد سعید کاظمی جنہوں نے ہمیشہ مذہبی جماعتوں کی سیاست سے ہٹ کر لبرل سیاست کرنے کی خواہش کی ہے، اس پر پھولے نہیں سما رہے ہوں گے۔ وہ ماضی کی ساری تکلیفیں اور رنج بھول گئے ہوں گے۔انہوں نے اس بات پر بھی مٹی ڈال دی ہو گی کہ اُن کی گرفتاری کے فوراً بعد پیپلزپارٹی نے اُنہیں ڈس اون کر دیا تھا۔ پیپلزپارٹی حج جیسے مذہبی فریضے میں لوٹ مار کے الزام کو اپنے ساتھ نہیں جوڑنا چاہتی تھی،چونکہ اس کی وجہ سے ووٹ بینک کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ آج جب حامد سعید کاظمی باہر آ گئے ہیں تو اُنہیں نہ صرف پیپلزپارٹی نے اون کر لیا ہے،بلکہ آصف علی زرداری نے انہیں پارٹی کا اثاثہ بھی قرار دیا ہے ۔ دیکھو اے ساکنانِ خاک اِس کو کہتے ہیں عالم آرائی۔

مجھے ڈر ہے کہ پیپلزپارٹی کہیں الزامات کی زد میں آتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی سے بھی یہی رویہ اختیار نہ کرے۔ اُن کی کرپشن کے حوالے سے جو الزامات لگتے رہے، پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کو اُن سے کوئی غرض نہیں، ایسے الزامات کو تو وہ اپنے لئے زیور سمجھتے ہیں، تاہم امریکی ایجنٹوں کو ویزے دینے کا معاملہ سامنے آنے پر یوسف رضا گیلانی جس طرح عوام کی نظروں سے گر گئے ہیں اور انہیں وضاحتیں دینے کے لئے نہ تو الفاظ مل رہے ہیں نہ دلائل، اُسے دیکھتے ہوئے کہیں حسین حقانی کی طرح آصف علی زرداری اُن سے بھی لاتعلق نہ ہو جائیں۔ مَیں دعوے سے یہ کہتا ہوں کہ آج کل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے جس خط کا بہت ذکرہے اور جس میں امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ امریکیوں کو بغیر چھان بین اور پوچھ گچھ کے ویزے جاری کئے جائیں، وہ سید یوسف رضا گیلانی نے کسی صورت از خود نہیں لکھوایا ہو گا، اس میں سو فیصد صدر آصف علی زرداری کی ہدایت شامل ہو گی۔ ذرا سوچئے جو شخص آصف علی زرداری کے سوئس بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے سوئس عدالت کو خط نہیں لکھ سکتا اور اپنی وزارتِ عظمیٰ گنوا بیٹھتا ہے، وہ بھلا ایسا خط اُن کی اجازت کے بغیر کیسے لکھ سکتا ہے؟ ایک تابعدار وزیراعظم کے طور پر یوسف رضا گیلانی نے جو کردار ادا کیا، آج انہیں اس کے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی بودی دلیلوں سے امریکی ایجنٹوں کو ویزے دینے کے خط کا دفاع کر رہی ہے۔ قوم کو بے وقوف سمجھنے والے یہ دلیل بھی لا رہے ہیں کہ خط لکھ بھی دیا گیا تھا تو سفارت خانے میں موجود ملٹری اتاشی کو اِن ویزوں پر اعتراض کرنا چاہئے تھا۔ ایک طرف وزیراعظم اور دوسری جانب سفیر کے احکامات کی موجودگی میں کیا ملٹری اتاشی یہ کام کر سکتا ہے؟ کیا سفیر کو اپنی سفارت میں لامحدود اور کلیدی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، کیا کوئی ماتحت اُس کے اختیارات میں مداخلت کر سکتا ہے؟ یہ کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟۔۔۔ مُلک کو خالہ جی کی دکان سمجھ کر چلانے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہئے۔ بے خوفی کی انتہا یہ ہے کہ مُلک کی سلامتی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے بھی باقاعدہ تحریری احکامات جاری کئے جاتے رہے۔

مسلم لیگ(ن) پاناما لیکس کی زد میں ہے تو پیپلز پارٹی کو ویزا لیکس نے نڈھال کر دیا ہے۔ یہ کیسا نظامِ سیاست ہے جس میں ذاتی مفاد، قومی مفادات پر غالب آ جاتا ہے۔ مال اور اقتدار کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے والے مُلک کے خیر خواہ کیسے ہو سکتے ہیں؟۔۔۔ یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں الزامات کبھی ثابت نہیں ہوتے اور ہر بااثر ملزم باعزت رہا ہو جاتا ہے،مگر جو حقائق تاریخ کی لوحِ محفوظ پر ثبت ہو جاتے ہیں، اُنہیں مٹایا نہیں جا سکتا۔ قانونی موشگافیاں ایان علی کو بھی رہا کرا سکتی ہیں اور حامد سعید کاظمی بھی باعزت بری ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ سب کچھ درست قرار پا جائے۔ حامد سعید کاظمی جتنے برس جیل میں گزار آئے ہیں، ان پر الزام ثابت ہو جاتا تب بھی شاید اتنے ہی سال کی سزا ہونی تھی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ہم مسلسل زوال کی سمت جا رہے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک حقیقت سامنے آتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ جنہیں چوکیدار بنایا جاتا ہے، وہی ڈاکو کیسے بن جاتے ہیں، جو اپنے حلف میں مُلک سے وفاداری اور اُس کی حرمت و سلامتی کا حلف اٹھاتے ہیں، وہ اس کے برعکس عمل کیسے کر گزرتے ہیں؟ اُس وقت انہیں گھن نہیں آتی، خوفِ خدا دِلوں میں نہیں جاگتا، اپنے منصب کے تقاضوں کو ذاتی مفادات کے لئے پس پشت ڈالنے والے بھلا قوم کے رہنما کیسے ہو سکتے ہیں؟ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے:

یہ شیوہ بس ہمارا ہے کہ جب بھی قتل کو آئیں

اندھیرے موسموں میں دشمنوں کی رہبری کرنا

مزید :

کالم -