ریٹنگ بڑھانے کا منفی رجحان

ریٹنگ بڑھانے کا منفی رجحان

  

پاکستان سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ٹی وی چینلوں پر ہرکوئی بازی لے جانے کے چکر میں کیوں ہوتا ہے، آسمان کے برابر ریٹنگ حاصل کرنا کیوں ضروری سمجھا جاتا ہے،مُلک پہلے ہی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ یہ ٹی وی پروگرام مزید مسائل پیدا کرتے ہیں یہ ریمارکس اس وقت دیئے گئے جب سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ایک شہری جبران ناصر کی طرف سے دائر کردہ توہینِ عدالت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ توہینِ عدالت کیس میں معاملہ بنیادی طور پر عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے۔ تیسرے فریق کی کسی درخواست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ درخواست نجی ٹی وی کے اینکر پرسن کے خلاف دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج نے ٹی وی چینلوں کی ریٹنگ ریس کے حوالے سے حقائق بیان کرتے ہوئے اہم اور ضروری سوالات اٹھائے ہیں، جن پر باشعور حساس اور ذمے دار سنجیدہ طبقے کو غور کرنا چاہئے۔ ٹی وی پروگراموں کے حوالے سے اس شکایت میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ریٹنگ بڑھانے کے لئے ٹی وی چینلز اپنے حقوق کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرائض کی ادائیگی میں توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ سنسنی پھیلا کر اور سبقت لے جانے کے چکر میں صرف اپنے چینل کی ریٹنگ ہی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے پیدا ہونے والے جن مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے، ان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو مختلف درخواستیں پیش کر کے کام کا بوجھ بڑھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توہین عدالت کا معاملہ بھی اٹھایا جاتا ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ٹی وی چینلوں کی ریٹنگ کے حوالے سے جو شکایات پیدا ہو رہی ہیں، ان میں خاطر خواہ کمی لائی جائے۔ ذمے دارانہ اور بے حد سنجیدہ رویے کے ساتھ ٹی وی پروگرام پیش کرنے کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہ کیا جائے۔

مزید :

اداریہ -