دور�ۂ ویسٹ انڈیز شاہینوں کے مستقبل کا انحصار۔۔۔۔۔۔ اس سیریز پر

دور�ۂ ویسٹ انڈیز شاہینوں کے مستقبل کا انحصار۔۔۔۔۔۔ اس سیریز پر

  

پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز کے لئے کیربین سر زمین پہنچ گئی ہے ۔ ٹیم پورے جوش و خروش اور ر جیت کے عزم کے ساتھ گئی ہے اور یہ دورہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے بہت اہمیت کاحامل ہے اس وقت قومی ٹیم جن مشکلات کا شکار ہے وہ سب کے سامنے ہے جب سپاٹ فکسنگ میں کھلاڑیوں کے خلاف تحققیات بھی جاری ہیں ایسے موقع پر قومی ٹیم کے لئے عمدہ پرفارمنس دکھانا آسان مرحلہ نہیں ہے مگر اس کے باوجود قومی ٹیم کے کھلاڑی اور کپتان سرفراز احمد اس حوالے سے پرعزم ہیں کہ ہم اپنی توجہ سیریز پر مرکوز رکھتے ہوئے عمدہ کھیل پیش کریں گے ۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیمیں ٹی ٹونٹی کرکٹ سیریز کے پہلے میچ میں آج مدمقابل آ رہی ہیں اور اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان ویسٹ انڈین سر زمین پر میچوں کی بات کی جائے تو ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے ۔ پاکستان کرکٹ کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سیریز میں ویسٹ انڈیز کو شکست دینے کے بعد ہی قومی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں براہ راست شرکت کی اہل ہوگی اس وقت قومی کرکٹ ٹیم کی رینکنگ پوزیشن بہت کمزور ہے اور اس کے لئے اس سیریز میں اس کی کامیابی بہت ضروری ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اس حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ بطور کپتان یہ سیریز میرے لئے بہت اہیمت کی حامل ہے او ر جس طرح سے مجھ پر مینجمنٹ نے اعتماد کیا ہے میں اس پورا اترنے کی کوشش کروں گا پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں جس طرح سے نیا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے او ر امید ہے کہ اس سیریز میں ٹیم شامل کھلاڑی عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے اور امید ہے کہ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف اس اہم سیریز میں عمدہ کھیل سے شائقین کے دل جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ویسٹ انڈیز نے پاکستان کیخلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے 16رکنی ٹیم کا اعلان کردیاٹیم میں کارلوس بریتھ ویٹ (کپتان)، سیمول بدری، جوناتھن کارٹر ۔ آندرے فلیچر،جیسن ہولڈر،ایون لوئس، جیسن محمد،سنیل نارائن شامل ویراسمی پرمول ، کیرون پولارڈ، روو مین پاول، مارلن سیمیولز۔ لینڈل سمنز جیروم ٹیلر، چیڈویک والٹن اور کیسویک ولیمز یم میں شامل ہے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف اس کی سر زمین پر سیریز پاکستان کے لئے ہمیشہ ہی بہت مشکل ثابت ہوئی ہے کیونکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ان ٹیموں میں شما ر کی جاتی ہے جو اپنی سر زمین پر حریف ٹیم کو ہمیشہ ٹف ٹائم دیتی ہے اور اس کے لئے جیت بہت مشکل بنادیتی ہے پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت ایسے حالات سے گزر رہی ہے جب ٹیم کے لئے کپتان چناؤ سمیت دیگر مسائل بھی ہیں قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان سرفراز احمد اور کھلاڑیوں کے لئے یہ دورہ بہت اہمیت کاحامل ثابت ہوگا جبکہ اگر اس سے قبل کھیلی جانے والی آسٹریلیا کے خلاف سیریز کی بات کی جائے تو اس سے پاکستان کی اچھی یادیں وابستہ نہیں ہیں اور اس سیریز میں پاکستان کو تینو ں فارمیٹس میں شکست ہوئی تھی اور اب دورہ ویسٹ انڈیز سے بھی پاکستانی ٹیم سے بہت امیدیں وابستہ کی گئیں ہیں۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک طویل عرصہ کے بعد اب ویسٹ انڈیز کے دورہ پر جا رہی ہے اور امید تو ہے کہ کھلاڑی مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور ٹیم میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کے لئے یہ سیریز آسان نہیں ہوگی اگر ماضی کی بات کیجائے تو جب بھی قومی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا ہے تو اس کو بہت محنت کی ضرورت پڑ ی ہے اور اس حوالے سے اس مرتبہ بھی یہ کہنا اب قبل از وقت ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی کیسی پرفارمنس دکھاتے ہیں اگر بات کی جائے کپتان سرفراز احمد کی تو وہ بلاشبہ بہت باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور اس دورہ میں ان کی کپتانی ٹیم کے لئے بہت سود مند ثابت ہوگی اور امید ہے کہ و ہ اس مشکل دورہ میں پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ٹیم کے لئے اچھی پرفارمنس اور کپتانی کا مظاہرہ کریں گے اس سے قبل ان کی کارکردگی بطور کپتان اچھی رہی ہے ۔ دورہ ویسٹ انڈیز میں ٹیم نے ون ڈے کے ساتھ ساتھ ٹی ٹونٹی بھی کھیلنے ہیں اور اس کے لئے اب دیکھنا یہ ہے کہ الگ ٹیم کا انتخاب کیا جاتا ہے یاایک ہی ٹیم بنا کر میدان میں اتاری جاتی ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان1958 ء سے2016 ء تک 49 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں جن میں سے اب تک پاکستان کی ٹیم نے 18 میچ اپنے نام کئے، جبکہ ویسٹ انڈیز نے 16 میچ اپنے نام کئے ہوئے ہیں او ر دونوں ٹیموں کے درمیان 15 میچ ڈرا ہوئے۔ اگر ون ڈے میچوں کی بات کی جائے تو 1975 ء لیکر2016 ء تک 130 میچ کھیلے گئے ہیں جن میں پاکستان کی ٹیم نے 58 میچوں میں کامیابی سمیٹی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز نے 69 میچ جیتے ہوئے ہیں دونوں ٹیموں کے درمیان تین میچ ڈرا ہوئے ہیں۔ پاک ویسٹ انڈیز ٹیمیں ٹی ٹونٹی مقابلو ں میں 2011ء سے لے کر 2016ء تک 7 ٹی ٹونٹی میچ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آچکے جن میں پانچ میں پاکستانی ٹیم نے کامیابی کا سہرااپنے سر سجایا جبکہ دو میچ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے جیتے۔ دوسری طرف اگر دونو ں ٹیموں کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں کم ترین سکور کی بات کی جائے تو ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں سب سے سکور53 رنز ہے جو اس نے پاکستان کے خلاف فیصل آباد میں 24اکتوبر 1986ء کو کھیلا گیا تھا جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے کم سکور 77 رنز کا ہے جو اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف لاہور میں 7 نومبر 1986ء کو بنایا تھا ۔ جبکہ اگر ون ڈے میں دیکھا جائے تو ویسٹ انڈیز ٹیم کا پاکستان کے خلاف سب سے کم سکور 43 ہے جو اس نے کیپ ٹاؤن میں بنایا تھا یہ میچ 25 فروری 1993ء کو کھیلا گیا تھا جب یہ دونوں ٹیمیں کرکٹ ورلڈ کپ میں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا ون ڈے میں پاکستان کے خلاف سب سے کم سکور98 رنز ہے جو اس نے پرووینڈس میں 14 جولائی2013 ء میں بنایا تھا۔ اس طرح ٹی ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کی طرف سے پاکستان کے خلاف سب سے کم سکور 103 جو اس نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر بنایا جبکہ یہ میچ ابوظہبی میں 27 ستمبر 2016 کو کھیلا گیا تھا اسی طرح پاکستان کی ٹیم کا حریف ٹیم کیخلاف سب سے کم سکور کا ریکارڈ82 ہے جو اس نے ڈھاکہ میں 2014 ء میں بنایا تھا اور اس طرح تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی ٹیم مجموعی طور پر ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں سب سے کم ترین سکور میں پیچھے رہی۔اگر پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے کی بات کی جائے تو پاکستان کے محمد یوسف کا نام سرفہرست ہے، جنہوں نے 2000 ء سے لیکر2006 تک ویسٹ انڈیز کے خلاف آٹھ ٹیسٹ میچ کھیل کر14 اننگز میں 1214 رنز بنائے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ رنز 192 ہے، جبکہ ویسٹ انڈیز کی طرف سے یہ اعزاز برائن لارا کو حاصل ہے جنہوں نے پاکستان کے خلاف 1990 ء لے کر 2006 تک 12 ٹیسٹ میچوں میں 22 اننگز کھیل کر1173 رنز بنائے ہیں جن میں ان کا سب سے زیادہ رنز 216 ہیں ۔ اسی طرح سے اگر دونو ں ٹیموں کے درمیان ون ڈے کی بات کی جائے تو ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین ڈی ایل ہینز نے 1979 ء سے لیکر1993 ء کے دوران کھیلے گئے65 میچوں میں 2390 رنز بنائے ہیں جن میں ان کا سب سے زیادہ رنز 142 ہے جس میں ان کی چار سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے 1975 ء سے لیکر1993 ء تک مایہ ناز بیٹسمین جاوید میاں داد کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے جنہوں نے 64 میچ کھیل کر ویسٹ انڈیز کے خلاف1930 رنز بنائے ہیں جن میں ان کی سنچریوں کی تعداد ایک ہے جبکہ نصف سنچریاں 12 ہیں ۔ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ویسٹ انڈین بیٹسمین براوو نے 2013 ء سے 2016ء تک چھ میچ کھیل کر پاکستان کے خلاف 190 رنز بنائے ہیں جن میں ان کا سب سے زیادہ رنز 55 ہے جبکہ انہوں نے ایک نصف سنچری بنارکھی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے بابر اعظم کامیاب بیٹسمین ہیں جنہوں نے 2016 ء میں تین میچ کھیلے اور انہوں نے 101 رنز بنائے ہیں جن میں ان کا سب سے زیادہ رنز 55 ہے ۔پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی جانب سے باؤلنگ کے شعبہ میں اب تک ویسٹ انڈیز کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے اچھی باؤلنگ کا اعزاز بی ای ایچ کرافٹ کو حاصل ہے جنہوں نے18.5 اوورز میں 29 رنز دیکر آٹھ وکٹیں حاصل کیں یہ چار مارچ1977 ء میں پورٹ آف سپین میں کھیلا گیا تھا اس کے بعد دوسرا نمبر بشو کا ہے جنہوں نے 13.5 اوورز میں 49 رنز دیکر 8 وکٹیں اپنے نام کیں ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سب سے اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ سابق کپتان عمران خان نے 22.4 اوورز میں 80 رنز دے کر7 وکٹیں حاصل کی اس کے بعد پاکستان کے سپنر عبدالقادر نے بہت اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور 9.3 اوورز میں16 رنز دیکر 6 وکٹیں اپنے نام کیں۔ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کے شاہد خان آفریدی نے 9 اوورز میں 12 رنز دیکر7 وکٹیں اپنے نام کیں، جبکہ پاکستان کے ہی اظہر محمود نے 10 اوورز میں 18 رنز دیکر 6 وکٹیں اپنے نام کیں۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے ایف اے روز نے 10 اوورز کروا کر 25 رنز دیکر5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسرے پر آئی آر بشو ہیں، جنہوں نے 8.4 اوورز میں 25 رنز کے عوض پانچ وکٹیں اپنے نام کی ہیں ۔ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے اچھی باؤلنگ کا اعزاز پاکستانی باؤلر عماد وسیم کو حاصل ہے جنہوں نے 4 اوورز میں 14 رنز دیکر 5 وکٹیں اپنے نام کی ہوئیں ہیں ویسٹ انڈیز کے باؤلر ڈی بشیو نے 4 اوورز میں 17 رنز دیکر 4 وکٹیں حاصل کی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کا ریکارڈ شاندار ہے اور ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ہمیشہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے اس مرتبہ جب قومی کرکٹ ٹیم زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے تو ایک نئے امتحان کی باری ہے اور اس امتحان میں کامیابی کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بہت محنت کی ضرورت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -