موصل میں 500لاشیں برآمد، شہر کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ

موصل میں 500لاشیں برآمد، شہر کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ

  

بغداد (آن لائن)عراق کے شہر موصل کے جنوبی حصے میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد موصل کی جوڈیشل کونسل نے شہر کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے شہریوں کے وحشیانہ قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر کی عدالتی کونسل کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ موصل اس وقت حقیقی معنوں میں انسانی المیے سے دوچار ہے۔ اندھاد دھند فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔کونسل نے مغربی موصل میں داعش کے خلاف جاری آپریشن میں حکمت عملی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم گذشتہ دو دنوں سے شہری دفاع کے عملے کے ذریعے متاثرین تک رسائی کا مطالبہ کررہے ہیں مگرہمارے مطالبات پر کان نہیں دھرے گئے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب عالمی اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے دو روز پیشتر نیو موصل میں تین رہائشی عمارتوں پر بم باری کرکے 230 خواتین اور بچوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ عراقی وفاقی پولیس کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز داعش کے خلاف جنگ کے لیے نئی حکمت عملی کے تحت گوریلا آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔عراقی انسانی حقوق آبزرویٹری کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ شہری دفاع کے عملے نے حالیہ ایام کے دوران 500 عام شہریوں کی لاشیں ملبے سے نکالی ہیں۔ نیو موصل، وادی العین، رجم حدید، جامع فتحی العلی اور الیرموک کالونی میں سڑکیں اور گلیاں لاشوں سے بھری پڑی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی اتحادیوں کا خیال ہے کہ مغربی موصل میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار داعش ہے جس نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -