منصوبوں میں کمیشن کی باتیں کرنیوالے اپنے گریبان میں جھانکیں گے تو ملامت کے سوا کچھ نہیں ملے گا : شہباز شریف

منصوبوں میں کمیشن کی باتیں کرنیوالے اپنے گریبان میں جھانکیں گے تو ملامت کے ...

  

ملتان(سٹی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ یہ سال وزیراعظم محمدنوازشریف کی قیادت میں بجلی پیدا کرکے اندھیرے ختم کرنے کا سال ہے۔2017ء کے اختتام تک توانائی کے کئی منصوبوں کی تکمیل سے لو ڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا،جس کا کریڈٹ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو جاتا ہے ۔انتہائی افسوس اوردکھ کی بات ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ منصوبے کمیشن لینے کیلئے بنائے جاتے ہیں ،یہ لوگ جب اپنے گریبان میں جھانکیں گے تو انہیں ملامت اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔انہیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ سب کا احتساب ہواورسب کو کٹہرے میں لانا چاہیے تاکہ قوم جان سکے کس نے وسائل قوم پر لگائے ہیں اورکس نے قوم کے وسائل لوٹے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار ملتان میں پہلے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ نے صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کے مزید سنٹرز بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب خواتین پر تشدد،دست درازی یاتیزاب پھینکنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا اوردین اسلام میں اس کی بہت سخت ممانعت ہے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا سب کو احترام ہے جس معاشرے میں قاضی اور عدالت کا احترام نہیں ہوگا وہ معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتااورجس معاشرے میں انصاف ہوگا وہ معاشرہ کبھی پیچھے نہیں رہے گا۔عدالت عظمیٰ کا جو بھی فیصلہ ہوگا، مسلم لیگ(ن)اورقوم اسے قبول کرے گی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہی موقع ہے کہ مجھ سمیت سب کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔جن لوگوں کو عوام کی خدمت کا موقع ملا ،ان سب کو کٹہرے میں لانا ہوگااور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا ہوگا۔سب کا احتساب کرنا ہوگا اور حساب لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کس صوبے میں50ارب روپے لگے اورنظر بھی نہیں آئے،اس کا بھی حساب لینا ہوگا۔وہ لوگ جو میٹروبس کو جنگلہ بس کہتے تھے اب یہی منصوبہ پشاور میں شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ آپ نے لاہور،ملتان،راولپنڈی،اسلام آباد میں عام آدمی کی جدید سواری میٹروبس سروس کے نظام کو جنگلہ بس کہا لیکن خدارا آپ جو میٹروبس نظام پشاورمیں لارہے ہیں اسے جنگلہ بس نہ کہیں۔میں ان کو مبارکباددیتا ہوں کہ وہ لاہور،ملتان،راولپنڈی ، اسلام آباد کے میٹروبس سروس جیسے نظام کو اب پشاور میں متعارف کرارہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو چیز آپ کو پسند نہیں اسے رد کر کے آپ لیڈر نہیں بن سکتے اورخود پسندی میں مبتلا لیڈر نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں اس کے لئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ،نبی کریم ؐ کا یہ پیغام صرف مردوں کیلئے نہیں بلکہ وہ خواتین اور مردوں کیلئے یکساں ہے۔ہمارے ملک میں جہاں بھی خواتین پر تشدد ہوتا ہے یا ان سے زیادتی ہوتی ہے تو حکومت کا فرض ہے کہ ایسی خواتین کو مکمل سکیورٹی فراہم کرے،قانونی چارہ جوئی اور علاج معالجے کیلئے تعاون فراہم کرے اوراسی طرح پولیس انتظامیہ اورعدلیہ اپنا اپنا بھر پور کردارادا کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ اورانصاف کی فراہمی کے لئے اقدامات کرے ملتان میں قائم ہونے والے اس مرکز میں تشدد کا شکار خواتین کیلئے تمام تر سہولتیں ایک چھت تلے مہیا کی گئی ہیں۔اس انسداد تشدد مرکز میں ایف آئی آر بھی در ج کی جائے گی اورناجائز ایف آئی آر در ج کرانے والے کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔اس مرکز میں قوم کی بیٹیوں کیلئے ڈاکٹرز بھی موجود ہیں اور مشاورت کیلئے ماہرین بھی،نفسیاتی معالج بھی یہاں ہیں اورسرجری کی سہولت بھی موجود ہے ، جس کیساتھ بھی تشدد ہو ،تیزاب پھینکا جائے یا زیادتی ہو یہ تمام معاملا ت ایک ہی چھت کے نیچے نمٹائے جائیں گے اور اقدامات کیے جائیں گے۔اس سنٹر میں جج اور عدالت کی سہولت بھی موجود ہے۔اس پورے نظام کو قانونی شکل دی گئی ہے تاکہ ظلم کا شکار ہونے والی خواتین کی تکالیف کا ایک چھت تلے ازالہ ہو اورانہیں دھکے نہ کھانے پڑیں ۔اسلامی معاشرے سمیت کسی بھی معاشرے میں خواتین پر تشدد ،زیادتی یا تیزاب پھینکنے جیسے گھناؤنے جرائم کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس طرح کے سنٹرز کے نظام کو آگے بڑھائیں گے کیونکہ اپنی ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے جسے بطریق احسن ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں خواتین اورمردوں کی تعداد برابر ہے ۔ قائدؒ نے فرمایا تھا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ ،انہیں انصاف ،تعلیم کی فراہمی اوربااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتااوریہ اسلامی معاشرے کے عین مطابق ہے۔یہ قانون قرآن اور سنت کی تابعداری میں قوم کی ماؤں ،بہنوں اوربیٹیوں کے حقوق کے تحفظ اوران کی حفاظت کے لئے بنایا گیا ہے۔قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون سازی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے اوران کے حقوق تحفظ کیلئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں۔ملتان میں میٹروبس سروس کا میابی سے چل رہی ہے جو کہ ہماری ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں کو عزت و احترام کے ساتھ سکول ،کالج ،دفاتر اور فیکٹریوں میں پہنچاتی ہے ۔ پنجاب کے 16اضلاع میں جو بچیاں 6ویں جماعت سے دسویں جماعت میں تعلیم حاصل کررہی ہیں اورجن کے ماں باپ کے پاس وسائل نہیں ہیں وہ اپنی بچیوں کو تعلیم نہیں دلواسکتے اورکسی کے گھر میں کام کرنے کیلئے بجھواتے ہیں، ان بچیوں کیلئے ’’خادم پنجاب زیور تعلیم ‘‘پروگرام کے تحت 6ارب رکھے گئے ہیں اور4لاکھ60ہزار بچیوں کو ایک ہزار ر وپے ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے،اسی طرح پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈکے تحت 1لاکھ75ہزار کم وسیلہ ذہین بچے و بچیوں کو اعلی تعلیم کے لئے وظائف دےئے جاچکے ہیں جن میں1لاکھ 20ہزار قوم کی بیٹیاں ہیں جنہوں نے یہ تعلیمی وظائف حاصل کیے ہیں جس پر سالانہ ڈیڑھ ارب روپے صرف کیے جارہے ہیں اوراب تک11ارب روپے کے وظائف دےئے جاچکے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والی بچیاں ڈاکٹرزاورانجینئرز بن چکی ہیں یہ بچیاں قوم کی معمار ہیں ،ان کے حقوق کے تحفظ کے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم وہ زیور ہے جس سے جہالت اورغربت کا خاتمہ ہوتا ہے اور قوم کی قسمت بدلتی ہے ۔ہم قوم کی بیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے ہر طرح کے وسائل فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہم بھیک مانگنے کی عادت کو ختم نہیں کریں گے تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے کشکول کو توڑنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے مرکز کی تعمیر کے حوالے سے شاندار کارکردگی پر صوبائی وزراء ،متعلقہ سیکرٹریز،سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سلمان صوفی اوردیگر افرادکو مبارکباد دی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ملتان میں پہلے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کا افتتاح کیا۔ وزیراعلیٰ نے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کا دورہ کیا اور مرکز میں قائم کئے جانے والے مختلف شعبے دیکھے۔ وزیراعلیٰ نے مرکز میں تشدد کا شکار خواتین کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا اورمرکز کے تعمیراتی کاموں اور وہاں پر فراہم کی جانے والی سہولتوں کو سراہا۔ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ایک مربوط نظام کے تحت بنایا گیا ہے۔ اس مرکز میں تشدد کا شکار خواتین کو پولیس، سرکاری وکیل، فرانزک جائزہ ، نفسیاتی علاج اور رہائش کی سہولتیں حاصل ہوں گی اوراس مرکز کے قیام سے عورتوں پر تشدد کے خاتمے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملتان میں بننے والا انسداد تشدد مرکز برائے خواتین دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے اور اس مرکز میں تشدد کا شکار خواتین کو ایک چھت تلے تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ،بیگم ذکیہ شاہنواز اورسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سلمان صوفی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔افتتاحی تقریب میں اقوام متحدہ کے تین رکنی وفد نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں مےئر ملتا ن نو ید الحق آ را ئیں ، چےئرمین ضلع کو نسل ملتا ن دیو ان عبا س بخا ری ،ممبر ان قومی اسمبلی ، جا وید علی شا ہ ، ملک عبدالغفار ڈوگر ، را نا قاسم نو ن ،ممبر ان صوبائی اسمبلی حا جی احسا ن الد ین قر یشی ، ملک مظہر عبا س را ں، را ئے منصب علی خا ن ،حا جی شو کت حیا ت بو سن ،مہدی عباس لنگا ہ ، ر انا طا ہر شبیر ،شہزا د مقبول بھٹہ ،سلطانہ شاہین ، خو لہ امجد ،شمیلہ اسلم ،شاہین اشفا ق ،ڈا کٹر فر زا نہ بٹ ،مہوش سلطا ن ، فوزیہ ایو ب ، نسر ین نوا ز ، شہزادی کبیر، فا طمہ فریحہ ، مشیر وزیر اعلیٰ پنجا ب چو ہد ری ارشد آ را ئیں ،ڈ پٹی مےئرملتا ن منو راحسان قر یشی ، حا جی سعید انصا ر ی ، وائس چےئر مین ضلع کونسل سید واجد علی شاہ ، مسلم لیگی رہنما چوہدری عبدالوحید آ را ئیں، بلال بٹ ،شیخ اطہر ممتا ز ،ارشدبو ٹا ،عامر سعید انصا ر ی، ملک انور علی ، حامد خان، ممتاز مغل زہر ہ سجا د زید ی ،ملک سجا د کھو ر ہائی سنٹ پیٹر علامہ انوار الحق مجاہد ، علامہ خالد محمود ندیم ، سمیت دیگر نے بھی شرکت کی ۔

شہا ز شریف

مزید :

صفحہ اول -