یوسف رضا گیلانی نے ایبٹ آباد کمیشن بنا یا ، رپورٹ راجہ پرویز اشرف کو پیش کی گئی

یوسف رضا گیلانی نے ایبٹ آباد کمیشن بنا یا ، رپورٹ راجہ پرویز اشرف کو پیش کی ...

  

تجزیہ/قدرت اللہ چودھری

یہ خطوط کا معاملہ بھی عجیب ہے، غالب لکھیں تو ایسے ایسے نثر پارے وجود میں آئیں کہ انہیں ان کی شاعری کا ہم پلہ قرار دیا جائے، قلعہ احمد نگر کا ایک قیدی ایسے خط لکھے جو مکتوب الیہ تک اس وقت اکٹھے پہنچیں جب قیدی کو تین سال بعد رہائی ملے، تو ’’غبار خاطر‘‘ وجود میں آئی جہاں اردو زبان کے سب سے بڑے انشاء پرداز کی انشا پردازی اپنی معراج پر ہے، مولانا حسرت موہانی جو پکے سچے مسلم لیگی تھے کٹر کانگریسی کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر

نظم حسرت میں کچھ مزہ نہ رہا

لیکن یہی خط اگر یوسف رضا گیلانی لکھے تو ان سمیت ان کی پوری پارٹی کو اس کی توجیحات پیش کرنی پڑیں۔ گیلانی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ خط وزارت خارجہ کے توسط سے لکھا تھا اور اس میں کوئی بات ایسی نہ تھی جس پر اعتراض کیا جاسکے، ایسا ہی ہوگا لیکن حقانی تو اب کچھ اور کہتے ہیں۔ یہ تو یوسف رضا گیلانی کے اس خط کا تذکرہ ہے جو انہوں نے اپنے سفیر کو لکھ دیا، ایک خط اور بھی تھا جو لکھا نہیں گیا تھا لیکن اس کی وجہ سے نہ صرف ان کی وزارت عظمیٰ غفرلہ‘ ہوگئی بلکہ وہ الیکشن لڑنے سے بھی گئے اور انہیں یہ کام اپنے فرزندوں کے سپرد کرنا پڑا۔

سپریم کورٹ نے جس کے سربراہ اس وقت آصف علی زرداری کے الفاظ میں ’’سیاسی چیف جسٹس‘‘ افتخار محمد چودھری تھے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو حکم دیا تھا کہ وہ سوئس حکام کو آصف علی زرداری کے اکاؤنٹس کی تحقیقات کے بارے میں خط لکھ دیں لیکن وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ آصف علی زرداری کو بطور صدر آئین میں جو تحفظ حاصل ہے اس کی بنا پر ان کے خلاف یہ کیس نہیں کھولا جاسکتا۔ ان کے تمام دلائل سن کر ہی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ وہ خط لکھ دیں۔ اس کے باوجود انہوں نے خط نہیں لکھا اور اپنے اسی مؤقف پر ڈٹے رہے جو عدالت کے روبرو پیش ہوچکا تھا چنانچہ ان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ چلا، انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا البتہ جو سزا ملی وہ بہت ہی معمولی تھی لیکن چند سیکنڈ کی اس سزا نے ان کی وزارت عظمیٰ ختم کردی، ان کے سیاسی مستقبل کو دھندلا دیا اور فوری نتیجہ یہ نکلا کہ وہ 2013ء کا الیکشن بھی نہیں لڑسکے، ان کے دو بیٹوں نے میدان میں قدم رکھا لیکن بدقسمتی سے ایک اغوا ہوگئے اور انہیں طویل عرصے کے بعد رہائی ملی، دوسرے فرزند بھی الیکشن ہار گئے۔ اب حسین حقانی نے جو پنڈورا باکس کھولا ہے اس میں سے حشرات الارض نکل نکل کر اِدھر اُدھر ڈنک مارے چلے جا رہے ہیں کبھی ان کا رخ سابق صدر کی جانب ہوتا ہے تو کبھی سابق وزیراعظم کی جانب، اس دوران سارے معاملات کو تاویلات میں الجھایا جا رہا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں ڈور کو مزید گنجلک کرتا چلا جا رہا ہے، اب ڈور کا سرا ہاتھ آئے گا تو بات بنے گی۔ سابق وزیراعظم نے اب اس معاملے کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنانے کی تجویز دیدی ہے، لیکن انہوں نے جو کمیشن خود بنایا تھا اس کی رپورٹ کیا ہوئی؟

قارئین محترم کو یاد ہوگا کہ 2 مئی 2011ء کو امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد میں اترے تھے، جنہوں نے اس کمپاؤنڈ پر حملہ کردیا تھا جس کے بارے میں انہوں نے پوری تسلی کرلی تھی کہ اسامہ بن لادن اس کمپاؤنڈ میں رہتا ہے، انہوں نے کمپاؤنڈ کے اندر گھس کر اسامہ بن لادن کو گولیوں سے چھلنی کیا اور نعش ساتھ لے گئے، بعد میں معلوم ہوا کہ اسے سمندر برد کردیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس حملے سے بہت پہلے لگ بھگ دو ہزار امریکی حسین حقانی کے حکم سے ویزے لے کر پاکستان آئے تھے ظاہر ہے انہوں نے اپنے طور پر پوری تحقیق کے بعد ہی امریکی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ حملہ کرنے کی اجازت دی ہوگی۔ امریکی تو اپنا کام کرکے چلے گئے اور ہم نے حسب معمول لکیر پیٹنا شروع کردی۔ اگلے ہی روز آصف علی زرداری (اُس وقت صدر) نے ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں اپنے نام سے مضمون شائع کرایا جس میں اس معاملے پر روشنی ڈالی۔ یہ حکومت پاکستان کے سب سے بڑے عہدیدار کا مؤقف تھا جو اس مضمون کی وساطت سے دنیا کے سامنے آگیا، پھر اس معاملے کی تحقیق کیلئے 21 جون 2011ء کو جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایبٹ آباد کمیشن بنایا گیا۔ کمیشن نے ڈیڑھ سال بعد جنوری 2013ء کو اپنی رپورٹ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو پیش کردی۔ اس رپورٹ میں کیا لکھا گیا ہے کسی کو یقین کے ساتھ کچھ معلوم نہیں، جنہیں معلوم ہوسکتا ہے وہ مہر بلب ہیں۔ اب یوسف رضا گیلانی نے یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ یہ رپورٹ منظرعام پر لائی جائے، اس بات سے قطع نظر کہ ان کی پارٹی کی حکومت میں یہ رپورٹ کیوں منظر عام پر نہ آسکی اور کیا انہوں نے اپنے جانشین سے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ رپورٹ شائع کریں۔ یوسف رضا گیلانی کا یہ مطالبہ جائز ہے اور حکومت کو اسے منظرعام پر لے آنا چاہئے تاکہ قوم کو معلوم ہوسکے کہ سارا معاملہ کیا تھا۔ حسین حقانی نے اپنے مضمون میں جو باتیں کہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ نئی نہیں ہیں وہ پہلے بھی کہتے رہے ہیں اس لئے کسی نئے کمیشن سے پہلے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ شائع ہونی چاہئے۔ اب یہ مطالبہ وہ شخص بھی کر رہا ہے جس نے کمیشن بنایا تھا اور جس کی پارٹی کی حکومت کے دوران رپورٹ تیار ہوگئی تھی جس پر اب تک پردہ پڑا ہوا ہے۔

مزید :

تجزیہ -