انسداد تشدد مرکز کے قیام سے خواتین کے مسائل حل ہونگے،سلمان صوفی

انسداد تشدد مرکز کے قیام سے خواتین کے مسائل حل ہونگے،سلمان صوفی

  

ملتان (سٹی رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل چیف منسٹر سٹریٹیجک ریفارمز یونٹ سلمان صوفی نے کہا ہے کہ آج کا دن ہمارے لئے تاریخ ساز ہے کہ خواتین کو انصاف تک رسائی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کا قیام ہوگیا ہے ۔ تمام مظلوم اور تشدد کا شکار خواتین جن کو پہلے اپنی آوازحکام بالا تک پہنچانے کے لئے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اب انہیں تمام سہولیات ایک ہی جگہ (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

پر میسر ہوں گی۔ یہ سنٹر جنوبی ایشیاء میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جس میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سہولیات جن میں پولیس رپورٹ، طبی امداد، فرانزک جائزہ، سرکاری وکیل، ثالثی، نفسیاتی امداد اور پناہ گاہ ایک ہی جگہ پر میسر ہوں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔سلمان صوفی نے مزید کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے 2014میں ہمیں ٹاسک دیا کہ خواتین کی فلاح و بہبود اور انصاف کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جائیں جس پر دن رات محنت او رلگن سے کام کیا گیا اور پہلے تحفظ خواتین بل کو منظور کروایا گیا جس میں ایک طریقہ کار وضع کیا گیا جس سے خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا اور اس سے یقیناًمعاشرے میں بہتری آئے گی اور خواتین کو ان کے حقوق ملیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے انسانی حقوق و صنفی مساوات جمشید قاضی نے کہا ہے کہ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ایک خواب تھا جس کو آج حقیقت مل گئی۔ جنوبی پنجاب کے لوگ آج مبارک باد کے مستحق ہیں کہ یہ جنوبی ایشیاء کا پہلا سنٹر ہے۔ یہ سنٹر انتہائی جامع انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں خواتین کو ہمہ قسم کی سہولیات ایک ساتھ میسر ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت پنجاب کی اپنے عوام کے ساتھ انتہائی کمٹمنٹ ہے اور صوبہ پنجاب مثالی ترقی کررہا ہے۔ تقریب میں شرمین چنائے عبید کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا گیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -