افغانستان کے مسئلہ کا حل فوجی مہم جوئی نہیں‘سیاسی مذاکرات ہے:اعزاز چوہدری

افغانستان کے مسئلہ کا حل فوجی مہم جوئی نہیں‘سیاسی مذاکرات ہے:اعزاز چوہدری

  

واشنگٹن(اے این این) امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری نے افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی مہم جوئی نہیں ،سیاسی استحکام اور مذاکرات ہیں ،پاکستان کے چین اور روس سے قریبی تعلقات کا فائدہ امریکہ کو بھی ہوگا، چین سے پاکستان کے تعلقات کو امریکہ کیلئے رکاوٹ نہیں پل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ،خطے میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان اور بھارت کو با معنی مذاکرات کرنا ہونگے، آپریشن ردالفساد دہشتگردوں کی باقیات کے خاتمے کیلئے شروع کیا گیا،پاکستان دنیا میں ابھرتی ہوئی حقیقت کی طرح سامنے آرہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنی تعیناتی کے بعد پہلی بار امریکی میڈیا سے گفتگو میں کیا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہش مند ہے ،افغانستان میں امن پاکستان کے امن کے لئے ناگزیر ہے ۔افغانستان میں عدم استحکام سے پاکستان سمیت پورا خطہ متاثر ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی مہم جوئی نہیں، سیاسی استحکام اور مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان اور بھار ت کو بامعنی مذاکرات کرنے ہوں گے، پاک بھارت بامعنی مذاکرات سے ہی خطے میں امن واستحکام ممکن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر بار پاک بھارت مذاکرات کے تعطل کا فائدہ انتہا پسند اور دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں۔امریکا میں پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ آپریشن ردالفساد دہشتگردوں کی باقیات کے خاتمے کیلئے شروع کیا گیا جو ان کے خاتمے تک جاری رہے گا، دہشتگردی کیخلاف جاری ضرب عضب کے کامیاب نتائج نکلے ہیں۔اعزاز چودھری نے مزید کہا کہ د ہشت گردی کے خاتمے سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان میں تمام معاشی اعشاریے بلندی کی جانب گامزن ہیں اور پاکستان دنیا میں ابھرتی ہوئی حقیقت کی طرح سامنے آرہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کو مثبت اور درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ان دونوں ملکوں کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات کا فائدہ امریکہ کو بھی ہو گا۔پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات کورکاوٹ کیلئے نہیں پل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اعزاز چوہدری

مزید :

کراچی صفحہ اول -