صحت بل پر بھی ٹرمپ کو جھٹکا ، اپنوں کی بے رخی نے ہیلتھ کیئر بل واپس لینے پر مجبور کر دیا

صحت بل پر بھی ٹرمپ کو جھٹکا ، اپنوں کی بے رخی نے ہیلتھ کیئر بل واپس لینے پر ...

  

واشنگٹن ( نیٹ نیوز / ایجنسیاں )ٹرمپ کو سفری پابندیوں کے بعد صحت بل پر بھی جھٹکا لگا ہے اوراپنوں کی بے رخی نے ہیلتھ کیئر بل واپس لینے پر مجبور کر دیا۔اوباما کیئر بل کے متبادل قانون پر وائٹ ہاؤس کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں ریپبلکن رہنماؤں کے تحفظات دور نہ ہو سکے،ٹرمپ کے اپنی پارٹی کے لوگ ہی ایوان نمائندگانٍ کے اجلاس سے غائب ہو گئے ،امریکی صد نے جلد نیابل لانے کا اعلان کیا ہے اور ناکامی کا سارا ملبہ ڈیموکریٹس پر ڈال دیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صحت کی اصلاحات کے مسودہ قانون کی ناکامی کا قصوروار ڈیموکریٹ پارٹی کو ٹھہرایا ہے۔کانگریس سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر پانے کے سبب یہ بلواپس لے لیا گیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ہمیں ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک رکن کا ووٹ بھی نہیں مل سکا،ہمارے پاس ووٹ تھوڑے سے کم تھے۔ اس لیے ہم نے اسے واپس لے لیا ہے۔اس بل کی ناکامی کو صدر ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔وہ نئے قانون کی مدد سے اپنے پیش ر و اوباما کیئر نامی قانون کو منسوخ کرنا چاہتے تھے اور یہ ان کی انتخابی مہم کا اہم جزو تھا۔ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال رائن نے کہا کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ اسے مطلوبہ 215 ووٹ نہیں ملیں گے تو انھوں نے اور صدر ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ اس بل کو واپس لے لیا جائے۔رپبلکنز کو کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں برتری حاصل ہے تاہم اطلاعات کے مطابق 28 سے 35 رپبلکن ارکان صدر ٹرمپ کے امیریکن ہیلتھ کیئر ایکٹ کے مخالف ہیں۔بعض ارکان کا کہنا ہے کہ اس میں سخت کٹوتیاں کی گئی ہیں، جب کہ بعض دوسروں کا خیال ہے کہ زیادہ بڑے قدم اٹھانا چاہیے تھے۔صدر ٹرمپ نے پال رائن پر تنقید سے گریز کیا، جن کا بطور سپیکر کام یہی ہے کہ وہ متنازع قوانین کے لیے حمایت اکٹھی کریں۔یہ بل عوام میں بھی خاصا غیرمقبول ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 17 فیصد لوگوں نے اسے پسند کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے بل واپس لیے جانے کے بعد کہا کہ اوباما کیئر 'پھٹ جائے گا۔'تاہم انھوں نے پال رائن پر تنقید سے گریز کیا، ۔صدر ٹرمپ نے کہا: 'میں سپیکر رائن کو پسند کرتا ہوں۔ انھوں نے سخت محنت کی ہے۔ پال رائن نے بھی نامہ نگاروں سے کہا کہ صدر ٹرمپ 'زبردست ہیں۔'صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہہم تھوڑی دیر تک اوباما کیئر کو چلنے دیں گے،' اور اگر ڈیموکریٹ ارکان 'مہذب ہوئے اور ہمارے ساتھ مل گئے' تو دونوں جماعتیں مل کر 'صحت کا ایک زبردست بل' منظور کروا لیں گے۔انھوں نے کہا: 'ہم نے وفاداری کے بارے میں سبق سیکھا ہے۔ ہم نے ووٹ حاصل کرنے کے عمل کے بارے میں سیکھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابقٹرمپ کو زور کا جھٹکا لگا ہے، وائٹ ہاؤس کی کوششوں کے باوجود ری پبلکن رہنماوں کے تحفظات دور نہ ہو سکے۔ ایوان نمائندگان سے ہی غیر حا ضر ہوگئے، ٹرمپ انتظامیہ کو اوباما کئیر کا متبادل نیا ہیلتھ کئیر بل واپس لینا پڑ گیا ہے،ٹرمپ نے مستقبل قریب میں نیا بل نہ لانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اوباما کیئر بل کے متبادل قانون پرٹرمپ انتظامیہ کی ساری ملاقاتیں دھری رہ گئیں، تقریریں اور لابنگ بھی کام نہ آئی، ٹرمپ اپنی ہی پارٹی کے ایوان نمائندگان کو اپنا ہمنوا نہ بناسکے۔ٹرمپ کے ہیلتھ کیئر بل کو ووٹ دینے بیشتر نمائندگان، ایوان میں حاضر ہی نہیں ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ہیلتھ کیئر بل واپس لے لیا گیا۔ری پبلکن ارکان کی جانب سے یہ بل واپس لینے کا اعلان ووٹ کی کمی کے پیش نظر کیا گیا۔ بیشتر ریپلکن ارکان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا ہیلتھ کیئر بل،اوباما ہیلتھ کیئر جیسا ہی ہے اور اس سے حکومت پربھاری اخراجات کا بوجھ پڑے گا۔سپیکر پال رائن کا کہناہے کہ بل منظور کرانے کے لیے درکار ووٹوں میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے طویل ملاقات کی اور بل واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب دھچکوں پر دھچکے کھانے والے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فی الحال مستقبل قریب میں اس حوالے سے کوئی نیا بل لانے کا منصوبہ زیر غور نہیں ، ہاں اگر ڈیموکریٹ ارکان کے پاس اس حوالے سے کوئی نئی تجاویز ہوں تو بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ لیڈر نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ یہ دن امریکہ کے لیے ایک عظیم دن ہے، یہ امریکی عوام کی فتح ہے۔ووٹنگ کا موخر ہونا صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان کو منسوخ کر کے تبدیل کرنا صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں سے ایک تھا۔دوسری جانب ٹرمپ نے اپنے صحت کی اصلاحات کے مسود قانون کی ناکامی کا قصوروار ڈیموکریٹ پارٹی کو ٹھہرایا ہیصدر ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہم تھوڑی دیر تک اوباما کیئر کو چلنے دیں گے،' اور اگر ڈیموکریٹ ارکان 'مہذب ہوئے اور ہمارے ساتھ مل گئے' تو دونوں جماعتیں مل کر 'صحت کا ایک زبردست بل' منظور کرا لیں گے۔اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں سے کہا تھا کہ اگر انھوں نے بل کی حمایت نہ کی تو وہ ہمیشہ کیلئے اوباما کیئر کے ساتھ پھنس جائیں گے۔کچھ ریپبلکن قانون سازوں کے خیال میں صدر ٹرمپ کے پلان میں ہیلتھ کوریج کی کمی بہت زیادہ کی گئی ہے جبکہ کچھ قانون سازوں کے خیال میں یہ کٹوتی کافی نہیں تھی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -