پختون قوم 19سال بعد منعقد ہونے والی مردم شماری میں بھرپور حصہ لیں : میاں افتخار

پختون قوم 19سال بعد منعقد ہونے والی مردم شماری میں بھرپور حصہ لیں : میاں ...

  

پبی( نما ئندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے ملک میں ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے اب تک ہونے والے کام کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے اور اس اُمید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں مردم شمای کے حوالے سے بہتر انداز میں کام جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پبی یوسی میں ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سحر تنظیم چیئرمین ابراہیم ، جنرل سیکرٹری کامران ، ماجد ، جمال شاہ ے اپنے خاندان اور ساتھیوں سے سمیت پی ٹی آئی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ 17 اپریل کو پی کے 12 میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا جائیگا جس میں اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور پارٹی کے دیگر مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کرینگے۔ اُنہوں نے حلقہ کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں سے 17 اپریل کو ہونے والے ورکرز کنونشن میں بھرپور شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ کنونشن کی تیاری و انتظامات کیلئے انتہائی مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے 19 سال بعد بہت بڑے ٹاسک پر کام شروع کیا ہے اور اُمید کرتے ہیں کہ یہ کام شفاف اور عالمی معیار کے بہترین اُصولوں کے تحت مکمل کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری ایک قومی فریضہ ہے اور اس میں بہتر انداز میں حصہ لیکر اپنے لوگوں کا اندراج کروائیں کیونکہ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کے عمل کو شفاف رکھ کر اس کے طریقہ کار کو عوام کے سامنے رکھا جائے اور مردم شماری کا سلسلہ وقت پر پورا کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ پختون ملک میں ہونے والی مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ اُنہیں جائز حقوق اور منصفانہ وسائل مہیا ہو سکیں، مردم شماری کے بعد وسائل برابری کی بنیاد پر تقسیم ہو سکیں گے اور اگر ایسا ہوا تو خیبر پختونخوا بڑا صوبہ بن جائیگا۔پنجاب یونیورسٹی میں پختون طلباء پر اسلامی جمعیت کے طلباء کی جانب سے تشدد کو تاریخی علم دُشمنی اور دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست نے ہر شہری کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا قطعاً ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ طلباء کو ملک میں برابری کے حقوق حاصل ہیں اور تعلیمی اداروں میں رنگ و نسل و زبان کی اہمیت پر نفرتیں پھیلانا ملک کے تعلیمی نظام اور مستقبل کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایسے منفی رویوں کی حوصلہ شکنی انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت سے پشتون طلباء نے پشتو کلچر ڈے کا انعقاد کیا تھا جس میں پنجاب کے ہائیر ایجوکیشن کے وزیر سمیت طلباء و طالبات شریک تھے کہ اسی دوران اسلامی جمعیت کیغنڈوں نے حملہ کر کے پشتون ثقافتی پروگرام کو سبوتاژ کیا اور کئی طلباء و طالبات کو شدید زخمی کر کے پنجاب کے اہم تعلیمی ادارے میں ایک بار پھر دہشتگردی اور غنڈہ گردی کی بدترین مثال قائم کی۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی اس کی شدید مذمت کرتی ہے ، پختون طلباء کی سرگرمیاں مثبت سوچ و فکر کی حامل ہے اور یہ ایک پاکیزہ مشن ہے جسے ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا پانچ سالہ دور حکومت ایک سنہرا باب ہے۔ اے این پی نے انتہائی سخت حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنی سرزمین کا دفاع کیا اور صوبے میں حکومتی رٹ قائم کی اور ساتھ ہی ساتھ صوبہ بھر میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر ساٹھ سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلندو بانگ دعوؤں کے باوجود وہ ساڑھے تین سالوں میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ امن و امان کا مسئلہ ہو یا ترقیاتی کاموں کا۔ نوجوانوں کو روزگار دلانے کا مسئلہ ہو یا میرٹ پر تقریریوں کا ، تمام وعدوں کے ایفا اور اُن کے مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی میں جوق در جوق لوگوں کی شمولیت اس بات کاثبوت ہے کہ پختون قوم صوبائی حکومت کے جھوٹے وعدوں اور نعروں سے متنفر ہو چکے ہیں۔اور اب عوام کو احساس ہو گیا ہے کہ ان کے حقوق کی ضامن اے این پی ہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں اے این پی کلین سویپ کرے گی اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہوگا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -