مقتدر قوتیں ہمیں ’’اونر شپ‘‘اور یہماری جائز جگہ دیں:فارہق ستار

مقتدر قوتیں ہمیں ’’اونر شپ‘‘اور یہماری جائز جگہ دیں:فارہق ستار

  

لاہور( نمائندہ خصوصی) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سر براہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ میں ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کے حالیہ پاکستان مخالف بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ‘ الطاف حسین کی جانب سے پاکستانی مہاجر کمیونٹی کیلئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مدد کا مطالبہ ایم کیو ایم پاکستان کے ووٹ بنک کیلئے ایک اور 22 اگست ہے تاہم ان کی جانب سے مزید 22 اگست جیسی توقع کی جاسکتی ہے ‘ملک کی مقتددر قوتوں کو ہمیں ہماری جائز جگہ اور ایک ’’فئیر لیول پلیئنگ فیلڈ ‘‘دینا ہو گی اور ہمیں جلد اونرشپ دینا ہو گی وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور بات میرے بس میں بھی نہ رہے عام الیکشن کے موقع پر ملک کی ہر سیاسی جماعت کیساتھ بات چیت کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سی پی این ای کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ’’میٹ دی ایڈیٹرز‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سی پی این ای کے صدر ضیاشاہد نے خطبہ ء استقبالیہ دیاجبکہ اس موقع پر نائب صدر جمیل اطہر ‘امتنان شاہد‘ ایثار رانا ‘ ندیم چودھری‘ سلمان غنی‘ قیوم نظامی‘ عرفان اطہر جمیل اور لطیف چودھری سمیت دیگر ایڈیٹرز حضرات نے ان سے ملکی سیاسی صورت حال پر سوالات بھی کئے ۔ ڈاکٹرفاروق ستارنے کہا کہ جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں انکو سینے سے لگایا جائے اور اگر احساس محرومی کا احساس برقرار رہا تو میں ایکشن نہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایم کیو ایم کی 80 فیصد تنظیم کو لندن سے تعلق کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان کے پلیٹ فارم پر یکجا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اب بہت جلد پنجاب میں بھی از سر نو تنظیم تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کے 160 دفاتر بلڈوز کئے جاچکے ہیں 150 لاپتہ کارکنوں کو بازیاب ہونا چاہئے سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم پاکستان کے دفاتر بحال کرتے ہوئے خوف و ہراس کا ماحول ختم ہونا چاہئے پاکستان اسوقت بہت سے حوالوں سے منقسم ہے پاکستان میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جو یہ دعویٰ کرسکے کہ پورے ملک کے عوام کا اعتماد اس کے پاس ہے مہاجر طبقہ کافی عرصہ سے احساس محرومی اور احساس عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 اگست کو وہ لکیر کھینچی گئی تھی جس پر ہم ایم کیو ایم لندن سے علیحدہ ہوگئے 22اگست سے پہلے یکجہتی کی ضمانت الطاف حسین کے پاس تھی لیکن 22 اگست کی لکیر نے علیحدگی کا موقع فراہم کیا ہم نے پاکستان کے ریاستی اداروں کو مضبوطی کا جب موقع دیا تو ہماری اس بات پر یقین کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کراچی کے پی آئی بی علاقہ میں 180 گز کے مکان پر تنظیم چلا رہے ہیں ہمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے جنہوں نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا ان کے خلاف مقدمہ درج رہنا چاہئے جو بے گناہ ہیں ان کو تو فوری رہا کیا جائے ہمارے لاپتہ ڈیڑھ سو کارکنوں کو بازیاب کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو فیصلہ کرلیا ہے اب فیصلہ کرنے والوں کو اپنا فیصلہ کرنا ہوگا ہم سندھ کے شہریوں کو 22 اگست سے نکالنا چاہتے ہیں اگر ہم پر تلوار لٹکائی رکھنی ہے تو ہم لوگوں کی ذمہ داریاں نہیں اٹھا پائیں گے جس کا فائدہ ایم کیو ایم لندن کو ہوگا۔ مردم شماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کراچی میں 1998ء کی مردم شماری میں 47.65 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 45 فیصد پر آگئے ہیں بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ایک ماہ میں کئی مقدمات عدالتوں میں لیکر جائیں گے کراچی، حیدرآباد، سکھر اور میر پور میں کل بھی ووٹ بنک ایم کیو ایم کا تھا اور آج بھی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں رکاوٹ ڈالنے والے مقتدر طبقے ہیں جو لاتعلق ہیں عشرت العباد کا بیان انگور کھٹے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کے ساتھ بہتر تعلق پیدا کرے گی سب کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے نام پر بھتہ لیا جاتا رہا جس میں ایم کیو ایم کے ورکر بھی شامل ہوسکتے ہیں چند گندی مچھلیوں کو ٹریس آؤٹ کرنے کے لئے موقع دیا جانا چاہتے زیر حراست بے گناہ افراد کی رہائی کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں طالبنائزیشن کا معاملہ موجود ہے بنیاد پرستوں کی بیخ کنی اس طرح نہیں ہو رہی جسطرح سے ہونی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے حالیہ بیان کے بعد اب ایم کیو ایم کے ووٹ بنک کو کوئی شک نہیں رہا اب ووٹ بنک کو فیصلہ کرنا ہے تو 2018ء کے الیکشن میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہئے 2018ء کے انتخابات میں کسی کے ساتھ الحاق کی بات قبل از وقت ہے لیکن ہم سب کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -