خواتین کو تحفظ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ‘ گورنر پنجاب

خواتین کو تحفظ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ‘ گورنر پنجاب

  

ملتان (سٹی رپورٹر)گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ خواتین کو تحفظ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کو ئی بھی معاشرہ خواتین کو عزت، وقاراور احترام دئیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ ہمیں معاشرے سے عدم برداشت کے کلچر کا خاتمہ کرناہوگاجو کہ تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہے۔ عورت کے حقوق کے لئے ہمیں آگاہی دینا ہوگی۔ ہمیں اپنی خواتین کو مضبوط ، باہمت اور حوصلہ مند بنانا ہوگا تاکہ وہ اپنے اوپر ہونے والے جبراور ظلم کے خلاف آواز بلند کرسکیں اور انصاف حاصل کریں۔ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین حصول انصاف میں کلیدی کردار ادا کرے گا یہاں خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جنوبی ایشیاء کے پہلے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اور ڈائریکٹر جنرل چیف منسٹر سٹریٹیجک ریفارمز یونٹ سلمان صوفی نے ملتان میں انسداد تشدد مرکز برائے خواتین قائم کرکے جنوبی پنجاب کی خواتین کو احساس تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس سنٹر کے قیام سے خواتین کو اپنے اوپر ہونے والے کسی بھی قسم کے ظلم و زیادتی کا فوری ریلیف ملے گا۔اس مرکزمیں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ مصالحتی اور ثالثی کا نظام بھی موجود ہوگاجس میں فریقین کے مسائل کو حل کرانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سنٹر میں خواتین کی بحالی کے لئے ماہر نفسیات بھی موجود ہوں گے تاکہ خواتین کو ذہنی طور پر مطمئن کیا جاسکے اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے۔ گورنرپنجا ب نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورت بڑے مشکل حالات سے گزرتی ہے اگر وہ مار کھا کے گھر بیٹھ جائے تو اس کے لئے مزید مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اس سنٹر کے قیام سے اسے انصاف کے حصول کا موقع ملے گا، اس کی شنوائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کے قیام سے مرد حضرات کو بھی احساس ہوگا کہ اگر وہ خواتین کی حق تلفی کریں گے یا ان کے لئے مسائل پیدا کریں گے توان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ گورنر پنجاب ملک محمدرفیق رجوانہ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتیں دی ہیں وہ جس پراجیکٹ کو بھی ہاتھ ڈالتے ہیں وہ وقت سے پہلے مکمل ہوجاتا ہے اور اس پر لاگت بھی کم سے کم آتی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ اول -