عراق: مغربی موصل میں 500 لاشیں ملنے کا انکشاف

عراق: مغربی موصل میں 500 لاشیں ملنے کا انکشاف
عراق: مغربی موصل میں 500 لاشیں ملنے کا انکشاف

  

بغداد، نیویارک(ویب ڈیسک) عراقی شہر موصل کے جنوبی حصے میں داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی موصل میں تازہ لڑائی کے دوارن 500 عام شہریوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب موصل کی جوڈیشل کونسل نے شہر کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے وحشیانہ قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ شہر کی عدالتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موصل اس وقت حقیقی معنوں میں انسانی المیے سے دو چار ہے۔ دریں اثناءعراقی عسکری عہدیداروں نے مغربی موصل میں ساحل سمندر کے دائیں طر ف فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے خلاف ایک نئے حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی جنگی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ عراقی انسانی حقوق آبزرویٹری کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ شہری دفاع کے عملے نے حالیہ ایام کے دوران 500 عام شہریوں کی لاشیں ملبے سے نکالی ہیں۔ آبزرویٹری کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نیو موصل ، وادی العین، رجم حدید ، جامع فتحی العلی اور الیر موک کالونی میں سڑکین اور گلیاں لاشوں سے بھری پڑی ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی اتحادیوں کا خیال ہے کہ مغربی موصل میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار داعش ہے جس نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ موصل میں جاری شدید لڑائی کے باعث 2 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ ادھر اقوامِ متحدہ نے عراقی شہر موصل میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ انھیں ان ہلاکتوں پر سخت صدمہ پہنچا ہے ۔ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ موصل کے مغربی حصے میں کیے گئے امریکی فضائی حملے کے دوران ہونے والی سویلین ہلاکتوں کی باضابطہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -