”ہم نے اس شخص کا سر اتار کر دوسرے دھڑ پر لگا دیا ہے۔۔۔“ وہ وقت جب دنیا کی تاریخ کے خطرناک ترین کامیاب آپریشن نے میڈیکل کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا، ایسا کیسے ہوا؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

”ہم نے اس شخص کا سر اتار کر دوسرے دھڑ پر لگا دیا ہے۔۔۔“ وہ وقت جب دنیا کی ...
”ہم نے اس شخص کا سر اتار کر دوسرے دھڑ پر لگا دیا ہے۔۔۔“ وہ وقت جب دنیا کی تاریخ کے خطرناک ترین کامیاب آپریشن نے میڈیکل کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا، ایسا کیسے ہوا؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

جنوبی افریقہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) میڈیکل سائنس کی ترقی نے انسان کو مختلف بیماریوں کیساتھ لڑنے کے قابل بنایا اور اس شعبے کی ترقی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ میڈیکل سائنس میں یوں تو بہت سے کارنامے ہوئے لیکن 2015ءمیں ہونے والا وہ ایک کارنامہ صدیوں یاد رکھا جائے گا جب ڈاکٹروں نے ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا شخص کو نئی زندگی دینے کیلئے اس کا سر اتار کر ایک نئے جسم پر لگا دیا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین ٹی 20سیریز کا پہلا میچ آج کھیلاجائے گا

شارلٹ میزیز جوہانسبرگ اکیڈمک ہسپتال کے سرجنز نے 36 سالہ شخص پال ہا رنر کا دھڑ تبدیل کرنے کیلئے اس کا سر جسم سے بالکل الگ کر کے ایک نئے جسم پر لگا کر انقلاب برپا کر دیا۔ ہارنر کا دھڑ تبدیل کرنے کیلئے سرجنوں نے 19 گھنٹے کی طویل اور محنت سے بھرپور سرجری کی اور مکمل کامیابی جانچنے 2 مہینے بعد دنیا کو نوید سنائی۔ پال ہارنر پانچ سال پہلے ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا ہوا تو موت کے دہانے پر پہنچ گیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی خطرناک آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

شارلٹ میزیز جوہانسبرگ اکیڈمک ہسپتال کے سرجنز نے مائیرون ڈینس نے قیادت میں 10 فروری کو آپریشن کیا مگر اس کی مکمل کامیابی جانچنے کے بعد ہی اس خبر کو لوگوں تک پہنچایا گیا۔ سرجنز کی ٹیم کے سربراہ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا مقصد ہارنر کو 2 سال کے اندر کے دوران مکمل طور پر فعال کرنا ہے اور ہم اسے تیزی کیساتھ صحت یاب ہوتا دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہیں۔ آپریشن سے پہلے ہارنر کا جسم کینسر کے باعث مکمل طورپر ختم ہو چکا تھا اور وہ اس دنیا میں صرف ایک مہینے کا ہی مہمان تھا۔ ہم خوش قسمت تھے کہ ہمیں وقت پر ایک ایسا جسم مل گیا جو ہارنر کو دیا جا سکتا تھا۔

شاہد آفریدی کے پشاور زلمی چھوڑنے میں شاہ رخ خان کا کیا کردار ہے؟ ایسی تفصیلات سامنے آ گئیں کہ جاوید آفریدی نے سوچا بھی نہ تھا، مداح بھی دنگ رہ گئے

یہ جسم ایک 21 سالہ لڑکے کا تھا جس کا دماغ 2012ءمیں ایک کار حادثے کے دوران بری طرح متاثر ہوا تھا۔ اس کا جسم تو ٹھیک تھا لیکن اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا اور اس کی صحت یابی کی بھی کوئی امید نہیں تھی۔ ہم نے نوجوان کے والدین سے اجازت لی تو وہ بہت خوش ہوئے کہ ان کا بیٹا مجہول حالت میں ہونے والے باوجود بھی کسی کی جان بچا سکتا ہے۔“

آپریشن کرنے والی ٹیم کے رکن ڈاکٹر ٹام ڈاﺅنی نے خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ” یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور ہم کسی شخص کو مکمل طور پر نیا جسم دے سکتے ہیں جو اس کے پرانے جسم سے کہیں اچھا اور بہتر ہو گا۔ ہم اس آپریش کے نتائج میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے تھے اور اس آپریشن کی کامیابی سے لامحدود امکانات کی راہیں کھل گئی ہیں۔ “

ڈاکٹروں کے مطابق ہارنر 85%تک صحیح کا کام کر رہا ہے اور اس نے چلنے، باتیں کرنے اور زندگی میں پیش آنے والی تمام نارمل چیزوں کو ایک انفرادی آدمی کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہارنر کا جسم 2 سال کے دوران پوری طرح کام کرنے لگے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -