ثبوتوں کی عدم فراہمی، حافظ سعید کی نظر بندی ختم ہونیکا امکان

ثبوتوں کی عدم فراہمی، حافظ سعید کی نظر بندی ختم ہونیکا امکان
ثبوتوں کی عدم فراہمی، حافظ سعید کی نظر بندی ختم ہونیکا امکان

  

لاہور (ویب ڈیسک) ثبوت مت مانگو ، حافظ سعید کے خلاف ثبوت بھی خود ہی تلاش کرو بھارتی وزراءکی عجیب منطق سامنے آگئی۔ ہم نے حملے میں ملوث ہونے کا بتا دیا تھا اب ثبوت کی فراہمی پاکستانی حکومت کا کام ہے۔ پاکستانی عدالت میں کیا پیش کیا جائے؟ وزارت داخلہ حکام پریشان ہو گئے۔ اگر ہندوستان نے ثبوت نہ دیئے تو نظر بندی احکامات کو عدالت میں دفاع نہیں کر پائیں گے ، پاکستانی وزارت خارجہ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کالعدم قرار دی گئی ۔ جماعة الدعوة کے حوالے سے ذرائع نے خبریں کو بتایا ہے کہ پاکستانی وزارت داخلہ نے فارن منسٹری کو اس ضمن میں آگاہ کیا ہے کہ پاکستانی عدالت میں شیڈول دوم میں شامل جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید جنہیں قوام متحدہ کی قرار داد کی روشنی میں کچھ ماہ قبل نظر بند کیا کیا گیا تھا اور ان کی جانب سے اپنی اس نظر بندی کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ٹھوس ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باعث اس حکومتی حکم نامے کو عدالت کی طرف سے کسی بھی پیشی پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ وزارت داخلہ حکام کے مطابق جماعة الدعوة اور ان کے رہنما ءجو کہ پاکستانی شہری ہیں پر اس بار لگائی گئی سخت پابندیوں کو پاکستانی عدالتوںمیں ثابت کرنے کیلئے ٹھوس بنیاد پر ثبوت چاہیے ہیں مگر ہندوستانی حکام کی جانب سے چند گم نام ثبوتوں اور بہت سے میڈیا پراپیگنڈے کے علاوہ اب تک پاکستانی حکام کے حوالے کچھ بھی نہیں کیا گیا ااور اگر عدالت میں اس حوالے سے کچھ پیش نہ کیا گیا تو حافظ سعید کو ایک بار پھر عدم ثبوت کی بنیاد پر رہائی ملنے کا قوی امکان موجود ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے اس بار حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر سخت قسم کی پابندی عائد کر رکھی ہے اور وہ نہ تو کسی سے مل سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی طور اپنی رہائش گاہ سے باہر کسی کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں جبکہ یہی حال ان کی جماعت کے حوالے سے بھی دیکھا گیا ہے کہ نہ تو جماعة الدعوة کو کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے اور نہی ہی اس کی ذیلی فلاحی تنظیم جو فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے نام سے کام کر رہی تھی کو ملک کے کسی حصے میں سرگرمی کی اجازت ہے۔

مزید :

لاہور -