عمران خان نے جیتنے پر 10 ہزار ڈالر کی شرط لگائی، راشد لطیف اور میں نے وسیم اکرم اور سلیم ملک کی فکسنگ کی وجہ سے استعفیٰ دیا: باسط علی

عمران خان نے جیتنے پر 10 ہزار ڈالر کی شرط لگائی، راشد لطیف اور میں نے وسیم اکرم ...
عمران خان نے جیتنے پر 10 ہزار ڈالر کی شرط لگائی، راشد لطیف اور میں نے وسیم اکرم اور سلیم ملک کی فکسنگ کی وجہ سے استعفیٰ دیا: باسط علی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے بطور کپتان قومی ٹیم کے جیتنے پر 10 ہزار ڈالر کی شرط لگائی ، میں نے اور راشد لطیف نے میچ فکسنگ کی وجہ سے استعفیٰ دیا جو بعد میں شفافیت یقینی بنانے کی یقین دہانی پر واپس لے لیا۔ سرفراز نواز نے بال ٹمپرنگ ایجاد کی اور انہوں نے یہ ہنر عمران خان کو سکھایا، میں نے ملک کیلئے بال ٹمپرنگ کی تو ٹیم سے نکال دیا گیا۔

نجی ٹی وی سما سے گفتگو کرتے ہوئےباسط علی نے کہا کہ عمران خان نے شارجہ میں ایک میچ کے دوران قومی ٹیم کی فتح پر دس ہزار ڈالر کی شرط لگائی ، ہماری ٹیم میچ جیت گئی توہ وہ پیسے پوری ٹیم میں تقسیم ہوئے ، میں پوری قوم اور علماءکرام سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جو پیسہ ٹیم میں تقسیم ہوا کیا وہ جائز تھا؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی شرطوں کی وجہ سے آگے چل کر فکسنگ ہونے لگی۔

اس موقع پر جاوید میانداد نے کہا کہ اس طرح کے کاموں سے ٹیم کو حوصلہ ملتا تھا اور یہ مثبت کام تھا، اس دور میں آج کی طرح کی فکسنگ نہیں ہوتی تھی۔

باسط  علی کا کہنا تھا کہ سرفراز نواز نے بال ٹمپرنگ شروع کی اور عمران خان کو سکھائی ، اور یہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔ قومی ٹیم میں مصباح الحق اور یونس خان کے علاوہ تمام کپتانوں نے کھلاڑیوں سے بال ٹمپرنگ کرائی، ان دو لوگوں نے بطور کپتان کھلاڑیوں کو اس کام سے روکا، پوری دنیا بال ٹمپرنگ کرتی ہے ۔ میں نے بھی وطن کیلئے بال ٹمپرنگ کی جس پر ٹیم سے نکال دیا گیا۔

بڑے کھلاڑی کو بچانے کیلئے قربانی کا بکرا بنایا گیا، فکسنگ کی ہوتی تو قرض لے کر گھر نہ بنانا پڑتا: عطا الرحمان

انہوں نے ماضی میں بننے والے میچ فکسنگ سکینڈل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وسیم اکرم کو بچانے کیلئے عطا الرحمان کو پھنسایا گیا جبکہ سلیم ملک کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ 1994 میں زمبابوے کے ساتھ ٹیسٹ میچ کے دوران ہمیں لگا کہ میچ میں گڑ بڑ ہوئی ہے جس کے بعد میچ ختم ہونے پر راشد لطیف، عامر سہیل اور انضمام الحق نے میرے ساتھ مل کر پلاننگ کی کہ سلیم ملک اور وسیم اکرم کے ساتھ نہیں کھیلیں گے۔ اس کے بعد ہم نے جاوید برکی، ماجد خان ، عارف عباسی کو فون کرکے بتایا ۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ کرکٹ میں یہ چیزیں غلط ہو رہی ہیں، پوری دنیا میں راشد لطیف اور میں پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے اس ایشو پر استعفیٰ دیا۔

وسیم اکرم کو شک کا فائدہ دیا، انضمام کے خلاف ثبوت نہیں ملے، سلیم ملک اور عطا الرحمان کو ٹھوس شواہد کی بنا پر فکسنگ کا ذمہ دار قرار دیا:جسٹس (ر) ملک عبدالقیوم

اس موقع پر عامر سہیل نے کہا کہ اس میچ کے بعد ہماری بات ہوئی تھی لیکن اس میں انضمام نہیں بلکہ عاقب جاوید تھے ، ہم لوگوں نے بورڈ کو شکایت کی تھی جس پر عارف عباسی نے ہمیں کہا کہ بچو آپ کھیلو، ہم جاوید برکی کو بھیج رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ کو فیصلہ کرنے دو۔ اس کے بعد میں نے بطور نائب کپتان راشد لطیف اور باسط کو واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ عارف عباسی ان لوگوں کو واپس لے کر آئے اور انہیں ہمارے ساتھ آسٹریلیا کے ٹور پر بھیجا ۔

اس موقع پر باسط نے کہا کہ ہمیں ماجد خان واپس لے کر آئے ، ان کی عارف عباسی سے بات ہوئی تھی اور ہم نے اس شرط پر جانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ اگر فکسنگ کا ذرا بھی شبہ ہوا تو ہم سب چھوڑ کر واپس آجائیں گے۔

مزید :

کھیل -