بابری مسجد نہیں رام مندر کروڑوں ہندوؤں کے عقیدہ کا مسئلہ،2018ء میں پارلیمنٹ سے قانون منظور کر کے تعمیر شروع کر دیں گے:بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما نے دھمکی دے دی

بابری مسجد نہیں رام مندر کروڑوں ہندوؤں کے عقیدہ کا مسئلہ،2018ء میں پارلیمنٹ سے ...
بابری مسجد نہیں رام مندر کروڑوں ہندوؤں کے عقیدہ کا مسئلہ،2018ء میں پارلیمنٹ سے قانون منظور کر کے تعمیر شروع کر دیں گے:بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما نے دھمکی دے دی

  

پٹنہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر سبرامینم سوامی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام مندر کا تنازعہ عدالت سے باہر سلجھانے کا مشورہ دیا ہے ،اگر رواں سال میں بابری مسجد اور رام مندر کا تنازعہ حل نہ ہوا تو راجیہ سبھا میں ہماری اکثریت ہے ،ہم پارلیمنٹ میں قانون منظور کر کے2018میں رام مندر کی تعمیر شروع کر دیں گے ۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پالیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر سبرا مینم سوامی پٹنہ میں ’’ہندو نشاط ثانیہ ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالیشان رام مندر کی تعمیر جس کا تعلق ہندوؤں کے عقیدے سے ہے، اجودھیا میں ہی ہوگی، اجودھیا میں رام مندر کے تعمیر کا تعلق کروڑوں ہندوؤں کے عقیدے سے ہے،اگر باہمی رضا مندی سے رام مندر کی تعمیر ممکن نہیں ہوئی تو سال 2018 میں راجیہ سبھا میں بی جے پی کی اکثریت ہونے کے بعد ضروری قانون بناکر رام مندر کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 5ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے کانگریس سے پاک ہندوستان پر مہر لگ گئی ہے، کانگریس خود خودکشی کے موڈ میں ہے اور ہم اس کے آخری رسومات ادا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -